کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات نے عصر کے بعد دورکعت پڑھنے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 7543
٧٥٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: ما ترك النبي ﷺ ركعتين بعد العصر في (بيتي) (١) قط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حجرے میں عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو کبھی نہیں چھوڑا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7543
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٥٩١)، ومسلم (٨٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7543، ترقيم محمد عوامة 7423)
حدیث نمبر: 7544
٧٥٤٤ - حدثنا ابن إدريس عن يزيد (عن) (١) عبد اللَّه بن الحارث قال: دخلت مع ابن عباس على معاوية فأجلسه معاوية على السرير ثم قال له: ما ركعتان يصليهما الناس بعد العصر لم نر رسول اللَّه ﷺ (صلاهما) (٢) ولا أمر بهما، قال: ذلك ما يفتي به الناس ابن الزبير، فأرسل (إلى) (٣) ابن الزبير فسأله (فقال) (٤): (أخبرتني) (٥) ذلك عائشة فأرسل إلى عائشة فقالت: أخبرتني ذلك أم سلمة، (فأرسل إلى أم سلمة فانطلقت مع الرسول، فسأل أم سلمة) (٦) فقالت يرحمها اللَّه: ما أرادت إلى هذا، فقد (أخبرتها) (٧) إن رسول اللَّه ﷺ نهى عنهما، أن رسول اللَّه ﷺ بينما هو في بيتي يتوضأ (للظهر) (٨) وكان قد بعث ساعيا وكثر عنده المهاجرون وكان قد أهمه شأنهم إذ ضرب الباب، فخرج إليه فصلى الظهر ثم جلس يقسم ما جاء به، فلم يزل كذلك حتى صلى العصر، فلما فرغ (رآه بلالًا) (٩) فأقام الصلاة فصلى العصر (ثم) (١٠) دخل منزلي فصلى ركعتين فلما فرغ قلت: ما الركعتان رأيتك تصليهما بعد العصر؟ لم أرك تصليهما، فقال: "شغلني أمر الساعي لم أكن صليتهما بعد الظهر فصليتهما"، فقال ابن الزبير: قد صلاهما رسول اللَّه ﷺ ⦗٧٤⦘ فانا أصليهما (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت معاویہ نے ان کو تخت پر بٹھایا، پھر ان سے فرمایا کہ یہ دو رکعتیں جو لوگ عصر کے بعد پڑھتے ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے، ہم نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی اس کا حکم دیا ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت ابن زبیر لوگوں کو اس نماز کا حکم دیتے ہیں۔ حضرت معاویہ نے حضرت ابن زبیر کو بلا کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں بتایا ہے۔ حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھجوایا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے ام سلمہ نے اس بارے میں بتایا ہے۔ حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس آدمی بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ اس نے حضرت ام سلمہ سے سوال کیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رحم فرمائے، انہوں نے یہ مراد کیسے لے لی ؟ میں نے انہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو رکعتوں سے منع فرمایا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تھے اور آپ نے ظہر کے لئے وضو فرمایا۔ آپ نے ایک آدمی کو زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے بھیجا ہوا تھا وہ واپس آیا اور اس کے پاس بہت سے مہاجرین جمع ہوگئے۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر تشریف لے گئے اور ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر بیٹھ کر اس مال کو لوگوں میں تقسیم فرمانے لگے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو حضرت بلال نے آپ کو دیکھ کر عصر کی اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ پھر آپ میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ جب آپ نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا کہ یہ دورکعتیں جو آپ نے ابھی ادا کی ہں م یہ کون سی ہیں ؟ میں نے تو پہلے آپ کو یہ نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا کہ زکوٰۃ وصول کرنے والے کی مشغولیت نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں ادا کرنے سے روکے رکھا، میں نے انہیں اب ادا کیا ہے۔ حضرت ابن زبیر نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ادا کیا ہے تو میں انہیں ضرور پڑھوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7544
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد (٢٦٥٨٦)، وابن ماجه (١١٥٩)، والطبراني ٢٣/ (٩٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7544، ترقيم محمد عوامة 7424)
حدیث نمبر: 7545
٧٥٤٥ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون قال: رأيت أبا بردة بن أبي موسى يصلي بعد العصر ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بردہ بن ابی موسیٰ کو عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7545
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7545، ترقيم محمد عوامة 7425)
حدیث نمبر: 7546
٧٥٤٦ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن أشعث بن أبي الشعثاء قال: خرجت مع أبي وعمرو بن ميمون والأسود بن يزيد وأبي وائل فكانوا يصلون بعد العصر ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث بن ابی الشعثاء فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد، حضرت عمرو بن میمون، حضرت اسود بن یزید اور حضرت ابو وائل کے ساتھ نکلا پس یہ لوگ عصر کے بعددو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7546
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7546، ترقيم محمد عوامة 7426)
حدیث نمبر: 7547
٧٥٤٧ - حدثنا عفان قال: نا أبو عوانة قال: (ثنا) (١) إبراهيم (بن) (٢) محمد بن المنتشر عن أبيه أنه كان يصلي بعد العصر ركعتين فقيل له فقال: لو لم أصلهما إلا أني رأيت مسروقا يصليهما لكان ثقة ولكني سألت عائشة فقالت: كان رسول اللَّه ﷺ لا يدع ركعتين قبل الفجر وركعتين بعد العصر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر فرماتے ہیں کہ ان کے والد عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان سے اس پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں یہ دو رکعتیں نہ پڑھتاتو اچھا ہوتا لیکن میں نے حضرت مسروق کو یہ دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔ پھر میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر سے پہلے اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہ چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7547
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وبنحوه أخرجه البخاري (٥٩٠)، ومسلم (٨٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7547، ترقيم محمد عوامة 7427)
حدیث نمبر: 7548
٧٥٤٨ - حدثنا عفان قال: نا أبو عوانة قال: نا إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبي طلحة (مولى) (١) شريح قال: كان شريح يصلي ركعتين بعد العصر أخذهما عن مسروق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ مولی شریح فرماتے ہیں کہ حضرت شریح عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے اور انہوں نے یہ عمل حضرت مسروق سے لیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7548
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7548، ترقيم محمد عوامة 7428)
حدیث نمبر: 7549
٧٥٤٩ - حدثنا عفان قال: نا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه أن الزبير وعبد اللَّه ابن الزبير كانا يصليان بعد العصر ركعتين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر اور حضرت عبد اللہ بن زبیر عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7549
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7549، ترقيم محمد عوامة 7429)
حدیث نمبر: 7550
٧٥٥٠ - حدثنا وكيع عن (إسرائيل عن أبي) (١) إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي أنه صلى بفسطاطه بصفين ركعتين بعدالعصر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خیمے میں عصر کے بعد دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7550
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7550، ترقيم محمد عوامة 7430)
حدیث نمبر: 7551
٧٥٥١ - حدثنا (١) وكيع (نا) (٢) طلحة بن يحيى قال: سمعت (عبيد اللَّه) (٣) بن عبد اللَّه بن عتبة عن أم سلمة (قالت) (٤): شغل النبي ﷺ عن الركعتين بعد الظهر فصلاهما بعد العصر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد ایک مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو سنتیں نہ ادا کرسکے تو آپ نے انہیں عصر کے بعد ادا فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7551
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ طلحة صدوق، والحديث أخرجه البخاري (١٢٣٣)، ومسلم (٨٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7551، ترقيم محمد عوامة 7431)
حدیث نمبر: 7552
٧٥٥٢ - حدثنا جعفر بن عون عن مسعر عن حبيب بن (أبي) (١) ثابت عن أبي الضحى عن مسروق قال: حدثتني الصديقة بنت الصديق أن رسول اللَّه ﷺ ما دخل عليها بعد العصر إلا صلى ركعتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ مجھ سے صدیقہ بنت صدیق (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی ان کے گھر عصر کے بعد تشریف لائے آپ نے دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7552
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أعل برواية مسعر له عن عمرو بن مرة عن أبي الضحى، ولا مانع من كون الوجهين محفوظين، وأخرجه من طريق مسعر البيهقي ٢/ ٤٥٨، وأحمد (٢٦٠٤٤)، وأصل الحديث عند البخاري (٥٩١)، ومسلم (٨٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7552، ترقيم محمد عوامة 7432)
حدیث نمبر: 7553
٧٥٥٣ - حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن شعبة عن أبي إسحاق قال: سألت أبا جحيفة عنهما (فقال) (١): إن لم تنفعاك (لم تضراك) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جحیفہ سے عصر کے بعد دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر یہ تمہیں کوئی فائدہ نہ دیں گی تو کوئی نقصان بھی نہ پہنچائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7553
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الوهاب صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7553، ترقيم محمد عوامة 7433)