کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو آدمی کسی گاؤں ، جنگل یا صحرا کی طرف جائے تو کیا وہ نماز میں قصر کرے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 8411
٨٤١١ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن ومحمد قال: قلت لهما: الرجل يبدو عشرة أيام أيقصر (الصلاة) (١)؟ (قال) (٢): فقالا: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث کہتے ہیں کہ میں نے حسن اور محمد سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی دس دن کے لئے کسی گاؤں میں جائے تو کیا وہاں قصر کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8411
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8411، ترقيم محمد عوامة 8277)
حدیث نمبر: 8412
٨٤١٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو بن هرم قال: سئل (١) جابر ⦗٢٧٩⦘ ابن (زيد) (٢) عن القوم يبدون من مصرهم إلى البرية: أيصلون ثنتين ما داموا بداة حتى يرجعوا إلى مصرهم؟ قال: لا يتم الصلاة في القرب (والبعد) (٣) (ما داموا بداة) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کچھ لوگ اپنے شہر سے گاؤں کی طرف جائیں تو کیا وہ واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھیں گے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، جب تک وہ دیہات کے رہنے والے ہیں وہ قریب اور دور جا کر بھی پوری نماز پڑھیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8412
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8412، ترقيم محمد عوامة 8278)