حدیث نمبر: 8374
٨٣٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا شريك (عن) (١) زبيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عمر قال: صلاة السفر ركعتان تمام غير قصر على لسان رسول اللَّه (ﷺ) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق سفر کی دو رکعتیں پوری پوری ہیں ان میں کمی نہیں۔
حدیث نمبر: 8375
٨٣٧٥ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (١) سعيد (عن) (٢) (شفي) (٣) قال: قلت لابن عباس إنا قوم كنا إذا سافرنا كان معنا من يكفينا الخدمة من غلماننا فكيف نصلي؟ فقال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا سافر صلى ركعتين حتى يرجع، قال: ثم عدت فسألته، فقال مثل ذلك، ثم عدت فقال لي بعض القوم: (أما) (٤) (تعقل) (٥) أما تسمع ما يقول لك (٦)؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن شفی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہم لوگ جب سفر کرتے ہیں تو ہمارے ساتھ اتنے خادم وغیرہ ہوتے ہیں جو ہماری ضروریات کا انتظام کردیتے ہیں، سو ہم کیسے نماز پڑھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ میں نے پھر یہی سوال کیا انہوں نے وہی جواب دیا۔ میں نے پھر سوال کیا تو ایک آدمی نے مجھے کہا کہ تمہیں ان کی بات سمجھ نہیں آرہی ؟ تم نہیں سنتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 8376
٨٣٧٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي خالد عن أبي حنظلة قال: سألت ابن عمر عن الصلاة في السفر فقال: ركعتان سنة النبي ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سفر میں دو رکعتیں پڑھنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 8377
٨٣٧٧ - حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن ابن أبي عمار عن عبد اللَّه بن (باباه) (١) عن يعلى بن أمية قال: سألت عمر بن الخطاب قلت: ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [النساء: ١٠١]، وقد أمن الناس فقال: عجبت مما عجبت منه فسألت رسول اللَّه ﷺ عن ذلك فقال: "صدقة تصدق اللَّه بها عليكم فاقبلوا صدقته" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن امیہ فرماتے ہں ا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جب تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر تمہیں تکلیف پہنچائیں گے تو یہ بات حرج سے خالی ہے کہ تم نما ز میں قصر کرلو۔ میں نے کہا کہ اب تو امن کا زمانہ ہے، لہٰذا قصر کیا جائے گا یا نہیں ؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ جس بات پر تمہیں اشکال ہوا ہے مجھے بھی اسی بات پر اشکال ہوا تھا، ا س پر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے، اس صدقے کو قبول کرو۔
حدیث نمبر: 8378
٨٣٧٨ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن ابن أبي ليلى قال: خرج سلمان في ثلاثة عشر رجلًا من أصحاب رسول اللَّه ﷺ غزاة وسلمان أسنهم فلما حضرت الصلاة (قالوا) (١) له: تقدم يا أبا عبد اللَّه، فقال: (ما) (٢) أنا بالذي أتقدم وأنتم العرب منكم النبي ﷺ فليتقدم بعضكم، (فتقدم) (٣) بعض القوم فصلى بهم أربع ركعات، فلما قضينا الصلاة قال سلمان: (ما لنا و) (٤) ما للمربعة، إنما كان يكفينا (ركعتان) (٥) نصف المربعة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان بارہ صحابہ کرام کے ساتھ ایک جنگ کے لئے نکلے، وہ عمر میں ان سب سے زیادہ تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو سب نے کہا کہ اے ابو عبداللہ ! آپ امامت کرائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں امامت کا استحقاق نہیں رکھتا، تم عرب ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہی میں سے ہیں۔ لہٰذا تم میں سے کوئی آگے بڑھ کر امامت کرائے۔ اس پر ایک صاحب آگے بڑھے اور انہوں نے چار رکعات پڑھائیں۔ جب ہم نے نما زمکمل کرلی تو حضرت سلمان نے فرمایا کہ ہم چار رکعات کیوں پڑھیں ؟ ہمارے لئے چار کا نصف دو رکعتیں ہی کافی ہیں۔
حدیث نمبر: 8379
٨٣٧٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن عبيد الطائي عن علي بن ربيعة (الوالبي) (١) عن الربيع بن نضلة قال (٢): خرجنا في سفر ونحن اثنا عشر أو ثلاثة ⦗٢٧٠⦘ عشر راكبا كلهم قد صحب النبي ﷺ (غيري) (٣) قال: فحضرت الصلاة فتدافع القوم فتقدم شاب منهم فصلى بهم أربع ركعات، فلما صلى قال سلمان: ما لنا وللمربوعة يكفينا نصف المربوعة، نحن إلى التخفيف أفقر، فقالوا: تقدم أنت يا أبا عبد اللَّه فصل بنا، فقال: أنتم بنو إسماعيل الأئمة، ونحن الوزراء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن نضلہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں بارہ یا تیرہ آدمی روانہ ہوئے، میرے علاوہ باقی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحبت یافتہ افراد تھے۔ جب نماز کا وقت آیا تو وہ سب ایک دوسرے کو امامت کے لئے آگے کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نوجوان آگے بڑھے اور انہوں نے چار رکعات پڑھائیں۔ جب نما زپڑھا چکے تو حضرت سلمان نے فرمایا ہم چار رکعات کیوں پڑھیں ؟ ہمارے لئے چار کا نصف دو رکعتیں ہی کافی ہیں۔ ہم تخفیف کے زیادہ محتاج ہیں۔ اس پر سب نے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ! آپ ہی نماز پڑھایا کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ تم بنو اسماعیل ائمہ ہو اور ہم وزراء ہیں۔
حدیث نمبر: 8380
٨٣٨٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم قال: جاء (رجل) (١) إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني رجل تاجر أختلف إلى البحرين، فأمره أن يصلي ركعتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں ایک تاجر آدمی ہوں اور میرا بحرین آنا جانا لگا رہتا ہے۔ میں کیسے نماز پڑھوں ؟ آپ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 8381
٨٣٨١ - حدثنا شريك عن (أبي) (١) إسحاق قال: سألت سلمة بن صهيب ونحن بسجستان عن الصلاة فقال: ركعتين ركعتين حتى ترجع إلى أهلك؛ هكذا كان عبد اللَّه بن مسعود يقول (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ ہم سجستان میں تھے ، میں نے حضرت سلمہ بن صہیب سے نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس وقت تک دو دو رکعتیں پڑھو جب تک اپنے گھر والوں کے پاس واپس نہ چلے جاؤ۔ حضرت عبد اللہ بھی یونہی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8382
٨٣٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن ابن سيرين عن ابن عباس قال: صلينا مع رسول اللَّه ﷺ بين مكة والمدينة ونحن آمنون لا نخاف شيئا ركعتين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ امن کی حالت میں بغیر کسی خوف کے دو رکعتیں ادا کی ہیں۔
حدیث نمبر: 8383
٨٣٨٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان وابن أبي ليلى عن عون بن أبي جحيفة ⦗٢٧١⦘ (السوائي) (١) عن أبيه قال: صليت مع النبي ﷺ بمنى الظهر ركعتين ثم لم نزل (نصلي) (٢) ركعتين حتى رجع إلى المدينة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ سوائی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منی میں ظہر کی دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ پھر آپ مدینہ واپس آنے تک دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
حدیث نمبر: 8384
٨٣٨٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة (قالت) (١): أول ما فرضت الصلاة ركعتين ثم زيد فيها فجعل للمقيم أربعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نماز کی دو رکعتیں ہی فرض ہوئی تھیں، پھر ان میں اضافہ کیا گیا اور مقیم کے لیے چار رکعات کردی گئیں۔
حدیث نمبر: 8385
٨٣٨٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن سماك الحنفي قال: سمعت ابن عمر يقول: الركعتان في السفر تمام غير قصر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سفر میں دو رکعتیں پوری پوری ہیں ان میں کمی نہیں۔
حدیث نمبر: 8386
٨٣٨٦ - حدثنا عبدة عن (وقاء) (١) بن إياس عن علي بن ربيعة أن عليًا خرج في السفر فكان يصلي ركعتين (ركعتين) (٢) حتى يرجع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہایک سفر میں نکلے وہ واپس آنے تک دو دو رکعتیں ادا کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 8387
٨٣٨٧ - حدثنا عباد بن عوام عن داود بن أبي هند عن أبي حرب بن أبي الأسود أن عليا خرج من البصرة فصلى الظهر أربعًا (فقال) (١): أما إنا (إذا) (٢) جاوزنا هذا (الخص) (٣) صلينا ركعتين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرب بن ابی اسود فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بصرہ سے نکلے اور انہوں نے چار رکعتیں ادا فرمائیں اور پھر ارشاد فرمایا کہ جب ہم اس جھونپڑے کو عبور کرلیں گے تو دو رکعتیں پڑھیں گے۔
حدیث نمبر: 8388
٨٣٨٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة أنه سمع رجلا يسأل سعيد بن المسيب: أتم الصلاة وأصوم في السفر؟ قال: لا، قال: فإني أقوى على ذلك؟ قال: كان رسول اللَّه ﷺ أقوى منك، كان يقصر الصلاة في السفر ويفطر وقال رسول اللَّه ﷺ: "خياركم من قصر الصلاة في السفر (وأفطر) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ کیا میں سفر میں پوری نماز پڑھ سکتا ہوں اور روزہ رکھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ اس نے کہا کہ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے زیادہ قوی تھے۔ آپ دورانِ سفر نماز میں قصر فرماتے اور روزہ نہیں رکھا کرتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو دوران سفر نماز میں قصر کرے اور روزہ نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 8389
٨٣٨٩ - حدثنا أبو الأحوص عن (١) أبي إسحاق عن أبي (السفر) (٢) قال: (رأيت) (٣) عبد اللَّه بن مغفل بالمدائن فقلت: إني إمام قومي وإني أريد الرجوع إلى أهلي فكم أصليًا قال) (٤): [أربعًا، ثم لقيته بعد بالري فقلت: إني أريد (الرجعة) (٥) إلى أهلي فكم تأمرني أن أصلي قال] (٦): ركعتين (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں مدائن میں حضرت عبد اللہ بن معقل سے ملا اور میں نے ان سے عرض کیا کہ میں اپنی قوم کا امام ہوں اور میں اپنے گھر واپس جانا چاہتا ہوں، میں کتنی رکعات پڑھاؤں ؟ انہوں نے فرمایا چار۔ پھر میں بعد میں انہیں ریّ میں ملا اور میں نے کہا کہ میں اپنی قوم کا امام ہوں اور اپنے گھر واپس جانا چاہتا ہوں ، آپ مجھے کتنی رکعتیں پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا دو ۔
حدیث نمبر: 8390
٨٣٩٠ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: ثنا إبراهيم بن (نافع) (١) عن ابن طاوس قال: كان أبي يقصر من (٢) حين يخرج من بيته حتى يرجع إلى أهله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاوس فرماتے ہیں کہ میرے والد گھر سے نکلنے سے لے کر واپس آنے تک قصر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8391
٨٣٩١ - حدثنا هشيم (قال) (١) أخبرنا هارون بن زاذي (٢) عن مجاهد قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إني وصاحب لي كنا في سفر فكنت أتم وكان صاحبي يقصر فقال له ابن عباس: بل أنت الذي كنت تقصر وصاحبك الذي كان يتم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں اور میرا ایک دوست ہم دونوں سفر میں تھے، میں پوری نماز پڑھتا تھا اور وہ قصر کرتا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم قصر کرتے تھے اور تمہارا دوست پوری نماز پڑھتا تھا۔
حدیث نمبر: 8392
٨٣٩٢ - حدثنا ابن علية عن علي بن زيد عن أبي نضرة قال: مر عمران بن حصين في مجلسنا فقام إليه فتى من القوم فسأله عن صلاة رسول اللَّه ﷺ في الحج والغزو والعمرة، فجاء فوقف علينا فقال: (إن) (١) هذا سألني عن أمر فأردت أن تسمعوه أو كما قال: (قال) (٢) غزوت مع رسول اللَّه ﷺ فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، وحججت معه فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، وشهدت معه الفتح فأقام بمكة ثماني (عشرة) (٣) ليلة لا يصلي إلا ركعتين (٤) يقول (لأهل) (٥) البلد: "صلوا أربعًا فإنا سفر"، واعتمرت معه ثلاث عمر لا يصلي إلا ركعتين، وحججت مع أبي بكر وغزوت فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، (وحججت مع عمر حجات فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة) (٦)، ⦗٢٧٤⦘ وحججت مع عثمان سبع سنين من إمارته لا يصلي إلا ركعتين ثم (صلى) (٧) بمنى أربعًا (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین ہماری مجلس کے پاس سے گذرے تو ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر ان سے کہا کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج، جہاد اور عمرے میں کیسی نماز ادا فرماتے تھے ؟ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اس نے مجھ سے ایسی بات کے بارے میں سوال کیا ہے جو میں تمہیں بھی سنانا چاہتا ہوں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا ہے۔ آپ مدینہ واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نے آپ کے ساتھ حج کیا ہے آپ مدینہ آنے تک دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ والے سال مکہ میں قیام پذیر رہا ، آپ نے اٹھارہ راتیں وہاں قیام فرمایا۔ اس دوران آپ دو رکعات نماز پڑھاتے اور پھر سلام پیرمکر مکہ والوں سے کہتے تھے کہ اپنی چار رکعات پوری کرلو ہم مسافر لوگ ہیں۔ میں نے حضر ت ابوبکر کے ساتھ حج اور جہاد کیا وہ مدینہ آنے تک دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عمر کے ساتھ کئی حج کئے وہ مدینہ آنے تک دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عثمان کی امارت میں سات سال حج کیا وہ بھی دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ پھر انہوں نے منی میں چار رکعتیں ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 8393
٨٣٩٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن سماك عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال صلى (بنا) (١) رسول اللَّه ﷺ بمكة الظهر (ركعتين) (٢) صلاة المسافر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں ظہر کی دو رکعتیں مسافر کی نماز کے مطابق اد ا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 8394
٨٣٩٤ - حدثنا أبو معاوية (عن الأعمش) (١) عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن (يزيد) (٢) قال: صلى عثمان بمنى أربعًا فقال عبد اللَّه: صليت مع النبي ﷺ بمنى ركعتين، ومع أبي بكر ركعتين، ومع عمر ركعتين، ثم تفرقت بكم الطرق ولوددت أن لي من أربع ركعات ركعتين (متقبلتين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نے منی میں چار رکعتیں ادا فرمائیں تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ میں نے حضرت ابوبکر کے ساتھ منی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ میں نے حضرت عمر کے ساتھ منی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ اب تمہارے راستے مختلف ہوگئے ہں ۔ میری خواہش یہ ہے کہ چار میں سے میری دو رکعتیں قبول ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 8395
٨٣٩٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش وأبو الأحوص عن أبي إسحاق عن حارثة بن وهب الخزاعي قال: صليت مع النبي (ﷺ) (١) بمنى آمن ما كان الناس وأكثر (ما كان ⦗٢٧٥⦘ الناس) (٢) ركعتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منی میں لوگوں کے انتہائی امن میں ہونے کے باوجود دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حدیث نمبر: 8396
٨٣٩٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سعيد بن السائب الطائفي عن داود بن أبي عاصم الثقفي قال: سألت ابن عمر عن الصلاة (بمنى) (١) فقال: (هل) (٢) سمعت بمحمد أو آمنت به فإنه كان يصلي بمنى ركعتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن ابی عاصم ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منی کی نما ز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں سنا اور ان پر ایمان لائے ہو ؟ وہ منی میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8397
٨٣٩٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا (هشام) (١) (بن) (٢) عروة أن النبي ﷺ وأبا بكر وعمر وعثمان صدرا من إمارته صلوا بمنى ركعتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان اپنی امارت کے ابتدائی دنوں میں منی میں دو رکعت نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8398
٨٣٩٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا حنظلة قال: سألت القاسم وسالما وطاوسا عن الصلاة بمنى فقالوا: أقصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلۃ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم ، حضرت سالم اور حضرت طاوس سے منی کی نماز کے بارے میں سوال کیا توا نہوں نے فرمایا کہ وہاں قصر کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 8399
٨٣٩٩ - حدثنا هشيم (عن يونس) (١) عن الحسن قال: (يصلي) (٢) المسافر ركعتين حتى يرجع إلا أن يأتي مصرًا من الأمصار فيصلي بصلاتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مسافر گھر واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھے گا البتہ اگر وہ کسی شہر میں جائے تو اس شہر والوں کی نماز جیسی نماز پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 8400
٨٤٠٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة أن الصلاة أول ما فرضت ركعتين فزيدت في صلاة الحضر وأقرت (في) (١) صلاة السفر فقلت لعروة: ⦗٢٧٦⦘ ما بال عائشة كانت تتم الصلاة في السفر وهي تقول هذا؟ قال: تأولت ما تأول عثمان. فلم أسأله ما تأول عثمان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں۔ پھر حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا اور سفر کی نماز کو جوں کا توں باقی رکھا گیا۔ حضر ت زہری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ سے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بات بھی فرماتی ہیں اور سفر میں پوری نماز بھی پڑھتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ وہی تاویل کرتی ہیں جو حضرت عثمان نے کی ہے، میں نے ان سے نہیں پوچھا کہ حضرت عثمان نے اس کی کیا تاویل کی ہے۔