حدیث نمبر: 8493
٨٤٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي بكر بن أبي الجهم ابن (صخير) (١) العدوي عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن ابن عباس قال: صلى رسول اللَّه ومَل صلاة الخوف بذي قرد -أرض من أرض بني سليم- فصف الناس (خلفه) (٢) صفين، صف خلفه (٣) مواز العدو فصلى بالصف الذي يليه ركعة ثم نكص هؤلاء إلى مصاف هؤلاء وهؤلاء إلى مصاف هؤلاء فصلى بهم ركعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سلیم کی زمین ذی قرد میں نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے آپ کے پیچھے دو صفیں باندھیں ، ایک صف آپ کے پیچھے تھی اور دوسری دشمن کے سامنے، آپ نے اپنے پیچھے موجود صف کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ دوسروں کی جگہ چلے گئے اور دوسرے ان کی جگہ آگئے۔ پھر آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی۔
حدیث نمبر: 8494
٨٤٩٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الركين الفزاري عن القاسم بن حسان عن زيد بن ثابت أن رسول اللَّه ﷺ صلى صلاة الخوف، قال سفيان: فذكر مثل حديث ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 8495
٨٤٩٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أشعث (بن) (١) أبي الشعثاء عن الأسود ابن هلال عن ثعلبة بن زهدم (الحنظلي) (٢) قال: كنا مع سعيد بن (العاص) (٣) بطبرستان ومعنا حذيفة (فقال) (٤) سعيد: أيكم صلى مع رسول اللَّه ﷺ صلاة الخوف؟ فقال حذيفة: أنا، قال: فقام فصلى بالناس قال سفيان: فذكر حديث ابن عباس وزيد بن ثابت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم طبرستان میں حضرت سعید بن عاص کے ساتھ تھے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ حضرت سعید نے کہا کہ تم میں سے کس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے۔ پھر انہوں نے لوگوں کو نما زپڑھائی۔
حدیث نمبر: 8496
٨٤٩٦ - حدثنا محمد (١) بن (بشر) (٢) قال: ثنا سعيد عن قتادة عن (أبي) (٣) العالية (الرياحي) (٤) أن أبا موسى (الأشعري) (٥) كان بالدار من أصبهان وما بهم يومئذ ⦗٢٩٩⦘ كثير خوف، ولكن أحب أن يعلمهم دينهم وسنة نبيهم ﷺ فجعلهم صفين، طائفة معها السلاح مقبلة على عدوها وطائفة (وراءها) (٦)، فصلى (بالذين) (٧) (يلونه) (٨) ركعة، ثم نكصوا على أدبارهم حتى قاموا مقام الآخرين يتخللونهم حتى قاموا وراءه فصلى بهم ركعة أخرى، ثم سلم فقام الذين يلونه والآخرون صلوا ركعة ركعة، فسلم بهم بعضهم على بعض، فتمت للإمام ركعتان في جماعة وللناس ركعة ركعة (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری اصبہان کے ایک علاقے میں تھے، انہیں دشمن کا بہت زیادہ خوف نہ تھا، لیکن وہ لوگوں کو دین اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی تعلیم دینا چاہتے تھے۔ پس انہوں نے لوگوں کی دو جماعتیں بنائیں، ایک جماعت کو اسلحہ کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑا کردیا اور دوسری جماعت کو اپنے پیچھے رکھا، انہوں نے اپنے پیچھے موجود جماعت کو ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ الٹے پاؤں دوسری جماعت کی جگہ دشمن کے سامنے چلے گئے ، پھر وہ جماعت آکر حضرت ابو موسیٰ کے پیچھے کھڑی ہوگئی انہوں نے اس جماعت کو دوسری رکعت پڑھائی۔ پھر سلام پھیرا ، پھر وہ لوگ جو پہلی رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلے گئے تھے وہ آئے اور انہوں نے ایک رکعت ادا کی، اور دوسروں نے بھی ایک رکعت پڑھی۔ پھر انہوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا، اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہوگئیں اور دونوں جماعتوں کی امام کے پیچھے ایک ایک رکعت ہوگئی۔
حدیث نمبر: 8497
٨٤٩٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن خصيف عن أبي (عبيدة) (١) (عن عبد اللَّه) (٢) قال: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ صلاة الخوف فقاموا صفين: صف خلف النبي ﷺ وصف مستقبل العدو فصلى بهم رسول اللَّه ﷺ ركعة، وجاء الآخرون فقاموا مقامهم واستقبل هؤلاء العدو، فصلى بهم رسول اللَّه ﷺ ركعة ثم سلم، فقام هؤلاء فصلوا لأنفسهم ركعة، ثم سلموا، ثم (ذهبوا فقاموا مقام أولئك مستقبلي العدو ورجع أولئك إلى مقامهم فصلوا لأنفسهم ركعة ثم سلموا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، لوگ دو صفوں میں کھڑے ہوئے، ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بنائی گئی اور دوسری صف دشمن کی طرف منہ کرکے بنائی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوگئی۔ یہ پہلی رکعت پڑھانے والی جماعت دشمن کی طرف چلی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جماعت کو ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ ان لوگوں نے اپنی ایک رکعت خود پڑھی، پھر سلام پھیر دیا۔ پھر دشمن کی طر ف چلے گئے اور وہاں موجود جماعت آگئی انہوں نے اپنی ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔
حدیث نمبر: 8498
٨٤٩٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن يزيد الفقير عن جابر بن عبد اللَّه أن رسول اللَّه ﷺ صلى بهم صلاة الخوف فقام صف بين يديه وصف خلفه، فصلى بهم (١)، وجاء أولئك حتى قاموا مقام هؤلاء فصلى بهم رسول اللَّه ﷺ ركعة وسجدتين ثم سلم، فكانت للنبي ﷺ (ركعتان) (٢) ولهم ركعة (ركعة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبدا للہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز اس طرح پڑھائی کہ ایک صف آپ کے سامنے کھڑی ہوئی اور ایک صف آپ کے پیچھے۔ آپ نے اپنے پیچھے موجود جماعت کو ایک رکعت پڑھائی، پھر دشمن کے سامنے والی جماعت آئی اور ان لوگوں کی جگہ کھڑی ہوگئی، پھر آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوگئیں اور دونوں جماعتوں کی ایک ایک۔
حدیث نمبر: 8499
٨٤٩٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا عمر بن ذر سمعه من مجاهد قال: كان رسول اللَّه ﷺ بعسفان والمشركون (بضجنان) (١)، فلما صلى (رسول اللَّه) (٢) ﷺ الظهر رآه المشركون [يركع ويسجد] (٣) فأتمروا أن (يغيروا) (٤)، عليه فلما حضرت العصر صف الناس خلفه صفين فكبر وكبروا جميعا (وركع) (٥)، وركعوا جميعًا، وسجد وسجد الصف الذين يلونه وقام الصف الثاني (الذين) (٦) بسلاحهم مقبلين على العدو بوجوههم، فلما رفع النبي ﷺ رأسه سجد الصف الثاني، فلما رفعوا رؤوسهم ركع وركعوا (جميعًا) (٧) وسجد وسجد الصف الذين يلونه، وقام الصف الثاني ⦗٣٠١⦘ بسلاحهم مقبلين على العدو بوجوههم، فلما رفع النبي ﷺ رأسه سجد الصف الثاني، قال: (قال) (٨) مجاهد: فكان تكبيرهم وركوعهم وتسليمه عليهم سواء، وتناصفوا في السجود قال: قال مجاهد: فلم يصل رسول اللَّه ﷺ صلاة الخوف قبل يومه ولا بعده (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان میں تھے اور مشرکین ضجنان میں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکین نے آپ کو رکوع اور سجدہ کرتے دیکھاتو ارادہ کیا کہ ان پر حملہ کردیں۔ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو آپ نے لوگوں کی اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں، جب آپ نے تکبر کہی تو سب نے تکبیر کہی، جب رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا، جب سجدہ کیا تو آپ کے پیچھے موجود صف نے سجدہ کیا اور دوسری صف کے لوگ دشمن کی طرف منہ کرکے ہتھیار لئے کھڑے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو دوسری صف نے سجدہ کیا۔ جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور سب لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے موجود صف نے سجدہ کیا، اور دوسری صف کے لوگ دشمن کی طرف ہتھیار لئے کھڑے رہے، جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دوسری صف کے لوگوں نے سجدہ کا ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ لوگ تکبیر، رکوع اور سلام میں اکھٹے اور سجدوں میں آگے پیچھے تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوف کی نماز نہ اس سے پہلے کبھی پڑھی اور نہ اس کے بعد۔
حدیث نمبر: 8500
٨٥٠٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن مجاهد عن (أبي) (١) عياش الزرقي عن النبي ﷺ (بنحو) (٢) من حديث عمر بن ذر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 8501
٨٥٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الزبير عن جابر بن عبد اللَّه عن النبي ﷺ بنحو من حديث مجاهد، وزاد فيه كما يفعل حرسكم هؤلاء (بأمرائهم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ یہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 8502
٨٥٠٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سالم عن سعيد بن جبير أن النبي ﷺ صلى بهم ركعتين، فكانت للنبي ﷺ ركعتان ولهم ركعة ركعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو خوف کی نماز میں دو رکعتیں پڑھائیں، وہ اس طرح پر کہ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں اور لوگوں نے ایک ایک۔
حدیث نمبر: 8503
٨٥٠٣ - حدثنا وكيع قال حدثنا المسعودي (و) (١) مسعر عن يزيد الفقير عن جابر ابن عبد اللَّه قال: صلاة الخوف ركعة ركعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خوف کی نماز کی ایک ایک رکعت ہے۔
حدیث نمبر: 8504
٨٥٠٤ - حدثنا وكيع عن أبي عوانة عن (بكير) (١) (بن) (٢) الأخنس عن مجاهد عن ابن عباس قال: فرض اللَّه (تعالى) (٣) صلاة الحضر (أربعة) (٤) والسفر ركعتين والخوف ركعة على لسان (نبيه أو قال) (٥): نبيكم ﷺ (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضر کی نماز میں چار اور سفر کی نماز میں دو رکعتیں فرض فرمائی ہیں اور خوف کی ایک رکعت فرض کی ہے۔
حدیث نمبر: 8505
٨٥٠٥ - [حدثنا قاسم بن مالك عن أيوب بن عائذ عن (بكير) (١) بن الأخنس عن مجاهد (عن ابن عباس) (٢) قال: فرض اللَّه (تعالى) (٣) صلاة الحضر أربعًا (٤) وصلاة السفر ركعتين والخوف ركعة على لسان نبيه أو قال نبيكم ﷺ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضر کی نماز میں چار اور سفر کی نماز میں دو رکعتیں فرض فرمائی ہیں اور خوف کی ایک رکعت فرض کی ہے۔
حدیث نمبر: 8506
٨٥٠٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا] (١) سفيان عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر قال: صلى (٢) رسول اللَّه ﷺ صلاة الخوف في بعض أيامه، فقامت طائفة معه وطائفة بإزاء العدو فصلى بالذين معه ركعة ثم ذهبوا، وجاء الآخرون فصلى بهم ركعة ثم قضت الطائفتان ركعة ركعة. قال: وقال ابن عمر: إذا كان خوف أكثر من ذلك فصل راكبا أو قائما تومئ إيماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن خوف کی نماز پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے، آپ کے ساتھ موجود جماعت نے ایک رکعت پڑھی پھر وہ دشمن کی طرف چلی گئی، پھر دوسری جماعت آئی اور آپ نے اسے ایک رکعت پڑھائی، پھر دونوں جماعتوں نے بعد میں ایک ایک رکعت کی قضا کی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر دشمن کا خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو اشارے سے کھڑے ہو کر یا سوار ہو کر نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 8507
٨٥٠٧ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن (حجاج) (٢) عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: صليت صلاة الخوف مع النبي ﷺ ركعتين ركعتين إلا المغرب فإنه صلاها ثلاثًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خوف کی دو دو رکعتیں پڑھی ہیں، البتہ مغرب میں آپ نے تین رکعتیں پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 8508
٨٥٠٨ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس (عن الحسن) (١) سئل عن صلاة الخوف فقال: نبئت عن جابر بن عبد اللَّه أن رسول اللَّه صلى بأصحابه فصلى بطائفة منهم وطائفة مواجهة العدو، فصلى بهم ركعتين ثم قاموا مقام الآخرين، فجاء الآخرون فصلى بهم ركعتين ثم سلم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے نماز خوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو خوف کی نماز اس طرح پڑھائی کہ ایک جماعت کو آپ نے نماز پڑھائی اور ایک جماعت دشمن کی طرف رخ کئے کھڑی رہی، آپ نے اپنے پیچھے موجودجماعت کو دور کعتیں پڑھائیں، پھر یہ جماعت دشمن کی طرف چلی گئی اس جماعت نے آکر آپ کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔
حدیث نمبر: 8509
٨٥٠٩ - حدثنا عفان قال: ثنا أبان بن (يزيد) (١) قال حدثنا يحيى بن (أبي) (٢) (كثير) (٣) عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن جابر بن عبد اللَّه قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ حتى إذا كنا بذات الرقاع نودي بالصلاة فصلى بطائفة ركعتين ثم تأخروا وصلى بالطائفة الأخرى ركعتين قال فكانت لرسول اللَّه ﷺ أربع ركعات وللقوم ركعتان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبدا للہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے ، جب ہم مقام ذات الرقاع میں پہنچے تو نما ز کے لئے اذان ہوگئی۔ آپ نے ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ جماعت پیچھے ہٹ گئی اور آپ نے دوسری جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار اور دونوں جماعتوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔
حدیث نمبر: 8510
٨٥١٠ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن سليم (بن) (١) (عبد) (٢) (السلولي) (٣) عن حذيفة قال: صلاة الخوف (ركعتان) (٤) وأربع سجدات فإن أعجلك العدو فقد حل لك القتال والكلام بين الركعتين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خوف کی نماز کی دو رکعتیں اور چار سجدے ہیں۔ اگر دشمن جنگ کے لئے جلدی کررہا ہو تو تمہارے لئے دو رکعتوں کے درمیان گفتگو اور قتال کرنا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 8511
٨٥١١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن سليم بن عبد السلولي عن حذيفة قال: إن هاج بك (هيج، فقد) (١) حل لك القتال، والكلام يعني في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تم پر حملہ ہورہا ہو تو نماز میں کلام اور قتال کرنا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 8512
٨٥١٢ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن أبا موسى صلى بأصحابه بأصبهان، فصلت طائفة منهم معه وطائفة مواجهة العدو، فصلى بهم ركعة ثم نكصوا وأقبل الآخرون يتخللونهم، فصلى بهم ركعة ثم سلم، وقامت الطائفتان (فصلتا) (١) ركعة (ركعة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ نے اصبہان میں اپنے ساتھیوں کو خوف کی نماز اس طرح پڑھائی کہ ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی رہی اور دوسری دشمن کی طرف رخ کرکے کھڑی ہوئی، آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی اور وہ جماعت دشمن کی طرف چلی گئی۔ پھر دوسری جماعت آگئی اور آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر دونوں جماعتوں نے اپنے طور پر ایک ایک رکعت پڑھی۔
حدیث نمبر: 8513
٨٥١٣ - حدثنا ابن عيينة عن أبي الزبير سمع جابرا يقول -سئل عن صلاة الخوف- فقال: كما يصنع أمراؤكم هؤلاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر کہتے ہیں کہ حضرت جابر سے خوف کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جس طرح آج تمہارے یہ امراء کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8514
٨٥١٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد قال: سمعته يحدث عن (أبي) (١) عياش الزرقي أن النبي ﷺ كان مصاف العدو بعسفان، وعلى المشركين خالد بن الوليد، فصلى بهم النبي ﷺ الظهر ثم قال المشركون: إن لهم صلاة بعد هذه هي أحب إليهم من أموالهم وأبنائهم (٢)، فصلى بهم رسول اللَّه ﷺ فصفهم خلفه صفين، قال: فركع بهم رسول اللَّه ﷺ جميعًا، فلما رفعوا رؤوسهم (٣) (سجد الصف الذي يليه وقام الآخرون، فلما رفعوا رؤوسهم من السجود) (٤) سجد الصف المؤخر (لركوعهم) (٥) مع رسول اللَّه ﷺ، قال: ثم تأخر الصف المقدم وتقدم الصف ⦗٣٠٦⦘ المؤخر (لركوعهم) (٦) مع رسول اللَّه ﷺ، ثم تأخر الصف (المقدم) (٧) وتقدم الصف (المؤخر) (٨) فقام كل واحد منهما في مقام صاحبه ثم ركع وقام الآخرون، فلما فرغوا من سجودهم سجد الآخرون، ثم سلم النبي ﷺ عليهم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاش زرقی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان میں دشمن کے سامنے برسرپیکار تھے، مشرکین کی قیادت اس وقت حضرت خالد بن ولید کے پاس تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکین نے کہا کہ اس کے بعد ان کی ایک اور نماز ہے جو انہیں ان کے اموال واولاد سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ کو ان کے اس ارادے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے لوگوں کو اپنے پیچھے دو صفوں میں تقسیم فرمایا۔ چناچہ جب آپ نے رکوع کیا تو آپ کے ساتھ سب لوگوں نے رکوع کیا۔ جب لوگوں نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا اور دوسری صف کے لوگ کھڑے رہے، جب پہلی صف نے سجدہ سے سر اٹھایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کرلینے کی وجہ سے اب سجدہ کیا۔ پھر اگلی صف پیچھے چلی گئی اور پچھلی صف آگے آگئی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کریں۔ پھر پچھلی صف مؤخر ہوگئی اور اگلی صف مقدم، پھر دونوں میں سے ہر ایک دوسری کی جگہ پر کھڑ ی ہوئی۔ جب وہ سجدے سے فارغ ہوگئے تو دوسری جماعت نے سجدہ کی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو سلام کہا۔
حدیث نمبر: 8515
٨٥١٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد عن صالح بن خوات عن سهل بن أبي (حثمة) (١) في صلاة الخوف قال: يقوم الإمام إلى القبلة ومعه طائفة وطائفة مواجهة العدو، (فيصلي) (٢) بمن معه ركعة فإذا قام (وقف قائمًا و) (٣) (٤) (صلى) (٥) الذين وراءه لأنفسهم ركعة وسجدوا وسلموا، ثم ذهبوا حتى يقوموا مقام إخوانهم (الذين) (٦) (بإزاء العدو، ورجع الآخرون على أعقابهم) (٧) فوقفوا خلف الإمام فصلى بهم ركعة (أخرى) (٨)، ثم سلم وقام الذين وراءهم فركعوا لأنفسهم وسجدوا وسلموا (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن ابی حثمہ نماز خوف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ امام قبلے کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوگا اور اس کے ساتھ ایک جماعت نما زپڑھے گی اور دوسری جماعت دشمن کی طرف رخ کرکے کھڑی ہوگی۔ وہ اس جماعت کو ایک رکعت پڑھائے گا۔ جب وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تو کھڑا رہے یہاں تک کہ اس کے پیچھے موجود جماعت اپنی ایک رکعت پڑھیں گے اور سجدہ کرکے سلام پھیر دیں گے۔ پھر یہ لوگ دشمن کی طرف چلے جائیں گے اور دشمن کے ساتھ پہلے سے موجود جماعت امام کے پیچھے آکر کھڑی ہوجائے، امام انہیں ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیر دے۔ پھر ان کے پے چھج لوگ خود رکوع کریں، سجدہ کریں اور سلام پھیر دیں۔
حدیث نمبر: 8516
٨٥١٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن سالم عن (سعيد) (١) بن جبير قال: ركعة كيف تكون مقصورة وهما ركعتان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ خوف کی نماز میں ایک رکعت پر قصر کیسے ہوسکتا ہے ؟ یہ دو رکعتیں ہیں !
حدیث نمبر: 8517
٨٥١٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن مغيرة عن الشعبي عن مسروق أنه قال: صلاة الخوف يقوم الإمام ويصفون (خلفه) (١) صفين، ثم يركع الإمام فيركع (بالذين) (٢) يلونه ثم يسجد بالذي يلونه، فإذا قام تأخر هؤلاء الذين يلونه وجاء الآخرون فقاموا مقامهم فركع بهم وسجد بهم والآخرون قيام، ثم يقومون فيقضون ركعة ركعة، (فيكون) (٣) للإمام ركعتان في جماعة، ويكون للقوم ركعة ركعة في جماعة، ويقضون الركعة الثانية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ خوف کی نماز میں امام کھڑا ہوگا اور لوگ اس کے پیچھے دو صفیں بنائیں گے۔ پھر امام رکوع کرے گا اور اس کے پیچھے موجود صف کے لوگ بھی رکوع کریں گے۔ پھر امام سجدہ کرے گا اور اس کے ساتھ موجود صف کے لوگ بھی سجدہ کریں گے۔ پھر جب اما م دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگا تو اس صف کے لوگ پیچھے ہوجائیں گے اور دوسری جماعت کے لوگ آکر ان کی جگہ کھڑے ہوجائیں گے۔ امام ان کے ساتھ رکوع کرے گا اور سجدہ کرے گا۔ دوسرے لوگ کھڑے رہیں گے ، پھر یہ کھڑے ہوکر ایک ایک رکعت کی قضا کریں گے، اس طرح جماعت میں امام کی دو رکعتیں اور لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوگی، پھر وہ دوسری رکعت کی قضا کریں گے۔
حدیث نمبر: 8518
٨٥١٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس مثل ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔