کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نماز میں کنکریوں کو ہاتھ لگانے اور انہیں برابر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8033
٨٠٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري (عن (أبي) (١) ⦗١٩٠⦘ الأحوص) (٢) عن أبي ذر قيل لسفيان عن النبي ﷺ قال: نعم (قال) (٣): "إذا قام أحدكم التي الصلاة فلا يمسح الحصى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہو تو کنکریوں کونہ چھیڑے۔
حدیث نمبر: 8034
٨٠٣٤ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر أنه كان يكره (مسح) (١) الحصى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نماز میں کنکریوں کو ہاتھ لگانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 8035
٨٠٣٥ - حدثنا ابن نمير عن عثمان بن (الحكم) (١) عن شرحبيل أبي (سعد) (٢) عن أبي الدرداء قال: ما أحب أن لي حمر النعم وأني مسحت مكان جبيني من الحصى إلا أن يغلبني فأمسح مسحة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ مجھ کو اس بات کے بدلے سرخ اونٹ پسند نہیں کہ میں نماز میں اپنی پیشانی کی جگہ سے کنکریوں کو ہٹاؤں، البتہ اگر زیادہ تکلیف ہو تو ایک مرتبہ ہٹا دوں گا۔
حدیث نمبر: 8036
٨٠٣٦ - حدثنا الفضل بن دكين (عن زهير) (١) عن جابر عن سالم بن عبد اللَّه عن عبد الرحمن ابن زيد بن الخطاب أنه صلى إلى جنب عمر فمسح الحصى (وأمسك) (٢) بيده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن زید بن خطاب نے حضرت عمر کے ساتھ نماز پڑھی، انہوں نے کنکریوں کو ہاتھ لگایاتو حضرت عمر نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
حدیث نمبر: 8037
٨٠٣٧ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن] (١) عن أبيه عن أبي إسحاق عن (ابن) (٢) عطية عن أبي صالح قال: إذا سجدت فلا تمسح (الحصى) (٣) فإن كل حصاة تحب أن يسجد عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ جب تم سجدہ کرو تو کنکریوں کو ہاتھ نہ لگاؤ کیونکہ ہر کنکری یہ چاہتی ہے کہ اس پر سجدہ کیا جائے۔