حدیث نمبر: 8367
٨٣٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل وأبو معاوية عن الأعمش عن عمارة بن (عمير) (١) عن عبد الرحمن بن يزيد قال: قال عبد اللَّه: لا تقصر الصلاة إلا في حج أو جهاد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ صرف حج اور جہاد کے سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 8368
٨٣٦٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر (وسفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: قال لي ابن مسعود) (١) لا يغرنكم سوادكم من صلاتكم فإنما هو من كوفيكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہارا اپنے مویشیوں کو لے کر شہر کے کناروں میں جانا تمہیں تمہاری نماز کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ یہ جگہیں تمہارے شہر کوفہ کا حصہ ہیں۔
حدیث نمبر: 8369
٨٣٦٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: حدثني رجل (ممن) (١) قرأ كتاب عثمان أو قرئ عليه فقال: أما جمعد فإنه بلغني أن رجالا منكم يخرجون إلى سوادهم، إما في (جشر) (٢) وإما في (جباية) (٣) وإما في تجارة (فيقصرون) (٤) الصلاة (و) (٥) لا يتمون الصلاة، فلا تفعلوا فإنما يقصر الصلاة من كان شاخصًا أو (بحضرة) (٦) عدو (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان نے اپنے ایک خط میں لکھا : اما بعد ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اپنے جانوروں کو چرانے کے لئے یا انہیں پانی پلانے کے لئے یا تجارت کے لئے شہر کے کناروں میں جاتے ہیں اور قصر نماز پڑھتے ہیں۔ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ قصر نماز صرف وہی پڑھے گا جس نے دور کا سفر کرنا ہو یا دشمن سے مقابلہ کرنا ہو۔
حدیث نمبر: 8370
٨٣٧٠ - حدثنا هشيم عن العوام قال: كان إبراهيم التيمي لا يرى (التقصير) (١) إلا في حج أو جهاد أو عمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوام فرماتے ہیں کہ حضر ت ابراہیم صرف حج، جہاد یا عمرہ کے سفر میں قصر نماز کے قائل تھے۔
حدیث نمبر: 8371
٨٣٧١ - حدثنا أبو الأحوص (عن عاصم) (١) عن ابن سيرين قال: كانوا يقولون السفر الذي تقصر فيه الصلاة الذي يحمل فيه الزاد والمزاد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اسلاف کہا کرتے تھے کہ صرف اس سفر میں قصر کیا جائے گا جس میں زاد راہ اور زاد راہ کے اٹھانے والے ساتھ ہوں۔
حدیث نمبر: 8372
٨٣٧٢ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن قيس بن مسلم عن (طارق) (١) ابن شهاب عن ابن مسعود قال: لا يغرنكم سوادكم هذا من صلاتكم فإنما هو من (مصركم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہارا (کسی ضرورت کے لئے) شہر کے کناروں میں جانا تمہیں تمہاری نماز کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ یہ جگہیں تمہارے شہر کوفہ کا حصہ ہیں۔
حدیث نمبر: 8373
٨٣٧٣ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن ابن أبي فروة عن عمرو بن شعيب عن أبيه أن معاذًا وعقبة بن عامر وابن مسعود قالوا: لا تغرنكم مواشيكم يطأ أحدكم بماشيته أحداب الجبال أو بطون الأودية وتزعمون بانكم سفر، لا ولا كرامة، إنما (التقصير) (١) في السفر البات من الأفق إلى الأفق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ، حضرت عقبہ بن عامر اور حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ تمہیں اپنے مویشیوں کو لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں یا وادیوں میں جانا نماز کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تم اسے سفر سمجھنے لگو۔ اس میں کوئی کرامت نہیں۔ قصر نماز کی اجازت تو ایسے طویل سفر مں ہ ہے جو ایک افق سے دوسرے افق تک کیا جائے۔