حدیث نمبر: 8020
٨٠٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا بن أبي خالد عن أبي صالح مولى أم هانئ (عن أم (هانئ)) (١) (٢) قالت: دخل علي رسول اللَّه ﷺ بيتي يوم فتح مكة فوضعت له ماء فاغتسل ثم صلى ثماني ركعات صلاة الضحى لم يصلهن قبل يومه ولا بعده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن میرے گھر تشریف لائے، میں نے آپ کے لئے پانی رکھا، آپ نے غسل فرمایا پھر چاشت کی آٹھ رکعات ادا فرمائیں۔ میں نے اس دن سے پہلے اور بعد میں کبھی آپ کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 8021
٨٠٢١ - حدثنا وكيع قال: ثنا (شعبة) (١) عن عمرو بن مرة عن ابن أبي ليلى قال: لم يخبرنا أحد من الناس أن النبي ﷺ صلى الضحى إلا أم هانئ فإنها قالت: دخل رسول اللَّه ﷺ بيتي يوم فتح مكة فاغتسل ثم صلى ثماني ركعات يخفف فيهن الركوع والسجود لم أره صلاهن قبل يومئذ ولا بعده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ام ہانی کے علاوہ ہمیں کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاشت کی نماز کے بارے میں نہیں بتایا، وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن میرے گھر تشریف لائے، آپ نے غسل فرمایا پھر چاشت کی آٹھ رکعات ادا فرمائیں، ان رکعات میں آپ نے رکوع و سجود کو مختصر فرمایا۔ میں نے اس دن سے پہلے اور بعد میں کبھی آپ کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 8022
٨٠٢٢ - حدثنا ابن عيينة عن يزيد عن (ابن) (١) أبي ليلى (٢) قال: أدركت الناس ⦗١٨٧⦘ وهم متوافرون أو متوافون فلم يخبرني أحد أنه صلى الضحى إلا أم هانئ (فإنها) (٣) أخبرتني أنه صلاها ثمان ركعات (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسے لوگوں کی زیارت کی ہے جو دین کے معاملات کا پورا پورا علم رکھتے تھے۔ حضرت ام ہانی کے علاوہ کسی نے مجھے چاشت کی نماز کے بارے میں نہیں بتایا، انہوں نے بتایا کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعات ادا کی ہیں۔
حدیث نمبر: 8023
٨٠٢٣ - حدثنا أبو خالد عن ابن إسحاق عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي مرة مولى أم هانئ ابنة أبي طالب عن أم هانئ أن النبي ﷺ صلى الضحى ثماني ركعات (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ہانی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعات ادا فرمائی ہیں۔
حدیث نمبر: 8024
٨٠٢٤ - حدثنا ابن عيينة عن ابن المنكدر عن (ابن) (١) (رميثة) (٢) عن جدته قالت: دخلت على عائشة وهي تصلي من الضحى فصلت ثماني ركعات (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن رمیثہ کی دادی فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، انہوں نے آٹھ رکعات ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 8025
٨٠٢٥ - حدثنا عبد الأعلى عن ابن إسحاق عن سعيد بن أبي سعيد [عن سعيد] (١) بن مرجانة قال: جلست وراء سعد بن مالك وهو يسبح الضحى فركع ثمان ركعات أعدهن لا يقعد فيهن حتى قعد في أخرهن فتشهد ثم سلم وانطلق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مرجانہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن مالک کے پیچھے بیٹھا تھا وہ چاشت کی نماز پڑ ھ رہے تھے۔ میں نے گنا انہوں نے آٹھ رکعات ادا کیں۔ وہ صرف آخری رکعت میں بیٹھے اور اس میں انہوں نے تشہد پڑھ کر سلام پھیرا اور نماز کو مکمل کیا۔
حدیث نمبر: 8026
٨٠٢٦ - حدثنا ابن (علية) (١) عن خالد عن تميمة بنت دهيم أنها رأت عائشة ⦗١٨٨⦘ صلت من الضحى ست ركعات (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیمہ بنت دہیم کہتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو چاشت کی چھ رکعات پڑھتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 8027
٨٠٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن القعقاع بن حكيم عن جدته (رميثة) (١) قانت: دخلت (على عائشة بيتًا) (٢) كانت تخلو فيه فرأيتها [صلت فيه من الضحى ثماني ركعات (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رمیثہ کہتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک کمرے میں حاضر ہوئی جس میں وہ اکیلی تھی۔ میں نے دیکھا کہ انہوں نے چاشت کی آٹھ رکعات ادا فرمائیں۔
حدیث نمبر: 8028
٨٠٢٨ - حدثنا غندر عن شعبة (عن الحكم) (١) عن رجل عن أم سلمة أنها] (٢) كانت تصلي الضحى ثماني ركعات وهي قاعدة فقيل لها: إن عائشة تصلي أربعا فقالت: إن عائشة امرأة شابة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ بیٹھ کر چاشت کی آٹھ رکعات ادا کیا کرتی تھیں۔ ان سے کسی نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تو چار رکعات پڑھتی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو ایک جوان عورت ہے۔
حدیث نمبر: 8029
٨٠٢٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن إبراهيم عن علقمة أنه كان إذا حضر المصر صلى الضحى أربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ جب شہر آتے تو چاشت کی چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8030
٨٠٣٠ - حدثنا ابن نمير (١) عن محمد بن إسحاق عن حكيم بن حكيم عن علي ابن عبد الرحمن عن حذيفة قال: خوجت مع رسول اللَّه ﷺ إلى (حرة) (٢) بني ⦗١٨٩⦘ معاوية فصلى الضحى ثمان ركعات طول فيهن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بنو معاویہ کے علاقے میں آیا۔ آپ نے وہاں چاشت کی آٹھ رکعات ادا فرمائیں اور انہیں لمبا کرکے پڑھا۔
حدیث نمبر: 8031
٨٠٣١ - حدثنا ابن مسهر عن ليث عن مجاهد عن أبي هريرة قال: أوصاني خليلي ﷺ بركعتي الضحى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔