کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وتروں میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7068
٧٠٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن (بريد) (١) بن أبي مريم عن أبي (الحوراء) (٢) عن الحسن بن علي قال: علمني جدي ﷺ كلمات أقولهن في قنوت الوتر: "اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك (٣) إنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے نانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتروں میں پڑھنے کے لئے یہ دعا سکھائی : اے اللہ ! مجھے من جملہ ان لوگوں کے عطا فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا، اور من جملہ ان لوگوں کے عافیت عطا فرما جنہیں تو نے عافیت عطا فرمائی۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں برکت عطا فرما، جس بات کا تو نے فیصلہ کردیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا، کیونکہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے تیرے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ جس نے تجھ سے دوستی کی وہ ذلیل نہیں ہوسکتا۔ اے ہمارے رب ! تو بابرکت ہے اور بلند ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7068
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٧١٨)، وأبو داود (١٤٢٥)، والترمذي (٤٦٤)، وابن ماجه (١١٧٨)، والنسائي ٣/ ٢٤٨، وابن خزيمة (١٠٩٥)، والحاكم ٣/ ١٧٢، والبيهقي ٢/ ٢٠٩، والطبراني (٢٧٠١)، والدارمي (١٥٩٢)، وابن أبي عاصم في السنة (٣٧٤)، وابن الجارود (٢٧٣)، وأبو يعلى (٦٧٦٥)، والبغوي (٦٤٠)، وعبد الرزاق (٤٩٨٥)، وابن حبان (٧٢٢)، والطيالسي (١١٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7068، ترقيم محمد عوامة 6961)
حدیث نمبر: 7069
٧٠٦٩ - حدثنا وكيع عن هارون بن أبي (إبراهيم) (١) عن (عبد اللَّه) (٢) بن عبيد بن عمير عن ابن عباس أنه كان يقول في قنوت الوتر: لك الحمد ملء السماوات السبع وملء الأرضين السبع وملء ما بينهما من شيء بعد، أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا معطي (لما) (٣) منعت ولا ينفع ذا الجد منك (الجد) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وتر کی قنوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے : اے اللہ ! تیرے لئے ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان بھر کر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ سب بھر کر تعریف ہے۔ تعریف اور بزرگی کے حامل لوگوں کی تعریف ہم بھی تیرے لئے بیان کرتے ہیں۔ سب سے سچی بات وہ ہے جو تیرے بندے نے کہی اور ہم سب تیرے بندے ہے : جو کچھ تو دینا چاہے اس سے کوئی روک نہیں سکتا، جس سے تو منع کردے وہ کوئی عطا نہں س کرسکتا، کسی مال والے کا مال تیرے مقابلے میں اس کے کسی کام نہیں آسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7069
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7069، ترقيم محمد عوامة 6962)
حدیث نمبر: 7070
٧٠٧٠ - حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن منصور عن شيخ يكنى أبا محمد أن الحسين بن علي كان يقول في قنوت الوتر: اللهم إنك ترى ولا ترى، وأنت بالمنظر الأعلى، وإن إليك الرجعى، وإن لك الآخرة والأولى، اللهم إنا نعوذ بك من أن نذل ونخزى (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ وتر کی قنوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے : اے اللہ ! تو دیکھتا ہے اور تجھے دیکھا نہیں جاسکتا، تو اعلیٰ منظر میں ہے، تیری طرف ہی سب کو لوٹ کر جانا ہے، ابتداء اور انتہاء تیرے ہی لئے ہے۔ اے اللہ ! ہم اس بات سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ذلیل ورسوا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7070
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7070، ترقيم محمد عوامة 6963)
حدیث نمبر: 7071
٧٠٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم قال: قل في قنوت الوتر: اللهم إنا نستعينك ونستغفرك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وتر کے قنوت میں یہ الفاظ کہو : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7071
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7071، ترقيم محمد عوامة 6964)
حدیث نمبر: 7072
٧٠٧٢ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: علمنا ابن مسعود أن نقرأ في القنوت: اللهم (إنا) (١) نستعينك ونستغفرك، (ونؤمن بك) (٢) ونثني عليك الخير ولا نكفرك، ونخلع ونترك من يفجرك، اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد وإليك نسعى (ونحفد) (٣) (و) (٤) نرجو رحمتك ونخشى عذابك إن عذابك (الجد) (٥) بالكفار ملحق (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں دعائے قنوت کے لئے یہ کلمات سکھائے : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں، تیری خیر کی تعریف کرتے ہیں، تیری ناشکری نہیں کرتے، جو تیری نافرمانی کرے اسے چھوڑتے ہں اور اس سے دور ہوتے ہیں۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں، تیرے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف چلتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بیشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7072
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط، وروى ابن فضيل عنه بعد الاختلاط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7072، ترقيم محمد عوامة 6965)
حدیث نمبر: 7073
٧٠٧٣ - حدثنا هشيم (قال: أخبرنا) (١) مغيرة عن إبراهيم قال: ليس في قنوت الوتر شيء موقت، إنما هو دعاء واستغفار.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وتروں کی دعائے قنوت میں کوئی طے شدہ الفاظ نہیں بلکہ یہ دعاء و استغفار کا نام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7073
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7073، ترقيم محمد عوامة 6966)