کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: کیا آدمی وتر پڑھنے کے بعد فورا کوئی دوسری نماز پڑھ سکتا ہے؟
❮
❯
٧١٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: [حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي (سنان عن) (١) عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير أن رجلًا سأله عن الرجل يوتر ثم يصلي فقال: ينام (ثم يصلي) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ وتر پڑھنے کے بعد کوئی نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ سو جائے پھر نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7106
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7106، ترقيم محمد عوامة 6999)
٧١٠٧ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي جعفر عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره أن يوتر ثم (يصلي) (١) على إثر وتره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی وتر پڑھنے کے بعد فوراً کوئی دوسری نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7107، ترقيم محمد عوامة 7000)
٧١٠٨ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن زكريا بن سلام عن العلاء بن (بدر) (١) أن سعدًا كان يوتر ثم يصلي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن بدر فرماتے ہیں کہ حضرت سعد وتر پڑھنے کے بعد نماز پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7108
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7108، ترقيم محمد عوامة 7001)
٧١٠٩ - حدثنا فضيل بن عياض عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون الضجعة بين الوتر وبين الركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ وتر اور دو رکعتوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7109
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7109، ترقيم محمد عوامة 7002)