کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 7986
٧٩٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن توبة العنبري عن مورق العجلي قال: قلت لابن عمر (أتصلي) (١) الضحى؟ قال: لا، قلت: صلاها عمر؟ قال: لا قلت: صلاها أبو بكر؟ قال: لا، قلت: صلاها النبي ﷺ؟ قال: لا (أخال) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مورق عجلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا حضرت عمر نے چاشت کی نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے پوچھا کیا حضرت ابوبکر نے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ مں و نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال یہی ہے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس نماز کو ادا نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7986
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١١٧٥)، وأحمد (٤٧٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7986، ترقيم محمد عوامة 7857)
حدیث نمبر: 7987
٧٩٨٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن (أبي) (١) خالد عن الشعبي عن ابن عمر قال: ما صليت الضحى مذ أسلمت إلا أن أطوف بالبيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسلام کے بعد میں نے سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے بعد کبھی چاشت کی نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7987
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وثبت سماع الشعبي من ابن عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7987، ترقيم محمد عوامة 7858)
حدیث نمبر: 7988
٧٩٨٨ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن الحكم بن الأعرج قال: سألت (ابن عمر) (١) عن صلاة الضحى وهو (مسند) (٢) ظهره إلى حجرة النبي ﷺ فقال: بدعة ونعمت البدعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چاشت کی نماز کی حقیقت دریافت کی، اس وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرۂ مبارک سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے اور بڑی اچھی بدعت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7988
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7988، ترقيم محمد عوامة 7859)
حدیث نمبر: 7989
٧٩٨٩ - حدثنا وكيع قال: نا شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة، قال: لم يخبرني أحد من الناس أنه وأى ابن مسعود يصلي الضحى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ جن حضرات نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ان میں سے مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ انہوں نے چاشت کی نماز ادا کی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7989
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7989، ترقيم محمد عوامة 7860)
حدیث نمبر: 7990
٧٩٩٠ - حدثنا وكيع قال: نا الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق، قال: كنا نقرأ في المسجد فيثبت الناس في القراءة بعد قيام ابن مسعود ثم نقوم فنصلي (الضحى) (١) فبلغ ذلك ابن مسعود فقال: عباد اللَّه، لم تحملوا عباد اللَّه ما لم يحملهم اللَّه إن كنتم لابد فاعلين ففي بيوتكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں قرآن پڑھا کرتے تھے، بعض اوقات لوگ حضرت ابن مسعود کی مجلس سے اٹھ جانے کے بعد بھی ان کی قرآن کیا کرتے تھے۔ پھر اٹھ کر ہم چاشت کی نماز ادا کرتے۔ جب اس بات کا حضرت ابن مسعود کو علم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندو ! تم اللہ کے بندوں کو ان باتوں کا ذمہ دار کیوں بناتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم نہیں کیں۔ اگر تم نے یہ نماز پڑھنی بھی ہے تو اپنے کمروں میں اسے ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7990
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7990، ترقيم محمد عوامة 7861)
حدیث نمبر: 7991
٧٩٩١ - حدثنا وكيع قال: حدثني أبي وإسرائيل عن أبي إسحاق عن (التميمي) (١) قال: سألت ابن عمر عن صلاة الضحى فقال: وللضحى (صلاة؟) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیمی کہتے ہںَ کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا چاشت کی بھی کوئی نماز ہوتی ہے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7991
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7991، ترقيم محمد عوامة 7862)
حدیث نمبر: 7992
٧٩٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن ابن جريج عن الزهري عن عروة عن عائشة، قالت: لم يكن النبي ﷺ يسبح سبحة الضحى قالت: وكان يترك أشياء كراهة أن ⦗١٨٠⦘ يستن (به فيها) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے اور آپ بہت سے اعمال کو صرف اس لئے چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں انہیں دین کا ضروری حصہ نہ بنالیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7992
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح ابن جريج بالسماع عند أحمد، أخرجه أحمد (٢٥٣٦٣)، وأبو عوانة (٢/ ٢٢٦٧)، وانظر ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7992، ترقيم محمد عوامة 7863)
حدیث نمبر: 7993
٧٩٩٣ - حدثنا وكيع ثنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن عروة عن عائشة، قالت: كان رسول اللَّه ﷺ لا يصلي سبحة الضحى، وإني لأسبحها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7993
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١١٧٧)، ومسلم (٧٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7993، ترقيم محمد عوامة 7864)
حدیث نمبر: 7994
٧٩٩٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة، قال: كان لا يصلي الضحى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ چاشت کی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7994، ترقيم محمد عوامة 7865)
حدیث نمبر: 7995
٧٩٩٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا حاجب ابن عمر عن الحكم بن الأعرج، قال: سألت ابن عمر عن صلاة الضحى [فقال: بدعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7995
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٧٧٥)، ومسلم (١٢٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7995، ترقيم محمد عوامة 7866)
حدیث نمبر: 7996
٧٩٩٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن (عياش) (١) عن سعيد بن جبير قال: إني للأدع الصلاة الضحى] (٢) (وإني لأشتهيها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں چاشت کی نماز چھوڑ دیتا ہوں حالانکہ مجھے یہ نماز بہت پسند ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7996
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7996، ترقيم محمد عوامة 7867)