کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہئے؟
حدیث نمبر: 8481
٨٤٨١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن عطاء عن سعيد بن جبير وأبي البختري -قال أظن فيه وأصحابهم- قالوا: إذا التقى الزحفان وضرب الناس بعضهم بعضا وحضرت الصلاة، فقل: سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر، فتلك صلاتك ثم لا تعد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اور حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ جب تلواریں چل رہی ہوں اور لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے تو تم سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہہ لو، یہی تمہاری نماز ہے، پھر نماز کا اعادہ نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8481
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8481، ترقيم محمد عوامة 8345)
حدیث نمبر: 8482
٨٤٨٢ - حدثنا معتمر عن ليث عن مجاهد والحكم قالا: إذا كان عند الطراد وعند سل السيوف أجزأ الرجل أن تكون صلاته تكبيرًا، فإن لم يكن إلا تكبيرة واحدة أجزأته أينما كان وجهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب گھڑ سوار ایک دوسرے میں گھسے ہوں اور تلواریں چل رہی ہوں تو آدمی کے لئے نما ز کے وقت میں تکبیر کہنا ہی کافی ہے۔ اگر وہ کسی بھی طرف منہ کرکے ایک تکبیر بھی کہہ لے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8482
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8482، ترقيم محمد عوامة 8346)
حدیث نمبر: 8483
٨٤٨٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في قوله تعالى: ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [البقرة: ٢٣٩]، قال: إذا حضرت الصلاة في المطاردة فأومئ حيث كان وجهك واجعل السجود أخفض من الركوع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمان باری تعالیٰ : اگر تمہیں خوف ہو تو سوار ہو کر یا پیدل۔ کے بارے میں فرماتے ہیں، جب جنگ کے دوران نماز کا وقت ہوجائے تو جس طرف چاہو رخ کرکے اشارے سے نماز پڑھ لو۔ اور اپنے سجود کو رکوع سے زیادہ جھکا ہوا رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8483
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8483، ترقيم محمد عوامة 8347)
حدیث نمبر: 8484
٨٤٨٤ - حدثنا عباد بن عوام عن (أبي مسلمة) (١) عن أبي (نضرة) (٢) عن جابر بن (غراب) (٣) وكان سيد (النمر) (٤) قال كنا مع (هرم) (٥) بن حيان في جيش نقاتل العدو فقال (هرم) (٦): يسجد كل رجل منكم سجدة تحت (جُنَّته) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن غراب فرماتے ہیں کہ ہم ایک لشکر میں ھرم بن حیان کے ساتھ جنگ کررہے تھے کہ ھرم نے کہا کہ ہر شخص اپنی ڈھال کے نیچے سجدہ کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8484
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8484، ترقيم محمد عوامة 8348)
حدیث نمبر: 8485
٨٤٨٥ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن سئل عن الرجل إذا حضرت المسايفة كيف يصلي قال: يصلي ركعة وسجدتين تلقاء وجهه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر دوران قتال نماز کا وقت ہوجائے تو کیسے نما زپڑھی جائے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس طرف رخ ہو اسی طرف ایک رکعت پڑھے اور دوسجدے کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8485
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8485، ترقيم محمد عوامة 8349)
حدیث نمبر: 8486
٨٤٨٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة (قال) (١) سألت الحكم وحمادًا عن صلاة (المسايفة) (٢) فقالا: ركعة حيث كان وجهه (يومئ) (٣) (إيماءً) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دورانِ قتال نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اشارے سے جس طرف بھی منہ ہو اسی طرف ایک رکعت پڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8486
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8486، ترقيم محمد عوامة 8350)
حدیث نمبر: 8487
٨٤٨٧ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن مغيرة عن إبراهيم قال: الصلاة عند المسايفة (ركعة) (١) يومئ إيماءً حيث كان وجهه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تلواریں چل رہی ہوں تو جس طرف منہ ہو اسی طرف رخ کرکے ایک رکعت پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8487
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8487، ترقيم محمد عوامة 8351)
حدیث نمبر: 8488
٨٤٨٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ابن (أبي) (١) نجيح عن مجاهد قال: يجزئه تكبيرة عند (السلة) (٢) إذا لم يستطع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب قتال کے دوران زیادہ نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو ایک تکبیر ہی کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8488
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8488، ترقيم محمد عوامة 8352)
حدیث نمبر: 8489
٨٤٨٩ - حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين أنه كان يقول في صلاة (المسايفة) (١) يومئ إيماءً حيث كان وجهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرمایا کرتے تھے کہ جب تلواریں چل رہی ہوں تو جس طرف بھی رخ ہو اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8489
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8489، ترقيم محمد عوامة 8353)
حدیث نمبر: 8490
٨٤٩٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن جويبر عن الضحاك قال: تكبيرتين عند (المسايفة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ قتال کے وقت دو تکبیریں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8490
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8490، ترقيم محمد عوامة 8354)
حدیث نمبر: 8491
٨٤٩١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن يونس عن الحسن قال: الصلاة عند المسايفة ركعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ قتال کے وقت کی نماز ایک رکعت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8491
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8491، ترقيم محمد عوامة 8355)
حدیث نمبر: 8492
٨٤٩٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن رجاء بن حيوة (الكندي) (١) قال: كان ثابت بن السمط أو السمط بن ثابت (٢) في مسير في خوف، فحضرت الصلاة ⦗٢٩٧⦘ فصلوا ركبانا فنزل الأشتر فقال: ما له؟ قالوا: نزل فصلى، قال: ما له خالف، خولف (به) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجاء بن حیوہ کہتے ہیں کہ ثابت بن سمط یا سمط بن ثابت ایک جنگ میں تھے کہ نما زکا وقت ہوگیا، لوگوں نے سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھ لی۔ حضرت اشتر اترے اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ آپ کو بتایا گیا کہ انہوں نے اتر کر نماز پڑھی ہے، اشتر نے کہا کہ انہوں نے مخالفت کیوں کی جس پر ان کی مخالفت کی گئی ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8492
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8492، ترقيم محمد عوامة 8356)