حدیث نمبر: 7508
٧٥٠٨ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن (همام) (١) عن قتادة في الرجل يغطي أنفه في الصلاة فقال: حدثني عكرمة أن ابن عباس كره (تغطية) (٢) الأنف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی نماز میں صرف اپناناک ڈھانپے تو یہ کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عکرمہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے مکروہ خیال فرماتے تھے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب، حضرت نخعی اور حضرت عطاء اسے مکروہ خیال فرماتے ہیں۔ حسن اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ منہ کو ڈھانپنے میں، میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
حدیث نمبر: 7509
٧٥٠٩ - قال قتادة: وكان سعيد بن المسيب والنخعي وعطاء يكرهونه.
حدیث نمبر: 7510
٧٥١٠ - وكان الحسن لا يرى به بأسا.
حدیث نمبر: 7511
٧٥١١ - قال قتادة: فأما الفم فلا أرى به بأسا.
حدیث نمبر: 7512
٧٥١٢ - حدثنا أبو داود عن أبي (خلدة) (١) عن أبي العالية أنه كره أن يغطي أنفه في الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ نے نماز میں ناک ڈھانپنے کو مکروہ خیال فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 7513
٧٥١٣ - حدثنا أبو داود عن شعبة [قال: سألت حمادا فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 7514
٧٥١٤ - حدثنا حفص عن شعبة] (١) عن قتادة عن الحسن قال: كان يكره أن يغطي أنفه وفمه جميعا ولا يرى بأسا أن يغطي فمه دون أنفه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ نماز میں ناک اور منہ دونوں کو ڈھانپا جائے۔ البتہ ناک کو چھوڑ کر صرف منہ کو ڈھانپنے میں کوئی حرج نہیں۔