کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کے پاس آنے اور یہاں درود پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7750
٧٧٥٠ - حدثنا أبو بكر ثنا زيد بن حباب ثنا جعفر بن إبراهيم من ولد ذي الجناحين قال: حدثني علي بن عمر عن أبيه عن علي بن (حسين) (١) أنه رأى رجلًا يجيء إلى فرجة كانت عند قبر النبي ﷺ فيدخل فيها فيدعو، فدعاه فقال: ألا أحدثك بحديث سمعته من أبي عن جدي عن رسول اللَّه ﷺ قال: "لا تتخذوا قبري عيدًا ولا بيوتكم قبورا وصلوا علي فإن صلاتكم (وتسليمكم) (٢) تبلغني ⦗١٢١⦘ حيث ما كنتم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین نے ایک آدمی کو دیکھا جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک میں داخل ہوتا اور دعا مانگتا تھا۔ انہوں نے اسے بلاکر فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میرے باپ نے میرے دادا سے نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری قبر کو خوشی سے جمع ہونے کی جگہ نہ بناؤ اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، تم میرے اوپر درود بھیجو، کیونکہ تم جہاں کہیں سے بھی مجھ پر درود وسلام بھیجتے ہو وہ مجھے پہنچ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7751
٧٧٥١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن (سهيل) (١) (عن) (٢) (حسن) (٣) بن (حسن) (٤) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تتخذوا قبري عيدا ولا بيوتكم قبورا وصلوا علي حيث ما كنتم فإن صلاتكم تبلغني" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن حسن سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری قبر کو خوشی سے جمع ہونے کی جگہ نہ بناؤ اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، تم میرے اوپر درود بھیجو، کیونکہ تم جہاں کہیں سے بھی مجھ پر درود بھیجتے ہو وہ مجھے پہنچ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7752
٧٧٥٢ - حدثنا أبو خالد عن ابن عجلان عن زيد بن أسلم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم لا تجعل قبري وثنًا يصلى له، اشتد غضب اللَّه على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنا جس کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا غصہ ان لوگوں پر بہت سخت ہوا جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔
حدیث نمبر: 7753
٧٧٥٣ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: أنا ابن عون عن نافع قال: بلغ عمر بن الخطاب أن أناسا يأتون الشجرة التي بويع تحتها قال: فأمر بها فقطعت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو معلوم ہوا کہ لوگ اس درخت کے پا س آتے ہیں جس کے نیچے آپ نے صحابہ سے بیعت لی تھی تو آپ نے اس درخت کو کٹوانے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 7754
٧٧٥٤ - حدثنا زكريا بن (١) عدي عن عبيد اللَّه بن (عمرو) (٢) عن زيد بن أبي أنيسة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث النجراني قال: حدثني ⦗١٢٢⦘ (جندب) (٣) قال: سمعت النبي ﷺ قبل أن يموت بخمس وهو يقول: "ألا وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد، ألا فلا تتخذوا القبور مساجد إني أنهاكم عن ذلك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال سے پانچ دن پہلے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا تھا، تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بناؤ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 7755
٧٧٥٥ - حدثنا هاشم بن القاسم ثنا شيبان عن هلال بن أبي حميد الأنصاري عن عروة بن الزبير عن عائشة، قالت: قال رسول اللَّه ﷺ في مرضه الذي لم يقم منه: "لعن اللَّه اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد، ولولا ذلك (لأبرز) (١) قبره إلا أنه خشي أن يتخذ مسجدًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہود ونصار یٰ پر لعنت فرمائی کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کو سجدہ گاہ بنائے جانے کا خوف نہ ہوتا تو آپ کی قبر مبارک کو خوب بڑا اور واضح بنایا جاتا۔
حدیث نمبر: 7756
٧٧٥٦ - حدثنا وكيع (١) ثنا هشام بن عروة عن (أبيه) (٢) عن عائشة أنهم تذاكروا عند رسول اللَّه ﷺ في مرضه، فذكرت أم سلمة أو أم حبيبة كنيسة (رأتها) (٣) في أرض الحبشة (فيها) (٤) تصاوير فقال النبي ﷺ: "أولئك كانوا إذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على قبره مسجدا وصوروه، أولئك شرار الخلق (عند اللَّه) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات میں گفتگو کررہے تھے، اس میں حضرت ام سلمہ یا ام حبیبہ نے کہا کہ انہوں نے حبشہ میں ایک کنیسہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ ان لوگوں کا معمول یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی گذرتا تو اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے اور اس کی تصویریں بنا لیتے، یہ لوگ مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔
حدیث نمبر: 7757
٧٧٥٧ - حدثنا وكيع ثنا شعبة عن محمد بن جحادة الأودي قال: سمعت أبا صالح بعدما كبر يحدث عن ابن عباس قال: لعن رسول اللَّه ﷺ زائرات القبور ⦗١٢٣⦘ والمتخذات عليها المساجد (والسرج) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور ان پر چراغ رکھنے والی اور انہیں سجدہ گاہ بنانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 7758
٧٧٥٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المعرور بن سويد قال: خرجنا مع عمر في حجة حجها، فقرأ بنا في الفجر: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ﴾ و ﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ﴾، فلما قضى حجه ورجع والناس يبتدرون فقال: ما هذا؟ فقالوا: مسجد صلى فيه رسول اللَّه ﷺ فقال: هكذا هلك أهل الكتاب، اتخذوا آثار أنبيائهم بيعًا، من عرضت له منكم فيه الصلاة فليصل، ومن لم تعرض له منكم فيه الصلاة فلا يصل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر کے ساتھ ایک حج کے لئے گئے۔ انہوں نے فجر کی نماز میں سورة الفیل اور سورة القریش کی تلاوت فرمائی۔ جب آپ نے حج پورا کرلیا اور واپس آرہے تھے تو کسی جگہ جا کر لوگ تیزی سے بھاگے۔ حضرت عمر نے پوچھا یہاں کیا ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اہل کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے، انہوں نے اپنے انبیاء کے آثار کو مسجدیں بنا لیا تھا۔ ہونا یہ چاہئے کہ اگر تمہیں یہاں نماز کا وقت ہوجائے تو نماز پڑھ لو اور وقت نہ ہو تو نماز نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 7759
٧٧٥٩ - حدثنا معاذ عن ابن عون عن محمد، قال: كانوا يكرهون أن (يعتروا) (١) آثار الأنبياء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ انبیاء کے آثار میں کوئی تبدیلی کی جائے۔
حدیث نمبر: 7760
٧٧٦٠ - حدثنا أسباط بن محمد عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لعن اللَّه أقواما اتخذوا قبور أنبيائهم مساجدا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان قوموں پر لعنت فرمائی جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔
حدیث نمبر: 7761
٧٧٦١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم، أنه كره أن يبنى على القبر (مسجد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ کسی قبر پر مسجد بنائی جائے۔