کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نماز سے منع کیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 7554
٧٥٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبد اللَّه بن نمير وأبو أسامة قالا: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: لا تتحينن عند طلوع الشمس ولا غروبها بالصلاة فإن رسول اللَّه ﷺ كان ينهى عن ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نمازکا ارادہ نہ کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7555
٧٥٥٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا موسى بن علي عن أبيه عن (عقبة) (١) بن عامر قال: (سمعته يقول) (٢): ثلاث ساعات كان رسول اللَّه ﷺ ينهانا أن نصلي فيها، وأن نقبر فيهن موتانا حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين تضيف للغروب حتى (تغرب) (٣) وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفنانے سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، طلوع شمس کے وقت یہاں تک کہ سورج اچھی طرح بلند ہوجائے۔ سورج کے غروب ہوتے وقت یہاں تک کہ وہ بالکل غروب ہوجائے اور دوپہر کو سورج کے استواء کے وقت یہاں تک کہ وہ زائل ہوجائے۔
حدیث نمبر: 7556
٧٥٥٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: إن الشمس تطلع حين تطلع بين قرني شيطان قال: (فكنا) (١) ننهى عن الصلاة عند طلوع الشمس وعند غروبها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے، ہمیں طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نماز سے منع کیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 7557
٧٥٥٧ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن بلال قال: لم ينه عن الصلاة إلا عند غروب الشمس لأنها تغرب في قرن الشيطان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بلال فرماتے ہیں کہ سوائے غروب شمس کے کسی وقت نماز سے منع نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ شیطان کے سینگ میں غروب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 7558
٧٥٥٨ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن حبيب عن عطاء قال: حدثني عروة بن الزبير أن أناسا طافوا بالبيت بعد الفجر ثم قعدوا عند (المذكر) (١) حتى إذا كان عند طلوع الشمس قاموا يصلون قالت عائشة: قعدوا حتى إذا كانت الساعة التي يكره فيها (٢) الصلاة قاموا يصلون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے فجر کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا، پھر رکن اسود یا حجر اسود کے پاس بیٹھ گئے۔ جب سورج طلوع ہونے لگا تو انہوں نے اٹھ کر نماز ادا کی۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پہلے تو وہ بیٹھے رہے پھر جب وہ وقت شروع ہوا جس میں نماز مکروہ ہے تو انہوں نے نماز شروع کردی۔
حدیث نمبر: 7559
٧٥٥٩ - حدثنا وكيع عن بسطام (بن) (١) مسلم عن أبي رجاء عن ابن عباس قال: لا (تصل) (٢) عند طلوع الشمس ولا حين تغرب فإنها تطلع وتغرب في قرني شيطان ولكن إذا صفت وعلت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ کیونکہ سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان طلوع اور غرو ب ہوتا ہے۔ البتہ جب سورج غروب کے بعد بالکل چھپ جائے اور طلوع کے بعد بالکل بلند ہوجائے تو اس وقت نماز جائز ہے۔
حدیث نمبر: 7560
٧٥٦٠ - حدثنا الفضل بن دكين عن مسعر عن عبيد (بن) (١) الحسن عن ابن (معقل) (٢) قال: رأى (أبو) (٣) مسعود رجلا يصلي (عند) (٤) طلوع الشمس أو في الساعة التي تكره فيها الصلاة فأمر رجلا فنهاه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن معقل فرماتے ہیں کہ میں نے طلوع شمس کے وقت یا کسی مکروہ وقت میں ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا تو ایک آدمی کو بھیج کر اسے منع کرادیا۔
حدیث نمبر: 7561
٧٥٦١ - حدثنا عبد الوهاب عن أيوب عن محمد أن شريحا رأى رجلا يصلي حين اصفرت الشمس فقال: انهوا هذا أن يصلي فإن هذه ساعة لا تحل فيها الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ سورج زرد ہونے کے بعد نماز پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اسے نماز پڑھنے سے منع کرو کیونکہ اس وقت نماز پڑھنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 7562
٧٥٦٢ - [حدثنا وكيع قال: (نا) (١) هشام بن عروة عن أبيه عن ابن عمر قال: قال رسول ﷺ: "لا تحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها، فإنها تطلع بقرن الشيطان] (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت نمازنہ پڑھو کیونکہ سورج شیطان کے سینگ میں طلوع ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 7563
٧٥٦٣ - حدثنا وكيع قال: نا هشام بن عروة عن أبيه عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا بدا حاجب الشمس فأخروا الصلاة حتى تبرز وإذا غاب حاجب الشمس فأخروا الصلاة حتى تغيب" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب سورج کی نوک ظاہر ہوجائے تو نماز کو اس وقت تک مؤخر کرو جب تک وہ پورا ظاہر نہ ہوجائے اور جب سورج کی نوک غروب ہوجائے تو نماز کو اس وقت تک مؤخر کرو جب تک وہ غائب نہ ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 7564
٧٥٦٤ - حدثنا وكيع قال: نا عيسى بن حميد الراسبي قال: سمعت الحسن يقول: كانوا يكرهون الصلاة (عند) (١) طلوع الشمس حتى ترتفع وعند غروبها حتى تغيب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اسلاف طلوع شمس کے وقت سورج بلند ہونے تک اور غروب ِ شمس کے وقت سورج غائب ہونے تک نماز کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 7565
٧٥٦٥ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) سفيان (عن حماد) (٢) عن إبراهيم قال ابن مسعود: ما أحب أن لي بصلاة الرجل (حين) (٣) (تصفار) (٤) الشمس فلسين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک سورج زرد ہوجانے کے بعد نماز پڑھنے سے دو سکے بہتر ہیں۔