حدیث نمبر: 7852
٧٨٥٢ - حدثنا وكيع ثنا مسعر (١) عن عثمان بن المغيرة الثقفي عن علي بن ربيعة ⦗١٤٥⦘ الوالبي عن أسماء بن الحكم الفزاري عن علي قال: كنت إذا سمعت من رسول اللَّه ﷺ حديثا نفعني اللَّه بما شاء منه، فإذا (حدثني) (٢) عنه (غيري) (٣) استحلفته، فإذا حلف لي صدقته، وإن أبا بكر حدثني وصدق أبو بكر (أنه قال: قال رسول اللَّه ﷺ (٤): "ما من رجل يذنب ذنبا فيتوضأ فيحسن الوضوء ثم يصلي -قال: سفيان ثم يصلي ركعتين، قال مسعر: ثم يصلي- فيستغفر اللَّه إلا غفر له" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی اللہ نے مجھے اس سے کوئی نہ کوئی فائدہ ہی پہنچایا اور اگر مجھ سے کسی اور نے بیان کیا تو میں نے اس سے اس کی صداقت پر قسم لی۔ اگر اس نے قسم کھالی تو میں نے اس کی تصدیق کی۔ اور حضرت ابوبکر نے مجھ سے سچ ہی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب بھی کوئی بندہ گناہ کرے، پھر اس کے بعد اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں پڑھے یا کوئی نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7853
٧٨٥٣ - حدثنا وكيع ثنا الأعمش عن سليمان بن ميسرة والمغيرة بن (شبل عن) (١) طارق بن شهاب عن سلمان قال: الصلوات الخمس (كفارات) (٢) لما بينهن ما اجتنبت (المقتل) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کبیرہ گناہ سے اجتناب کرے تو پانچوں نمازیں اپنے درمیانی اوقات کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7854
٧٨٥٤ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: الصلوات الحقائق كفارات لما بينهن ما اجتنبت الكبائر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ فرض نمازیں اپنے درمیان ہونے والے گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں، بشرطیکہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔
حدیث نمبر: 7855
٧٨٥٥ - حدثنا وكيع ثنا هشام بن عروة (عن أبيه) (١) عن حمران بن أبان عن ⦗١٤٦⦘ عثمان بن عفان قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من رجل يتوضأ فيحسن الوضوء ثم يصلي إلا غفر له ما بينه وبين الصلاة الأخرى" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی اچھی طرح وضو کرکے نماز پڑھے، اس کے اس نماز سے پچھلی نماز تک کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7856
٧٨٥٦ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا (عوف) (١) والجريري عن قسامة بن زهير عن أبي موسى، قال: مثل الصلوات الخمس مثل نهر جار على باب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات فماذا يبقين بعد عليه من درنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ پانچوں نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو کسی کے دروازے پر جاری ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ مرتبہ غسل کرے، کیا اس کے بدن پر کوئی میل باقی رہے گا ؟
حدیث نمبر: 7857
٧٨٥٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء، قال: سمعت إبراهيم بن يحنس عن أبي الدرداء قال: مثل الصلوات الخمس مثل رجل على بابه نهر يغتسل منه كل يوم خمس مرات فماذا يُبقي ذلك من درنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ پانچوں نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو کسی کے دروازے پر جاری ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ مرتبہ غسل کرے، کیا اس کے بدن پر کوئی میل باقی رہے گا ؟
حدیث نمبر: 7858
٧٨٥٨ - حدثنا وكيع ثنا مسعر عن أبي صخرة جامع بن شداد قال: سمعت حمران بن أبان مولى عثمان يقول: كنت أضع لعثمان طهوره فما أتى عليه (يوم) (١) إلا وهو (يفيض) (٢) (منه) (٣) عليه نطفة من ماء، فقال عثمان: حدثنا رسول اللَّه ﷺ عند انصرافنا من صلاتنا هذه (قال) (٤) مسعر: (أراه) (٥) قال العصر فقال: ما أدري أحدثكم أو أسكت قال: قلنا يا رسول اللَّه إن كان خيرا فحدثنا وإن كان غير ذلك فاللَّه ورسوله أعلم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما من رجل يتوضأ فيحسن الوضوء ⦗١٤٧⦘ ثم يصلي إلا غفر له ما بينه وبين الصلاة الأخرى" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمران بن ابان مولی عثمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے لئے غسل کا پانی رکھا کرتا تھا۔ وہ ہر روز اس سے غسل کرتے خواہ تھوڑا سا پانی استعمال کرتے۔ ایک دن انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس نماز (عصر) کے بعد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ ایک بات میں تمہیں بتاؤں یا خاموش رہوں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر اس میں خیر ہے تو بتادیں، اگر وہ خیر سے ہٹی ہوئی ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کوئی انسان اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے تو اس کے پچھلی نماز تک کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7859
٧٨٥٩ - حدثنا وكيع ثنا الأوزاعي عن عبد الواحد بن قيس عن أبي هريرة، قال: (تكفير) (١) كل لحاء (ركعتان) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ دو رکعتیں ہر جھگڑے کا کفارہ ہیں۔
حدیث نمبر: 7860
٧٨٦٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مثل الصلوات الخمس كمثل نهر جار (غمر) (١) على باب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات"، فقال: الحسن فما يُبقي ذلك من الدرن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کے دروازے پر ایک گہری نہر جاری ہو اور وہ اس میں روزانہ غسل کرے۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حسن نے فرمایا کہ کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گا ؟
حدیث نمبر: 7861
٧٨٦١ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما مثل الصلوات الخمس كمثل نهر جار على باب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات فما يُبقي من درنه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کے دروازے پر ایک گہری نہر جاری ہو اور وہ اس میں روزانہ غسل کرے۔ کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گا ؟
حدیث نمبر: 7862
٧٨٦٢ - حدثنا وكيع ثنا مسعر وشعبة عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه قال: سمعت (ابن عمر ﵄ (١) يقول: ما صليت صلاة إلا وأنا أرجو أن ⦗١٤٨⦘ (تكون) (٢) كفارة لما أمامها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جب بھی کوئی نماز پڑھتا ہوں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ پچھلی نماز تک کے تمام اعمال کا کفارہ بن گئی۔
حدیث نمبر: 7863
٧٨٦٣ - حدثنا وكيع ثنا مسعر عن القاسم بن عبد الرحمن، قال: قال عبد اللَّه (يحترقون) (١) فإذا صلوا الظهر غسلت ثم (يحترقون) (٢) فإذا صلوا العصر غسلت ثم (يحترقون) (٣) فإذا صلوا المغرب غسلت حتى ذكر الصلوات كلهن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ گناہ کرتے ہیں پھر ظہر کی نماز پڑھتے ہیں تو ان کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ پھر گناہ کرتے ہیں پھر عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو ان کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ پھر گناہ کرتے ہیں پھر مغرب کی نماز پڑھتے ہیں تو ان کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے پانچوں نمازوں کا ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 7864
٧٨٦٤ - حدثنا وكيع ثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن عن لقيط بن قبيصة الجعفري رجل من أصحاب عبد اللَّه، قال: كان عبد اللَّه فذكر مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7865
٧٨٦٥ - حدثنا وكيع ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن عبيد بن عمير، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مثل الصلوات الخمس كمثل نهر جار على باب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات فماذا يبقين من الدرن" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کے دروازے پر ایک گہری نہر جاری ہو اور وہ اس میں روزانہ غسل کرے۔ کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گا ؟