کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اسے دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں اس کی نماز ہو جائے گی
حدیث نمبر: 8247
٨٢٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن ليث (بن) (١) سعد (عن) (٢) بكر بن سوادة عن عطاء بن يسار أن رجلين أصابتهما جنابة فتيمما فصليا ثم أدركا الماء في وقت (فأعاد) (٣) أحدهما ولم يعد الآخر (فذكر) (٤) ذلك للنبي ﷺ فقال: "أما الذي أعاد فله أجرها مرتين وأما الآخر فقد (جزأت) (٥) عنه صلاته" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کو جنابت لاحق ہوگئی ان دونوں نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی۔ پھر دونوں کو وقت میں پانی مل گیا تو ایک نے دوبارہ نماز پڑھی اور دوسرے نے اسی نماز پر اکتفاء کرلیا۔ ان کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جس نے دوبارہ نماز پڑھی اسے دہرا اجر ملے گا اور دوسرے کی نماز بھی ہوگئی۔
حدیث نمبر: 8248
٨٢٤٨ - حدثنا شريك عن (أبي) (١) إسحاق عن الحارث عن علي قال: يتلوم الجنب ما (بينه) (٢) وبين آخر الوقت فإن وجد الماء توضأ، وإن لم يجد (الماء) (٣) ⦗٢٣٩⦘ تيمم وصلى، فإن وجد الماء بعد اغتسل ولم يعد الصلاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیب نماز کے آخر وقت کا انتظار کرے گا، اگر اسے پانی مل جائے تو وضو کرلے اور اگر پانی نہ ملے تو تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔ اگر اسے نماز پڑھنے کے بعد پانی مل جائے تو غسل کرے لیکن نماز کا اعادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 8249
٨٢٤٩ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن عبد الحميد بن جبير بن شيبة عن (أبي) (٢) سلمة قال: لا يعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ وہ نماز کا اعادہ نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 8250
٨٢٥٠ - حدثنا وكيع عن العمري عن نافع عن ابن عمر أنه تيمم وصلى ثم دخل المدينة في وقت [فلم يعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے تیمم کیا پھر نماز پڑھی اور پھر نماز کے وقت میں شہر میں داخل ہوگیا تو وہ نماز کا اعادہ نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 8251
٨٢٥١ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا تيمم الرجل فصلى ثم أتى الماء وهو في وقت] (١) بعد ما يفرغ من صلاته فقد فرغ من صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی نے تیمم کرکے نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسے پانی مل بھی گیا تو وہ اپنی نماز سے فارغ ہوچکا ہے۔
حدیث نمبر: 8252
٨٢٥٢ - حدثنا أبو داود عن جرير بن حازم عن قيس بن (سعد) (١) عن مجاهد قال: لا يعيد، قد مضت صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وہ نماز کو نہیں دہرائے گا اس کی نماز ہوگئی۔
حدیث نمبر: 8253
٨٢٥٣ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والشعبي (قالا) (١): إذا صلى لغير القبلة أو تيمم أو صلى وفي ثوبه دم أو جنابة ثم أصاب الماء في وقت (أو غير وقت) (٢) فليس عليه إعادة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف رخ کرکے نماز پڑھ لی، یا تیمم کرکے نماز پڑھی، یا اس حال میں نماز پڑھی کہ اس کے کپڑوں پر خون لگا تھا یا جنابت میں نماز پڑھی، پھر اس وقت میں یا وقت کے بعد پانی ملا تو اس پر نماز کا اعادہ واجب نہیں۔
حدیث نمبر: 8254
٨٢٥٤ - حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال: إذا وجد الماء اغتسل فإن شاء أعاد وإن (شاء) (١) لم يعد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو پانی ملے تو وہ غسل کرے اور اگر چاہے تو نماز کا اعادہ کرے اور چاہے تو نہ کرے۔
حدیث نمبر: 8255
٨٢٥٥ - حدثنا معتمر (بن سليمان) (١) عن الحكم بن أبان عن عكرمة قال: كنت أنا في رفقة (وعكرمة في رفقة) (٢) فلم يكن مع عكرمة وأصحابه ماء، فتيمموا وصلوا فأتوا على الماء فقال لهم عكرمة: ترون الشمس على رأس الجبل؟ فقالوا: لا قال: لو رأيتموها لم نعد، (إذن) (٣) كفانا التيمم فقال: فانطلقت حتى دخلت (الجند) (٤) فلقيت عمرو بن مسلم صاحب طاوس فحدثته بما قال عكرمة، فانطلق إلى طاوس فذكر ذلك له ثم رجع إلي فقال: ذكرت لطاوس ما قال عكرمة، فقال: صدق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن ابان فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ ایک جماعت میں تھے اور میں ایک دوسری جماعت میں تھا، حضرت عکرمہ کی جماعت کے پاس پانی نہیں تھا، وہ تیمم کرکے نماز پڑھتے تھے۔ پھر جب وہ پانی کے پاس پہنچے تو حضر ت عکرمہ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم پہاڑوں کے اوپر سورج کو دیکھ رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ اگر تم سورج کو دیکھتے پھر بھی ہم نماز کا اعادہ نہ کرتے کیونکہ ہمارے لئے تیمم کافی ہے۔ پھر جب میں مقام جند پہنچا تو میری حضرت طاوس کے شاگرد عمرو بن مسلم سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے حضرت عکرمہ کی اس بات کا ذکر کیا تو وہ حضرت طاوس کے پاس گئے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا۔ پھر میرے پاس واپس آئے اور مجھے بتایا کہ میں نے حضرت طاوس سے عکرمہ کی بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ سچ کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8256
٨٢٥٦ - حدثنا معتمر عن كثير بن (نباتة) (١) قال: سمعت ابن سيرين يقول: خرجت في سفر حج أو (غيره) (٢) فلما كان من آخر الليل (أصابتني) (٣) جنابة وليس معنا ماء فتيممت (وصليت) (٤) فلما ارتفع الضحى قال رجل: يا أبا بكر أعدت صلاتك قال: ولو لم أجد الماء عشرين سنة أكنت أعيد صلاتي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حج یا عمرہ کے ایک سفر پر تھا، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو مجھے جنابت لاحق ہوگئی۔ ہمارے پاس پانی نہ تھا، میں نے تیمم کرکے نماز پڑھی، جب چاشت کا وقت ہوگیا تو ایک آدمی نے کہا کہ اے ابوبکر ! آپ نے اپنی نماز دہرا لی ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے بیس سال تک بھی پانی نہ ملے تو کیا میں نماز کا اعادہ کروں گا ؟