حدیث نمبر: 7997
٧٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا (النهاس) (١) بن قهم أبو الخطاب ⦗١٨١⦘ عن شداد أبي عمار الشامي عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من حافظ على شفعة الضحى غفوت له ذنوبه وأن كانت مثل زبد البحر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے چاشت کی نماز پڑھی اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
حدیث نمبر: 7998
٧٩٩٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام الدستوائي عن القاسم بن عوف الشيباني عن زيد بن أرقم قال: خرج رسول اللَّه ﷺ على أهل قباء وهم يصلون صلاة الضحى فقال: "صلاة الأوابين إذا رمضت الفصال من الضحى" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہلِ قبا کے پاس تشریف لائے تو وہ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ چاشت کے وقت جب اونٹنی کا بچہ ریت پر بیٹھ جاتا ہے تو اس وقت اوابین (اللہ کی طرف رجوع کرنے والے) نماز پڑھتے ہں ف۔
حدیث نمبر: 7999
٧٩٩٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (كهمس) (١) بن الحسن عن عبد اللَّه بن شقيق العقيلي قال: قلت لعائشة: أكان رسول اللَّه ﷺ يصلي الضحى؟ (قالت) (٢): لا، إلا أن يجيء من مغيبه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اگر سفر سے واپس تشریف لاتے تو پھر اس نماز کو ادا کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8000
٨٠٠٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن (عاصم) (١) بن كليب عن أبيه عن أبي هريرة قال: ما رأيت رسول اللَّه ﷺ صلى الضحى إلا مرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف ایک مرتبہ چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 8001
٨٠٠١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن القاسم بن محمد أن عائشة كانت تصلي الضحى صلاة طويلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چاشت کی نماز کو بہت لمبا کرکے پڑھتی تھیں۔
حدیث نمبر: 8002
٨٠٠٢ - (حدثنا وكيع قال) (١) ثنا (أبو المنهال الطائي نصر بن أوس عن عبد اللَّه) (٢) ابن زيد عن أبي هريرة قال: قال (لي) (٣): عليك بسجدتي الضحى هما خير لك من ناقتين (دهماوين) (٤) من نتاج (بني) (٥) (بحتر) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ چاشت کے سجدوں کو اپنے اوپر لازم کرلو، یہ تمہارے لئے کالے رنگ کی دو بحتری کے حمل سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 8003
٨٠٠٣ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن (أبي سلمة) (١) بن عبد الرحمن عن أبي (الرباب) (٢) أن أبا ذر صلى الضحى فأطال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رباب فرماتے ہیں کہ حضرت ابوذر نے چاشت کی نماز ادا کی اور اسے لمبا فرمایا۔
حدیث نمبر: 8004
٨٠٠٤ - حدثنا إسماعيل عن حبيب بن (الشهيد) (١) قال: سئل عكرمة عن صلاة ابن عباس الضحى قال: كان يصليها اليوم (ويدعها) (٢) (العشر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اسے ایک دن پڑھتے تھے اور دس دن چھوڑتے تھے۔
حدیث نمبر: 8005
٨٠٠٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو قال: كان سعيد بن المسيب يصلي الضحى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8006
٨٠٠٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا [يصلون الضحى ويدعون.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے اور دعا مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 8007
٨٠٠٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور (أو) (١) غيره عن إبراهيم قال: كانوا] (٢) يكرهون أن يديموا صلاة الضحى مثل المكتوبة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ چاشت کی نماز کو فرض نمازوں کی طرح پابندی سے پڑھا جائے۔
حدیث نمبر: 8008
٨٠٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن القاسم بن محمد عن عائشة أنها كانت تغلق عليها بابها ثم تصلي الضحى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دروازہ بند کرکے چاشت کی نماز پڑھا کرتی تیں ز۔
حدیث نمبر: 8009
٨٠٠٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا محمد بن شريك عن ابن أبي مليكة عن ابن عباس أنه سئل عن صلاة الضحى فقال: إنها لفي كتاب اللَّه ولا (يغوص) (١) (عليها) (٢) إلا غواص ثم قرأ: ﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ﴾ [النور: ٣٦] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا ذکر تو قرآن مجید میں بھی ہے۔ لیکن اس تک وہی پہنچ سکتا ہے جو غور وفکر کرنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ان گھروں میں جن کی تعظیم کرنے اور ان میں اس کا نام یاد کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان میں صبح شام اللہ کی تسبیح پڑھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8010
٨٠١٠ - حدثنا وكيع قال: نا شريك عن سالم (الأفطس) (١) عن سعيد بن جبير أنه صلى الضحى في الكعبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم افطس فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے کعبہ میں چاشت کی نماز ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 8011
٨٠١١ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن مطهر بن جويرية قال: رأيت الضحاك يصلي الضحى ورأيت أبا مجلز يصلي في منزله الضحى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطہر بن جویریہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ضحاک کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ اور میں نے حضرت ابومجلز کو ان کے گھر میں چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 8012
٨٠١٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا يحيى بن مسلم الهمداني عن سعيد بن عمرو القرشي (قال) (١): (اتبعني أبي) (٢) عبد اللَّه بن عمر (لأتعلم) (٣) منه، فما رأيته يصلي السبحة وكان إذا رآهم يصلونها قال: من أحسن ما أحدثوا سبحتهم هذه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عمرو قرشی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چھوڑ دیا تاکہ میں ان سے علم حاصل کروں۔ میں نے انہیں کبھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ اگر لوگ چاشت کی نماز پڑھتے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ نفل نماز کتنی اچھی نئی بات محسوس ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 8013
٨٠١٣ - حدثنا أبو خالد عن العوام عن سليمان بن أبي سليمان عن أبي هريرة قال: أوصاني خليلي أن أصلي صلاة الضحى فإنها صلاة الأوابين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل نے وصیت کی کہ میں چاشت کی نماز پڑھوں کیونکہ یہ اوابین (اللہ کی طرف رجوع کرنے والے نیک بندوں) کی نماز ہے۔