حدیث نمبر: 6633
٦٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس بن عبيد عن ابن سيرين عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب رأى رجلا يصلي (و) (١) عليه قلنسوة (بطانتها) (٢) من جلود الثعالب قال: فألقاها عن رأسه وقال: ما يدريك لعله ليس بذكي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک آدمی کو دیکھا جو لومڑی کی کھال سے بنی ٹوپی میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے اس ٹوپی کو اس کے سر سے اتار دیا اور فرمایا کہ کیا معلوم اسے ذبح نہ کیا گیا ہو ؟
حدیث نمبر: 6634
٦٦٣٤ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا منصور (عن) (١) الحكم عن علي (٢) أنه (كان) (٣) يكره الصلاة في جلود الثعالب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لومڑی کی کھال میں نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 6635
٦٦٣٥ - حدثنا حفص عن ليث عن حبيب عن سعيد بن جبير وعن أشعث بن عبد الملك عن الحسن أنهما قالا: البس جلود الثعالب ولا تصل فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اور حسن فرماتے ہیں کہ لومڑی کی کھال کے بنے لباس پہن لو لیکن ان میں نماز نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 6636
٦٦٣٦ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان لا يرى بذلك بأسًا إذا (دبغت) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن لومڑی کی کھال کے بنے لباس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے بشرطیکہ اسے دباغت دی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 6637
٦٦٣٧ - حدثنا هشيم قال: حدثنا يونس عن عمرو بن سعيد قال: رأيت أبا ⦗٤١٧⦘ العالية دخل المسجد فصلى (بهم) (١) وعليه قلنسوة (بطانتها) (٢) جلود (الثعالب) (٣) فأخذها من رأسه ووضعها في كمه فلما قضى صلاته قال: قلت له: رأيتك أخذت قلنسوتك من رأسك فوضعتها في (كمك، فقال: إني كرهت) (٤) أن أصلي فيها وكرهت أن أضعها فتسرق فلذلك جعلتها في كم قميصي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت ابو عالیہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے، ان کے سر پر لومڑی کی کھال کی بنی ٹوپی تھی۔ جب وہ نماز پڑھنے لگے تو اس ٹوپی کو اتار کر اپنی آستین میں رکھ لیا۔ جب انہوں نے نماز مکمل فرمالی تو میں نے کہا آپ نے اپنی ٹوپی کو اتار کر اپنی آستین میں کیوں رکھ لیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس میں نماز پڑھنا بھی پسند نہ کیا اور اس کو رکھنا بھی مجھے گوارا نہ ہوا کہ کہیں چوری نہ ہوجائے۔ لہٰذا میں نے اسے اپنی آستین میں ڈال لیا۔
حدیث نمبر: 6638
٦٦٣٨ - (حدثنا وكيع عن) (١) سفيان عن (سدير) (٢) الصيرفي عن أبي جعفر قال: كان (لعلي) (٣) بن الحسين (سبنجون) (٤) (ثعالب يلبسه فإذا) (٥) صلى نزعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین کے پاس لومڑی کی کھال کا بنا ایک آسمانی رنگ کا لباس تھا۔ جب وہ نماز پڑھنے لگتے تو اسے اتار دیتے تھے۔