کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نماز کے اعادے کا بیان
حدیث نمبر: 6824
٦٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: حدثنا (خصيب) (١) بن (زيد) (٢) ⦗٤٥٧⦘ (التميمي) (٣) قال: حدثنا الحسن أن رجلًا دخل المسجد وقد صلى النبي ﷺ فقال: "ألا رجل يقوم إلى هذا فيصلي معه"، فقام أبو بكر فصلى معه وقد كان صلى (تلك) (٤) الصلاة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا چکے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی آدمی ایسا ہے جو اس کے ساتھ نماز پڑھے ؟ حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ وہی نماز ادا کی حالانکہ آپ پہلے نماز پڑھ چکے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6824
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، الحسن تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٢٧)، والبيهقي ٣/ ٦٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6824، ترقيم محمد عوامة 6723)
حدیث نمبر: 6825
٦٨٢٥ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: كان النعمان بن مقرن على جند أهل الكوفة، وأبو موسى الأشعري على جند (أهل) (١) البصرة، وكنت بينهما فاتعدا أن يلتقيا (عندي) (٢) (غدوة) (٣) فصلى أحدهما صلاة (الغداة) (٤) بأصحابه ثم جاء وأنا أصلي فصلى معي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نعمان بن مقرن اہل کوفہ کے لشکر کے امیر تھے اور ابو موسیٰ اشعری اہل بصرہ کے لشکر کے امیر تھے۔ میں ان دونوں کے درمیان تھا۔ ان دونوں نے مجھ سے وقت مقرر کیا صبح کے وقت دونوں میرے پاس جمع ہوگئے۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی اور جب میرے پاس آئے تو میں نماز پڑھا رہا تھا۔ انہوں نے آکر میرے ساتھ بھی نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6825
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6825، ترقيم محمد عوامة 6724)
حدیث نمبر: 6826
٦٨٢٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الضحاك بن عثمان عن نافع أن ابن عمر اشتغل (ببناء) (١) له فصلى الظهر ثم مر بمسجد بني عوف وهم يصلون فصلى معهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ایک تعمیر میں مصروف تھے، اس لئے انہوں نے ظہر کی نماز وہیں پڑھ لی۔ جب وہ بنوعوف کی ایک مسجد کے پاس سے گذرے تو وہ ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے ان کے ساتھ بھی ظہر کی نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6826
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد والضحاك صدوقان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6826، ترقيم محمد عوامة 6725)
حدیث نمبر: 6827
٦٨٢٧ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: إذا صلى الرجل في بيته ثم أدرك جماعة صلى معهم إلا المغرب والفجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے اور پھر اسے جماعت کی نماز مل جائے تو فجر اور مغرب کے علاوہ باقی نمازوں میں اس جماعت کے ساتھ شریک ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6827
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6827، ترقيم محمد عوامة 6726)
حدیث نمبر: 6828
٦٨٢٨ - حدثنا حفص عن عاصم عن بكر بن عبد اللَّه المزني قال: سئل ابن عباس عن ثلاثة صلوا العصر ثم مروا بمسجد فدخل أحدهم فصلى، ومضى واحد، وجلس واحد على الباب (فقال) (١) ابن عباس: أما الذي صلى فزاد (خيرًا) (٢) إلى خير وأما الذي مضى فمضى لحاجته، وأما الذي جلس على الباب (فهو أخسهم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے تین آدمیوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ انہوں نے عصر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے پاس سے گذرے تو ایک آدمی نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، دوسرا آگے چلا گیا اور تیسرا مسجد کے دروازے کے پاس بیٹھ گاے، ان تینوں کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس نے ان کے ساتھ نماز پڑھی اس نے خیر بالائے خیر حاصل کی، جو آگے چلا گیا وہ اپنی ضرورت کے لئے چلا گیا اور جو مسجد کے دروازے پر بیٹھ گیا اس نے بےحیثیت اور معمولی کام کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6828
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6828، ترقيم محمد عوامة 6727)
حدیث نمبر: 6829
٦٨٢٩ - حدثنا حفص عن عاصم قال: خرجت مع ابن سيرين وقد صلى الجمعة والعصر فمر بمسجد يصلى فيه العصر فدخل فصلى فيه معهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم کہتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین ایک مرتبہ جمعہ اور عصر کی نماز پڑھنے کے بعد باہر نکلے، میں ان کے ساتھ تھا۔ جب وہ ایک ایسی مسجد کے پاس سے گذرے جس میں عصر کی نماز ہو رہی تھی تو وہ مسجد میں داخل ہوئے اور جماعت کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6829
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6829، ترقيم محمد عوامة 6728)
حدیث نمبر: 6830
٦٨٣٠ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول: يعيد الصلاةكلها إلا المغرب فإن خاف سلطانًا فليصل معه فإذا فرغ فليشفع بركعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ مغرب کے علاوہ باقی سب نمازیں دہرائی جاسکتی ہیں۔ اگر سلطان کا خوف ہو تو مغرب کی نماز بھی اس کے ساتھ پڑھ لے، جب وہ فارغ ہوجائے تو ایک رکعت ساتھ ملالے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6830
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6830، ترقيم محمد عوامة 6729)
حدیث نمبر: 6831
٦٨٣١ - حدثنا أبو بكر (١) ابن عياش عن أبي إسحاق قال: صليت العصر في أهلي ثم خرجت مع ابن الأسود فمررت بمسجد يصلى فيه (فقال) (٢): ادخل بنا (نصلي) (٣)، (فقلت) (٤): إني قد صليت، قال: وإن كنت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ پھر میں حضرت ابن اسود کے ساتھ نکلا، ہم ایک مسجد کے آگے سے گذرے جہاں نماز ہورہی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ چلو اس مسجد میں جاکر نماز پڑھیں۔ میں نے کہا کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ خواہ نماز پڑھ چکے ہو پھر بھی پڑھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6831
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6831، ترقيم محمد عوامة 6730)
حدیث نمبر: 6832
٦٨٣٢ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة في الرجل يصلي ⦗٤٥٩⦘ الظهر (أو) (١) العصر ثم (يدركها) (٢) في جماعة قال: ما أحب أن يتعرض لها، وإن أقيمت وهو في المسجد فليصل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص ظہر یا عصر کی نماز پڑھے، پھر اسے ان نمازوں کی جماعت بھی مل جائے تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے لئے جماعت کی تگ ودو کرنا تو لازم نہیں البتہ اگر وہ مسجد میں ہو اور جماعت کھڑی ہوجائے تو پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6832
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6832، ترقيم محمد عوامة 6731)
حدیث نمبر: 6833
٦٨٣٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبيد اللَّه بن عمر قال: صليت في منزلي الظهر ثم أتيت المسجد وهم يصلون، فسألت سالمًا فقال: صل معهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر میں ظہر کی نماز پڑھ لی پھر میں مسجد آیا تو لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں حضرت سالم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کے ساتھ نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6833
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6833، ترقيم محمد عوامة 6732)
حدیث نمبر: 6834
٦٨٣٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: تعاد (الصلوات) (٢) كلها إلا المغرب فإنها وتر فلا تجعلوها شفعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ مغرب کے علاوہ باقی سب نمازوں کو دوبارہ پڑھا جاسکتا ہے۔ مغرب کی نماز طاق ہے اسے جفت نہ بناؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6834
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6834، ترقيم محمد عوامة 6733)
حدیث نمبر: 6835
٦٨٣٥ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم أنه لم يكره أن تعاد العصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے عصر کی نماز کے اعادے کو مکروہ قرار نہیں دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6835
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6835، ترقيم محمد عوامة 6734)
حدیث نمبر: 6836
٦٨٣٦ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي عروبة قال: سألت الحسن عن الرجل يصلي المكتوبة ثم يأتي المسجد والقوم يصلون تلك الصلاة قال: يصلي معهم ما خلا (هاتين) (١) الصلاتين: الفجر والعصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی عروبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو فرض نماز پڑھنے کے بعد مسجد آئے اور اس وقت لوگ وہ نماز پڑھ رہے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ فجر اور عصر کے علاوہ باقی نمازیں ان کے ساتھ پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6836
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6836، ترقيم محمد عوامة 6735)
حدیث نمبر: 6837
٦٨٣٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: يعيد (الصلوات) (١) كلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ تمام نمازوں کا اعادہ کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6837
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6837، ترقيم محمد عوامة 6736)
حدیث نمبر: 6838
٦٨٣٨ - [حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم أنه كان لا يرى بأسًا بإعادة ⦗٤٦٠⦘ (الصلوات) (٢) كلها] (٣) إذا لم يصلهن في جماعة إلا صلاة الفجر؛ فإنه كان يكره إعادة (صلاة) (٤) الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فجر کے علاوہ باقی تمام نمازوں کے اعادے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے ، فجر کی نماز کے اعادے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6838
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6838، ترقيم محمد عوامة 6737)