کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب مغرب کی نماز کو دوسری مرتبہ پڑھے تو ساتھ ایک رکعت ملائے
حدیث نمبر: 6818
٦٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن (سعد) (١) بن عبيدة عن (صلة) (٢) بن زفر قال: أعدت (الصلوات) (٣) (كلها) (٤) مع حذيفة وشفع في المغرب بركعة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ بن زفر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تمام نمازیں دوسری مرتبہ پڑھی ہیں۔ وہ مغرب کی نماز میں ایک رکعت ملایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6818
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ جابر ضعيف، أخرجه عبد الرزاق (٣٩٣٥)، وابن المنذر في الأوسط (١١١٠)، وابن الجعد (٢٤٥٠)، ومسدد كما في المطالب (٤٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6818، ترقيم محمد عوامة 6716)
حدیث نمبر: 6819
٦٨١٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي (السوداء) (١) النهدي قال: صليت المغرب ثم صليتها في جماعة، فلما سلم الإمام قمت فشفعت بركعة فسألت عطاء فقال: أكيست.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سوداء نہدی کہتے ہیں کہ میں نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر میں نے جماعت کے ساتھ بھی وہ نماز پڑھی۔ جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اٹھ کر ایک رکعت ساتھ ملائی۔ پھر اس بارے میں، میں نے حضرت عطاء سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے عقل مندی کا کام کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6819
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6819، ترقيم محمد عوامة 6717)
حدیث نمبر: 6820
٦٨٢٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: إذا صلى المغرب وحده ثم صلى في جماعة شفع بركعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اکیلے مغرب کی نماز پڑھ لے پھر اسے جماعت کے ساتھ بھی پڑھے تو اس کے ساتھ ایک رکعت ملائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6820
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6820، ترقيم محمد عوامة 6718)
حدیث نمبر: 6821
٦٨٢١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (عمرو) (١) بن حسان (المسلي) (٢) عن (وبرة ابن) (٣) عبد الرحمن قال: صليت أنا وإبراهيم النخعي أو عبد الرحمن بن الأسود المغرب ثم جئنا إلى المسجد وهم في (صلاة) (٤) المغرب، فدخلنا معهم فصلينا، فلما ⦗٤٥٦⦘ سلم الإمام (أرسلت) (٥) أنا] (٦) وعبد الرحمن بن الأسود وقام إبراهيم فشفع بركعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وبرہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے اور ابراہیم نخعی اور حضرت عبد الرحمن بن اسود نے مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر ہم مسجد کی طرف آئے تو لوگ ابھی مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم بھی ان کے ساتھ جماعت میں داخل ہوگئے۔ جب امام نے سلام پھیرا تو میں اور عبدا لرحمن بن اسود مبتلائے شک ہوئے کہ اب کیا کریں ؟ جبکہ ابراہیم نے ایک رکعت ساتھ ملالی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6821
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6821، ترقيم محمد عوامة 6719)
حدیث نمبر: 6822
٦٨٢٢ - حدثنا حفص عن ليث عن نعيم عن (صلة) (١) عن حذيفة أنه صلى الظهر مرتين والعصر مرتين (والمغرب مرتين) (٢) وشفع في المغرب بركعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں دو دو مرتبہ پڑھیں اور مغرب کی نماز میں ایک رکعت کو ساتھ ملایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6822
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف، ونعيم لم يسمع من صلة، أخرجه مسدد كما في المطالب (٤٤٣)، وعبد الرزاق (٣٩٣٥)، وابن المنذر في الأوسط ٢/ ٤٠١، وابن الجعد (٢٤٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6822، ترقيم محمد عوامة 6720)
حدیث نمبر: 6823
٦٨٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق أنه سئل عن رجل صلى المغرب وحده ثم أعادها (في) (١) جماعة (قال) (٢): يضيف إليها ركعة. حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن إبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: يشفع بركعة يعني إذا أعاد المغرب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی مغرب کی نماز کو اکیلے پڑھنے کے بعد جماعت میں دوبارہ پڑھے تو اسے کیسے ادا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے ساتھ ایک رکعت ملائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6823
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع حكمًا؛ الحارث ضعيف، وحجاج وأبو إسحاق مدلسان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6823، ترقيم محمد عوامة 6721)