حدیث نمبر: 8257
٨٢٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن (المخول) (١) عن (أبي (سعيد) (٢) عن) (٣) أبي رافع قال: مر بي النبي ﷺ وأنا ساجد قد عقصت شعري فحله أو قال: فنهاني عنه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ میں بالوں کی چوٹیاں بنا کر نماز پڑھ رہا تھا، میں حالت سجدہ میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گذرے، آپ نے میرے بالوں کو کھول دیا۔ یا مجھے اس سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 8258
٨٢٥٨ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي هاشم عن (مجاهد) (١) عن عمر بن الخطاب وحذيفة في الرجل يصلي وهو عاقص شعره فذكر (٢) حديثا غير أن معناه أنهما كرهاه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کو مکروہ قراردیا کہ آدمی بالوں کی چوٹیاں باندھ کر نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 8259
٨٢٥٩ - حدثنا ابن مهدي عن زهير بن محمد عن زيد بن أسلم عن أبان بن عثمان قال: رأى عثمان رجلًا يصلي وقد عقد شعره فقال: يا ابن أخي مثل الذي يصلي وقد عقص شعره مثل الذي يصلي وهو مكتوف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابان بن عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نے ایک آدمی کو دیکھا جو بالوں کی چوٹیاں باندھ کر نماز پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے اس سے فرمایا کہ اس شخص کی مثال جو بالوں کو گوندھ کر نماز پڑھے اس شخص کی سی ہے جو ہاتھوں کو باندھ کر نماز ادا کرے۔
حدیث نمبر: 8260
٨٢٦٠ - حدثنا ابن نمير عن شريك عن أبي إسحاق قال: كان ابن عباس إذا صلى وقع شعره على الأرض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز پڑھتے تو ان کے بال زمین پر لگتے تھے۔
حدیث نمبر: 8261
٨٢٦١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد اللَّه أنه دخل المسجد فإذا فيه رجل يصلي عاقصا شعره فلما انصرف قال عبد اللَّه: إذا صليت فلا تعقص شعرك، فإن شعرك يسجد معك، ولك بكل شعرة (أجر) (١) فقال الرجل: إني أخاف أن (يترب) (٢) فقال: تتريبه خير لك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک آدمی بالوں کو باندھ کر نماز پڑھ رہا ہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھو تو اپنے بالوں کی چوٹیاں نہ باندھو، کیونکہ تمہارے بال بھی تمہارے ساتھ سجدہ کرتے ہیں، اور تمہیں ہر بال کے سجدے کا ثواب ملتا ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے بال تتر بتر نہ ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ان کا بکھرنا ان کے باندھنے سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 8262
٨٢٦٢ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي فروة قال: كان عبد الرحمن بن أبي ليلى يضفر شعره فإذا صلى نشره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بالوں کی مینڈیاں بنایا کرتے تھے لیکن جب نماز پڑھتے تو انہیں کھول دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 8263
٨٢٦٣ - حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يكره عقد الرجل شعره في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نماز میں بالوں کی چوٹیاں بنانے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 8264
٨٢٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: لا يصلي الرجل وهو عاقص شعره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بالوں کی چوٹیاں بنا کر نماز نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 8265
٨٢٦٥ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن طاوس عن ابن عباس عن النبي ﷺ أنه قال: "أمرت أن أسجد على سبعة أعظم، ولا أكلف شعرًا ولا ثوبًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور میں بالوں کو اور کپڑوں کو نہ لپیٹوں۔
حدیث نمبر: 8266
٨٢٦٦ - حدثنا شبابة عن شعبة عن عمرو عن طاوس عن ابن عباس قال: أمر نبيكم ﷺ أن يسجد على سبعة (١) وأمر أن لا يكف شعرًا ولا ثوبًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کیا جائے اور انہوں نے حکم دیا ہے کہ بالوں اور کپڑوں کونہ باندھا جائے۔
حدیث نمبر: 8267
٨٢٦٧ - حدثنا أبو معاوية وابن إدريس عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد اللَّه قال: كنا (لا) (١) نتوضأ من موطئ، ولا نكف شعرًا ولا ثوبًا في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم پاؤں رکھنے کی جگہ سے سے وضو نہیں کیا کرتے تھے اور نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہیں لپیٹتے تھے۔