حدیث نمبر: 8467
٨٤٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم قال: ⦗٢٩٢⦘ كان الأسود وأصحابه ينزلون عند (وقت كل) (١) صلاة في السفر فيصلون المغرب لوقتها ثم يتعشون ثم يمكثون ساعة ثم يصلون العشاء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور ان کے ساتھی سفر میں ہر نماز کے لئے الگ پڑاؤ ڈالتے تھے اور مغرب کو اس کے وقت پر پڑھتے ، پھر شام کا کھانا کھاتے، پھر کچھ دیر ٹھہرتے پھر عشاء کی نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 8468
٨٤٦٨ - حدثنا حفص بن غياث عن أبي بن عبد اللَّه قال: جاءنا كتاب عمر بن عبد العزيز (ألا) (١) تجمعوا بين الصلاتين إلا من عذر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن عبدا للہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن عبد العزیز کا خط آیا انہوں نے اس میں لکھا کہ دو نمازوں کو بغیر عذر کے جمع نہ کرو۔
حدیث نمبر: 8469
٨٤٦٩ - حدثنا عبد الأعلى (بن عبد الأعلى) (١) عن يونس قال: سئل الحسن عن جمع الصلاتين في السفر فكان لا يعجبه ذلك إلا من عذر.
مولانا محمد اویس سرور
یونس کہتے ہیں کہ حسن سے دو نمازوں کو جمع کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ سوائے عذر کے ایسا کرنا درست نہیں۔
حدیث نمبر: 8470
٨٤٧٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن حماد عن إبراهيم أن الأسود كان ينزل لوقت الصلاة في السفر ولو على حجر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود ہر نما ز کے لئے الگ پڑاؤ ڈالتے تھے خواہ پتھر پر نماز پڑھنی پڑے۔
حدیث نمبر: 8471
٨٤٧١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن إبراهيم عن عمارة عن الأسود قال: ما كان إلا راهبًا إذا جاء وقت الصلاة نزل ولو على حجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسود تو ایک راہب ہی تھے، جب بھی نماز کا وقت آتا وہ پڑاؤ ڈالتے خواہ پتھر پر نماز پڑھنی پڑے۔
حدیث نمبر: 8472
٨٤٧٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا (أبو) (١) هلال عن حنظلة السدوسي عن أبي موسى قال: الجمع بين الصلاتين من غير عذر من الكبائر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 8473
٨٤٧٣ - [حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن هشام بن حسان عن رجل عن أبي العالية عن عمر قال: الجمع بين الصلاتين من غير عذر من الكبائر] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 8474
٨٤٧٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا (عبيد) (١) اللَّه (بن عبد الرحمن بن) (٢) موهب قال: أتيت سالمًا فقلت: يا أبا عمر تجمع بين الصلاتين في السفر فقال: لا، إلا أن يعجلني سير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن موہب کہتے ہیں کہ میں حضرت سالم کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابو عمر ! کیا آپ سفر میں دو نمازوں کو جمع کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اگر مجھے چلنے کی جلدی ہو تو پھر کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 8475
٨٤٧٥ - حدثنا أزهر عن ابن عون قال: ذكر لمحمد ابن سيرين أن جابر بن زيد يجمع بين الصلاتين فقال: (لا) (١) أرى أن يجمع بين الصلاتين إلا من (أمر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین کے سامنے ذکر کیا گیا کہ حضرت جابر بن زید دو نمازوں کو جمع کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ کسی وجہ سے ہی دو نمازوں کو جمع کرتے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 8476
٨٤٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن ومحمد قالا: ما نعلم من السنة الجمع (بين الصلاتين في حضر ولا سفر إلا بين الظهر والعصر بعرفة و) (١) بين المغرب والعشاء يجمع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال میں سفر وحضر میں دو نمازوں کو جمع کرنا دین کا حصہ نہیں۔ البتہ عرفات میں ظہر وعصر اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نماز کو جمع کیا جائے گا۔