کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات رمضان میں لوگوں کے ساتھ تراویح نہیں پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 7924
٧٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن نمير قال: ثنا (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يقوم مع الناس في شهر رمضان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما تراویح لوگوں کے ساتھ نہیں پڑھتے تھے۔ حضرت سالم اور حضرت قاسم بھی تراویح لوگوں کے ساتھ نہیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7924
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7924، ترقيم محمد عوامة 7796)
حدیث نمبر: 7925
٧٩٢٥ - قال: وكان سالم والقاسم لا (يقومان) (١) مع الناس.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7925
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7925، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 7926
٧٩٢٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد، قال: سأل رجل ابن عمر أقوم خلف الإمام في شهر رمضان؟ فقال: (تنصت) (١) كأنك حمار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں رمضان میں امام کے پیچھے تراویح پڑھتا ہوں یہ ٹھیک ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم گدھے کی طرح منہ اٹھا کر کھڑے رہتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7926
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7926، ترقيم محمد عوامة 7797)
حدیث نمبر: 7927
٧٩٢٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي حمزة عن إبراهيم قال: لو لم يكن معي إلا سورة أو (سورتان) (١) لأن أرددهما أحب إلي من أن أقوم خلف الإمام في شهر رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر مجھے ایک یا دو سورتیں آتی ہوں اور میں انہیں دہراتا رہوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی امام کے پیچھے تراویح پڑھوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7927
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7927، ترقيم محمد عوامة 7798)
حدیث نمبر: 7928
٧٩٢٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش، قال: كان إبراهيم يؤمهم في المكتوبة ولا يؤمهم في صلاة رمضان وعلقمة والأسود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم، حضرت علقمہ اور حضرت اسود لوگوں کو فرض نماز پڑھاتے تھے ، لیکن تراویح کی امامت نہیں کراتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7928
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7928، ترقيم محمد عوامة 7799)
حدیث نمبر: 7929
٧٩٢٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش، قال: كان إبراهيم وعلقمة لا (يقومان) (١) مع الناس في رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم اور حضرت علقمہ تراویح کی امامت نہیں کرایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7929
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7929، ترقيم محمد عوامة 7800)
حدیث نمبر: 7930
٧٩٣٠ - حدثنا قطن بن عبد اللَّه أبو (مري) (١) عن نصر المعلم قال: حدثني عمر ابن عثمان قال: سألت الحسن (فقلت) (٢): يا أبا سعيد يجيء رمضان أو يحضر رمضان فيقوم الناس في المساجد فما ترى؟ أقوم مع الناس أو أصلي أنا لنفسي؟ قال: تكون أنت تفوه (بالقرآن) (٣) أحب إلي من أن يفاه عليك به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ اے ابو سعید ! رمضان میں لوگ تراویح پڑھتے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ پڑھوں یا اکیلے پڑھوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم خود قرآن پڑھو یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ تمہیں کوئی اور قرآن پڑھ کرسنائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7930
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7930، ترقيم محمد عوامة 7801)