کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: تراویح کا ثبوت
حدیث نمبر: 7903
٧٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: كان عبد اللَّه يؤمنا في رمضان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تراویح میں ہماری امامت کرایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7903
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7903، ترقيم محمد عوامة 7775)
حدیث نمبر: 7904
٧٩٠٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش قال: سألت عطاء هل كان علي يصلي بهم في رمضان؟ قال: كان خيار أصحاب علي زاذان وأبو البختري وغيرهم يدعون أهليهم ويؤمون في المسجد في رمضان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سوال کیا کہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ تراویح میں ان کی امامت کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اجل شاگردوں میں سے حضرت زاذان، حضرت ابو البختری اور دوسرے حضرات رمضان میں اپنے متعلق لوگوں کو بلا کر مسجد میں انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7904
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7904، ترقيم محمد عوامة 7776)
حدیث نمبر: 7905
٧٩٠٥ - حدثنا ابن فضيل عن داود بن أبي هند عن الوليد بن عبد الرحمن (الجرشي) (١) عن جبير بن نفير الحضرمي عن أبي ذر قال: سمعنا مع رسول اللَّه ⦗١٥٨⦘ ﷺ رمضان فلم يصل بنا حتى بقي سبع من الشهر، فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل، ثم لم يقم بنا في السادسة، ثم قام بنا في (الخامسة) (٢) حتى ذهب شطر الليل فقلنا: يا رسول اللَّه لو قمت بنا بقية ليلتنا هذه فقال: "إنه من قام مع الأمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة"، قال: ثم صلى بنا (حتى) (٣) بقي ثلاث من الشهر ثم صلى بنا وجمع أهله ونساءه قال: فقام حتى تخوفنا أن يفوتنا الفلاح، قال: قلت: وما الفلاح؟ قال: (السحور) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ رمضان میں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ نے تیئس رمضان تک ہمیں تراویح کی نماز نہ پڑھائی، پھر جب رمضان کے سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمیں ایک تہائی رات تک نماز پڑھائی، پھر اگلی رات آپ نے تراویح نہ پڑھائی، پھر اگلی رات آپ نے ہمیں آدھی رات تک نماز پڑھائی۔ پھر ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر آپ ہمیں باقی راتوں میں نماز پڑھا دیں تو اچھا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص امام کے نماز پڑھتے رہنے تک اس کے ساتھ کھڑا رہا اس کے لئے پوری رات نماز پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ آپ نے پھر ہمیں نماز پڑھائی اور جب مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے ہمیں تراویح کی نماز پڑھائی اور آپ نے اپنے اہل و عیال اور خواتین کو جمع فرمایا۔ اور اتنی دیر نماز پڑھائی کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں فلاح فوت نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یہ فلاح کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا سحری۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7905
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢١٤٤٧)، وأبو داود (١٣٧٥)، والترمذي (٨٠٦)، النسائي ٣/ ٨٣، وابن ماجه (١٣٢٧)، وابن خزيمة (٢٢٠٦)، وابن حبان (٢٥٤٧)، وعبد الرزاق (٧٧٠٦)، وابن الجارود (٤٠٣)، والدارمي (١٧٧٧)، والبزار (٤٠٤٣)، والطحاوي ١/ ٣٤٩، والبيهقي ٢/ ٤٩٤، ومحمد بن نصر في قيام رمضان (٨)، والبغوي (٩٩١)، والطيالسي (٤٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7905، ترقيم محمد عوامة 7777)
حدیث نمبر: 7906
٧٩٠٦ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن معاوية بن صالح قال: حدثني نعيم بن زياد أبو طلحة الأنصاري قال: سمعت النعمان بن بشير على منبر حمص يقول: قمنا مع رسول اللَّه ﷺ ليلة ثلاث وعشرين إلى ثلث الليل الأول، وقمنا معه ليلة خمس وعشرين إلى نصف الليل، وقمنا معه ليلة سابعة وعشرين حتى ظننا أنه يفوتنا الفلاح وكنا نعده السحور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن زیاد ابو طلحہ انمار ی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر کو حمص کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کی تیئسویں رات کو رات کے پہلے تہائی حصے تک نماز پڑھتے رہے، پھر ہم آپ کے ساتھ پچیسویں رات کو آدھی رات تک نماز پڑھتے رہے اور ستائیسویں رات کو ہم اتنی دیر نماز پڑھتے رہے کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں فلاح فوت نہ ہوجائے، ہم سحری کو فلاح کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7906
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٨٤٠٢)، والنسائي (٣/ ٢٠٣)، وابن خزيمة (٢٢٠٤)، والمروزي في قيام الليل ص ٩٣، والفرياني في الصيام (١٥٥)، والمزي في التهذيب ترجمة رقم: (٧٠٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7906، ترقيم محمد عوامة 7778)
حدیث نمبر: 7907
٧٩٠٧ - حدثنا ابن (فضيل) (١) عن العلاء بن المسيب عن عمرو بن مرة عن طلحة بن يزيد عن حذيفة قال: قام بنا رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة من رمضان في حجرة من جريد النخل، ثم صب عليه دلوًا من ماء ثم قال: " (اللَّه أكبر اللَّه) (٢) أكبر (ذو) (٣) الملكوت (والجبروت) (٤) والكبرياء والعظمة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی ایک رات میں کھجوروں کے پتوں سے بنے ایک کمرے میں ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر آپ نے پانی کا ایک ڈول بہایا اور فرمایا : اللہ سب سے بڑا ہے، وہ بادشاہت ، جبروت، کبریائی اور عظمت والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7907
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7907، ترقيم محمد عوامة 7779)
حدیث نمبر: 7908
٧٩٠٨ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ يرغب في قيام رمضان من غير عزيمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کی تراویح کی ترغیب دیا کرتے تھے لیکن اس کو فرض قرار نہیں دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7908
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٧٧٨٧)، ومسلم (٧٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7908، ترقيم محمد عوامة 7780)
حدیث نمبر: 7909
٧٩٠٩ - حدثنا الثقفي عن خالد عن عكرمة أن رسول اللَّه ﷺ قام في رمضان في بعض حجره يصلي فائتموا بصوته فلما علم بهم خفض صوته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات رمضان میں اپنے ایک حجرے میں نماز ادا فرما رہے تھے ، لوگوں نے آپ کی آواز سن کر آپ کی اقتداء کرنا شروع کردی۔ جب آپ کو لوگوں کی اقتداء کا علم ہوا تو آپ نے اپنی آواز کو آہستہ فرمالیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7909
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7909، ترقيم محمد عوامة 7781)
حدیث نمبر: 7910
٧٩١٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: كان عبد اللَّه يؤمنا في رمضان وينصرف وعليه ليل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ تراویح میں ہماری امامت کرایا کرتے تھے، اور رات ہی میں واپس چلے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7910
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7910، ترقيم محمد عوامة 7782)
حدیث نمبر: 7911
٧٩١١ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن علي أنه قام بهم في رمضان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں تراویح کی نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7911
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7911، ترقيم محمد عوامة 7783)
حدیث نمبر: 7912
٧٩١٢ - حدثنا حسين بن علي عن الوليد بن علي عن أبيه، قال: كان سويد بن غفلة يؤمنا فيقوم بنا في شهر رمضان وهو ابن عشرين ومائة سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن علی رضی اللہ عنہ کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ ہماری امامت کراتے تھے اور رمضان میں وہ ایک سو بیس سال کی عمر میں ہمیں تراویح پڑھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7912
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7912، ترقيم محمد عوامة 7784)
حدیث نمبر: 7913
٧٩١٣ - حدثنا شبابة قال: ثنا ليث بن سعد عن ابن شهاب عن عروة عن عبد الرحمن بن عبدٍ القاري قال: خرج عمر بن الخطاب في شهر رمضان والناس يصلون قطعا فقال: لو جمعنا هؤلاء على قارئ واحد لكان خيرًا، فجمعهم على أبي بن كعب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن عبدا لقاری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے رمضان میں لوگوں کو الگ الگ نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ اگر یہ ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھ لیں تو اچھا ہو۔ پھر آپ نے انہیں حضرت ابی بن کعب کے پیچھے جمع کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7913
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٠١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7913، ترقيم محمد عوامة 7785)
حدیث نمبر: 7914
٧٩١٤ - حدثنا وكيع عن مالك عن الزهري عن أبي سلمة أن النبي ﷺ كان (يرغب) (١) في قيام رمضان من غير أن يأمر فيه بعزيمة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کی تراویح کی ترغیب دیا کرتے تھے لیکن اس کو فرض قرار نہیں دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7914
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، وتقدم متصلًا برقم [٧٩٠٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7914، ترقيم محمد عوامة 7786)
حدیث نمبر: 7915
٧٩١٥ - حدثنا وكيع عن (نصر بن) (١) علي عن نضر بن شيبان قال: سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن فذكر عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه أفترض عليكم صيامه (وسننت) (٢) لكم قيامه، فمن صامه إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسلمہ بن عبدا لرحمن اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے کو فرض فرمایا اور اس کے قیام کو سنت قرار دیا، جس نے ایمان اور اللہ سے ثواب کی امید کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7915
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ نضر بن شيبان ضعيف، أخرجه أحمد (١٦٦٠)، وابن ماجه (١٣٢٨)، والنسائي ٤/ ١٥٨، وابن خزيمة (٢٢٠١)، والطيالسي (٢٢٤)، وأبو يعلى (٨٦٣)، وعبد ابن حميد (١٥٨)، والشاشي (٢٤١)، والبزار (١٠٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7915، ترقيم محمد عوامة 7787)
حدیث نمبر: 7916
٧٩١٦ - حدثنا وكيع قال: نا هشام بن عروة عن أبيه، أن عمر بن الخطاب أمر أبيًا أن يصلي بالناس في شهر رمضان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابی کو حکم دیا کہ رمضان میں لوگوں کو تراویح پڑھائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7916
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7916، ترقيم محمد عوامة 7788)