حدیث نمبر: 8038
٨٠٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن ابن أبي ليلى عن [عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن] (١) أبيه عن أبي ذر قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن أشياء حتى سألته عن (مس) (٢) الحصى فقال: "مرة واحدة وإلا فدع" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے آپ سے پوچھا کہ نماز میں کنکریوں کو ہٹا سکتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ انہیں درست کرلو، اگر نہ کرنا ہو تو ایک مرتبہ بھی نہ کرو۔
حدیث نمبر: 8039
٨٠٣٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ليلى عن شيخ يقال له هلال عن حذيفة قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن كل شيء حتى (١) مسح الحصى فقال: "واحدة أو دع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہر چیز کے بارے میں سوال کیا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے کنکریوں کو درست کرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ انہیں درست کرلو، اگر نہ کرنا ہو تو ایک مرتبہ بھی نہ کرو۔
حدیث نمبر: 8040
٨٠٤٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن معيقيب قال: ذكر (للنبي) (١) ﷺ مسح الحصى فقال: "إن كنت لابد فاعلًا فواحدة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معیقیب فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ کنکریوں کو چھیڑنے کے بارے میں فرمایا کہ اگر تم نے انہیں درست کرنا بھی ہو تو ایک مرتبہ کرلو۔
حدیث نمبر: 8041
٨٠٤١ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ذئب عن شرحبيل أبي (سعد) (١) عن جابر ابن عبد اللَّه قال: سألت النبي ﷺ عن مسح الحصى في الصلاة فقال: "واحد؛ ولأن تمسك عنها خير لك من مائة ناقة كلها (سود) (٢) الحدقة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز میں کنکریوں کو ہٹانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ انہیں چھیڑنے کی اجازت ہے اور اگر ایسا نہ کرو تو یہ تمہارے لئے سو اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ جن میں سے ہر ایک کالے رنگ کی ہو۔
حدیث نمبر: 8042
٨٠٤٢ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) محمد بن طلحة بن ركانة عن عبد اللَّه ابن (عياش بن) (٢) أبي ربيعة قال: مر بي أبو ذر وأنا أصلي قال: إن الأرض لا تمسح إلا واحدة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ حضرت ابو ذر میرے پاس سے گذرے ، انہوں نے فرمایا کہ زمین پر صرف ایک مرتبہ ہاتھ پھیر اجائے گا۔
حدیث نمبر: 8043
٨٠٤٣ - حدثنا أبو الأحوص محن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود [قال: كان عبد اللَّه يرخص في مسحة واحدة للحصى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ کنکریوں کو ہٹانے کے لئے صرف ایک مرتبہ زمین پر ہاتھ پھیرنے کی اجازت دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 8044
٨٠٤٤ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الرحمن بن الأسود] (١) عن عمه قال: رأيت ابن مسعود يسوي الحصى بيده وهو يصلي (خبطه) (٢) بيده ثم سجد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن اسود کے چچا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود کو دیکھا کہ وہ نماز میں اپنے ہاتھ سے کنکریوں کو برابر کررہے تھے، پھر آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے دبایا اور پھر ان پر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 8045
٨٠٤٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الشيباني عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه قال: رأيت عبد اللَّه بن (مسعود) (١) (خبط) (٢) الحصى بيده ثم سجد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کنکریوں کو اپنے ہاتھ سے دبایا اور پھر ان پر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 8046
٨٠٤٦ - حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد عن أبي هريرة أنه كان يرخص (في تسوية) (١) الحصى في الصلاة مرة واحدة قال: وإن لم يفعل فهو أحب إلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نماز میں کنکریوں کو ایک مرتبہ درست کرنے کی اجازت دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر ایک مرتبہ بھی انہیں نہ چھیڑے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 8047
٨٠٤٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الحميد بن جعفر عن نافع قال: كان ابن عمر (ربما) (١) يسوي الحصى برجله وهو قائم في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں کھڑے ہو کر پاؤں سے کنکریوں کو برابر کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8048
٨٠٤٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا مالك بن أنس عن أبي جعفر القارئ (١) مولى ابن (عياش) (٢) قال: رأيت ابن عمر يمسح الحصى مسحًا خفيفًا في الصلاة (٣)،
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مولی ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز میں کنکریوں کو ہلکا سا ہاتھ پھیر کر برابر کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8049
٨٠٤٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن (جابر) (١) عن أبي جعفر قال: رأيت ابن عمر يسوي الحصى برجله في الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز میں کھڑے ہو کر پاؤں سے کنکریوں کو برابر کیا ۔
حدیث نمبر: 8050
٨٠٥٠ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: قال حذيفة هكذا واحدة أو دع وبيده (مسح بيده) (١) الأرض قال أبو أسامة: يعني تسوية الحصى أو شيء في موضع سجوده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کنکریوں کو ایک مرتبہ ہاتھ زمین پر پھیر کر سجدے کے لئے برابر کرسکتے ہو اور اگر ایک مرتبہ بھی نہ کرو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 8051
٨٠٥١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح قال: كان يرخص في مسحة واحدة للحصى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح ایک مرتبہ کنکریوں کو ہاتھ پھیر کر برابر کرنے کی رخصت دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8052
٨٠٥٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن أبي مالك الأشجعي عن إبراهيم أنه لم ير بأسا بتسوية الحصى مرة واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کنکریوں کو ایک مرتبہ برابر کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 8053
٨٠٥٣ - حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن الأغر بن يحيى قال: رأيت الحسن يوضع الحصى موضع سجوده وهو في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اغر بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو دیکھا کہ انہوں نے نماز میں سجدے کی جگہ سے کنکریوں کو ہٹایا۔