حدیث نمبر: 6667
٦٦٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن برد (٢) بن أبي زياد عن أبي فاختة عن ابن عمر قال: شد حقوك في الصلاة ولو بعقال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نماز میں اپنے ازار کی جگہ کو اچھی طرح باندھو خواہ رسی سے باندھ لو۔
حدیث نمبر: 6668
٦٦٦٨ - حدثنا عبدة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يصلي إلا وهو (مؤتزر) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ازار پہن کر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6669
٦٦٦٩ - [حدثنا ابن علية عن أيوب قال: رأيت (سالم) (١) بن عبد اللَّه يصلي وهو مؤتزر (٢)] (٣) فوق قميصه أو قال: (جبته) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کو قمیص کے اوپر ازار باندھتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6670
٦٦٧٠ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن أبي مالك أنه كان يشد حقوه في الصلاة بخيط أو بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مالک نماز میں دھاگے یا کسی اور چیز سے ازار کو باندھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6671
٦٦٧١ - حدثنا شريك عن أبي الهيثم قال: قلت لإبراهيم: أصلي بالليل في القميص والقباء؟ قال: شد حقوك بالإزار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہیثم کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ کیا میں قمیص یا قباء میں تہجد کی نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے کو لہوں کو ازار کی جگہ سے باندھ لو۔
حدیث نمبر: 6672
٦٦٧٢ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن الشعبي قال: شد حقوك ولو بعقال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نماز میں اپنی ازار کی جگہ کو اچھی طرح باندھو خواہ رسی استعمال کرنی پڑے۔
حدیث نمبر: 6673
٦٦٧٣ - [حدثنا وكيع عن عبد الملك بن عطاء البكائي عن يزيد (بن) (١) الأصم قال: كان يقال: شد حقوك ولو بعقال] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ نماز میں اپنی ازار کی جگہ کو اچھی طرح باندھو خواہ رسی استعمال کرنی پڑے۔
حدیث نمبر: 6674
٦٦٧٤ - [حدثنا محمد (بن أبي عدي) (١) عن شعبة عن وضاح أنهم سافروا مع جابر بن زيد فكان يؤمهم مؤتزرًا (٢) فوق القميص] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وضاح فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن زید کے ساتھ سفر کیا وہ قمیص کے اوپر ازار کی جگہ کو باندھ کر نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6675
٦٦٧٥ - حدثنا محمد بن (أبي) (١) عدي عن ابن عون عن محمد أنه كان يكره للرجل والمرأة أن (يصليا) (٢) بغير إزار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد مرد اور عورت کے لئے اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ وہ بغیر ازار کے نماز پڑھیں۔
حدیث نمبر: 6676
٦٦٧٦ - حدثنا زيد بن حباب عن (جهير) (١) بن يزيد عن ابن (سيرين) (٢) (قال) (٣): سألته عن الرجل يصلي (مؤتزرًا) (٤) فوق القميص فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
جہیر بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے سوال کیا کہ کیا آدمی قمیص کے اوپر ازار باندھ کر نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 6677
٦٦٧٧ - حدثنا يحيى بن يمان عن عبد الرحمن (١) الأشجعي عن ابن (معقل) (٢) ⦗٤٢٥⦘ قال: شد حقوك (ولو بعقال) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن معقل فرماتے ہیں کہ نماز میں اپنی ازار کی جگہ کو اچھی طرح باندھو خواہ رسی استعمال کرنی پڑے۔
حدیث نمبر: 6678
٦٦٧٨ - [حدثنا يحيى بن يمان عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: شد حقوك بشيء] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نماز میں اپنی ازار کی جگہ کو اچھی طرح باندھو خواہ کوئی چیز استعمال کرنی پڑے۔
حدیث نمبر: 6679
٦٦٧٩ - حدثنا (يحيى) (١) بن يمان عن الحارث بن (ثقف) (٢) عن الحسن قال: شد حقوك ولو بعقال.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ نماز میں اپنی ازار کی جگہ کو اچھی طرح باندھو خواہ رسی استعمال کرنی پڑے۔