کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات عشاء کی نماز کو «العتمة»کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
حدیث نمبر: 8290
٨٢٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن (عبد الرحمن) (١) بن حرملة سمع أبا سلمة بن عبد الرحمن يقول: قال (٢) رسول اللَّه ﷺ: "لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم، فإنما هي العشاء (وإنما) (٣) يدعونها العتمة (لإعتام) (٤) الإبل" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اعراب کو نمازوں کے ناموں میں تم پر غالب نہیں ہونا چاہئے، یہ نماز عشاء کی نماز ہے اور تم اسے ” العتمۃ “ کہتے ہو، یہ لفظ تو ” اعتام الابل “ (اونٹوں کاشام کے وقت میں داخل ہونا) سے ماخوذ ہے۔
حدیث نمبر: 8291
٨٢٩١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن أبي لبيد عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم العشاء، فإنما هي في كتاب اللَّه العشاء، وإنما يعتم (بحلاب) (١) الإبل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اعراب کو نمازوں کے ناموں میں تم پر غالب نہیں ہونا چاہئے، اس نماز کا نام اللہ کی کتاب میں عشاء ہے، اسے عتمہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت ( شفق کے غائب ہونے کے بعد) دیہاتی اپنے اونٹوں کا دودھ دھوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8292
٨٢٩٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي رواد عن رجل لم يسمه عن (عبد الرحمن) (١) بن عوف قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم العشاء، فإنما هي في كتاب اللَّه العشاء، وإنما يعتم بحلاب الإبل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اعراب کو نمازوں کے ناموں میں تم پر غالب نہیں ہونا چاہئے، اس نماز کا نام اللہ کی کتاب میں عشاء ہے، اسے عتمہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت ( شفق کے غائب ہونے کے بعد) دیہاتی اپنے اونٹوں کا دودھ دھوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8293
٨٢٩٣ - [حدثنا وكيع قال: ثنا يزيد بن طهمان أبو المعتمر عن ابن سيرين أنه كره أن يقول العتمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین عشاء کی نماز کو عتمہ کہنا مکروہ قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 8294
٨٢٩٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا عبد العريز بن أبي رواد عن نافع قال: كان ابن عمر إذا سمعهم يقولون العتمة غضب غضبا شديدا (أو) (١) نهى نهيًا شديدًا] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب لوگوں کو عشاء کی نماز کو عتمہ کہتے ہوئے سنتے تھے تو بہت غصے ہوتے اور اس سے منع فرماتے ۔
حدیث نمبر: 8295
٨٢٩٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن أبي فزارة (العبسي) (١) عن ميمون بن مهران قال: قلت لعبد اللَّه بن عمر من أول من سماها العتمة؟ قال: الشيطان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ عشاء کی نماز کو سب سے پہلے عتمہ کس نے کہا ؟ انہوں نے فرمایا شیطان نے۔
حدیث نمبر: 8296
٨٢٩٦ - حدثنا شريك عن أبي فزارة عن ميمون عن (ابن عمر) (١) بنحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 8297
٨٢٩٧ - حدثنا (زيد) (١) بن حباب عن (محمد) (٢) بن عبد اللَّه بن أبي سارة قال: سمعت سالمًا وهو يقول (٣): لا تقل العتمة إنما هي العشاء الآخرة مرتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی سارہ فرماتے ہیں کہ حضرت سالم نے دو مرتبہ فرمایا کہ اس نماز کو عتمہ نہ کہو یہ عشاء آخرہ ہے۔