کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ آدمی و تر کو رات کی آخری نماز بنائے
حدیث نمبر: 6866
٦٨٦٦ - [حدثنا أبو خالد قال] (١).
حدیث نمبر: 6867
٦٨٦٧ - (و) (١) حدثنا أبو اسامة قال حدثنا (عبيد اللَّه) (٢) بن عمر عن نافع (عن ابن عمر) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات کی آخری نماز وتر کو بناؤ۔
حدیث نمبر: 6868
٦٨٦٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب عن ابن عباس قال النوم على وتر خير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وتر پڑھ کر سونا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 6869
٦٨٦٩ - حدثنا أبو خالد عن العوام عن سليمان بن أبي سليمان عن أبي هريرة قال: أوصاني خليلي ﷺ (١) أن لا أنام إلا على وتر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ میں وتر پڑھ کر سوؤں۔
حدیث نمبر: 6870
٦٨٧٠ - [حدثنا ابن مسهر عن ليث عن مجاهد عن أبي هريرة قال: أوصاني خليلي ألا أنام (إلا) (١) على وتر] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ میں وتر پڑھ کر سوؤں۔
حدیث نمبر: 6871
٦٨٧١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: أما أنا فإني أوتر قبل أن أنام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 6872
٦٨٧٢ - [حدثنا أبو خالد عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: كان أبو بكر يوتر أول الليل وكان عمر يوتر آخر الليل] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رات کے ابتدائی حصہ میں اور حضرت عمر رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6873
٦٨٧٣ - حدثنا أبو معاوية وحفص عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من خاف أن (لا) (١) يقوم (٢) آخر الليل فليوتر (أول الليل) (٣) (ومن طمع أن يقوم آخر الليل فليوتر آخر الليل) (٤) فإن صلاة آخر الليل (٥) مشهودة"، (وقال: أبو معاوية) (٦) (محضورة) (٧) -وذلك فضل (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار نہیں ہوسکے گا۔ اسے چاہئے کہ وہ رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لے۔ جسے یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں جاگ جائے گا وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے۔ کیونکہ یہ وقت حضوری کی نماز کا ہے۔
حدیث نمبر: 6874
٦٨٧٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد اللَّه بن محمد (بن) (١) عقيل عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ لأبي بكر: "متى توتر؟ " قال: من أول الليل (بعد) (٢) العتمة قبل أن أنام، (و) (٣) قال لعمر: "متى توتر؟ " قال: من آخر ⦗٤٦٩⦘ الليل، قال لأبي بكر: " (أخذت) (٤) (بالحزم) (٥) "، وقال لعمر: " (أخذت) (٦) بالقوة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے پوچھا کہ آپ وتر کب پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ عشاء کے بعد سونے سے پہلے رات کے ابتدائی حصے میں۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے پوچھا کہ آپ وتر کب پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ رات کے آخری حصے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ آپ حزم پر عمل کرتے ہو اور حضرت عمر سے فرمایا کہ آپ قوت پر عمل کرتے ہو۔