کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک عورت کو کسی نماز کے وقت میں حیض آئے اور اس نے وہ نماز نہ پڑھی ہو تو پاک ہونے کے بعد اس کی قضا کرے گی یا نہیں؟
حدیث نمبر: 7424
٧٤٢٤ - حدثنا أبو بكر (١) ابن عياش عن (٢) مغيرة عن الشعبي قال: إذا دخل وقت صلاة (على) (٣) المرأة فلم تصل حتى حاضت (وهي) (٤) في وقت صلاة قضتها إذا طهرت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت کو کسی نماز کے وقت میں حیض آئے اور اس نے وہ نماز نہ پڑھی ہو تو پاک ہونے کے بعد اس کی قضاکرے گی۔
حدیث نمبر: 7425
٧٤٢٥ - حدثنا سفيان بن عيينة عن (ابن) (١) شبرمة عن الشعبي قال: إذا دخل وقت الصلاة فحاضت المرأة قبل أن تصلي (فإذا طهرت) (٢) فلتصلها حين تطهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت کو کسی نماز کے وقت میں حیض آئے اور اس نے وہ نماز نہ پڑھی ہو تو پاک ہونے کے بعد اس کی قضاکرے گی۔
حدیث نمبر: 7426
٧٤٢٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عبد الملك بن إياس عن إبراهيم قال: سألته عن امرأة دخلت في وقت صلاة فأخرتها حتى حاضت قال: تبدأ بها إذا طهرت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن ایاس کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر کسی عورت کو نماز کا وقت ملا لیکن اس نے نماز میں تاخیر کردی، اب پاک ہونے کے بعد وہ اس کی قضا کرے گی یا نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ پاک ہونے کے بعد سب سے پہلے وہی نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 7427
٧٤٢٧ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن ومحمد قالا: إذا حاضت في وقت صلاة فليس (عليها) (١) قضاء تلك الصلاة إلا أن يكون الوقت قد ذهب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت کو نماز کے وقت میں حیض آئے تو اس پر اس وقت تک اس نماز کی قضا نہیں جب تک اس کا وقت گذر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 7428
٧٤٢٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن حماد قال: ليس عليها قضاؤها لأنها في وقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس پر اس نماز کی قضا واجب نہیں۔ اس لئے کہ وہ نماز کے وقت میں تھی۔