کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: سوئے ہوئے اور باتیں کرنے والوں کے درمیان نماز پڑھنے کا حکم
حدیث نمبر: 6623
٦٦٢٣ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): حدثنا إسماعيل بن علية عن ليث عن مجاهد يرفعه قال: لا (تأتم) (٢) بنائم ولا متحدث (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سوئے ہوئے اور باتیں کرنے والے کے پیچھے نماز مت پڑھو۔
حدیث نمبر: 6624
٦٦٢٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان (عن) (١) عبد الكريم (٢) أبي أمية عن مجاهد أن النبي ﷺ نهى أن نصلي (٣) خلف النوام والمتحدثين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوئے ہوئے لوگوں اور باتیں کرنے والوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 6625
٦٦٢٥ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: حدثنا (١) يوسف بن عبد اللَّه بن الحارث قال: كنت جالسًا إلى جنب حميد بن عبد الرحمن فالتفت فإذا رجل يصلي خلفه فقال له: إما أن تحول عني وإما أن أقوم عنك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں حضرت حمید بن عبد الرحمن کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ پیچھے مڑے تو ایک آدمی ان کے پیچھے نما زپڑھ رہا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ یا تو تم اپنی جگہ بدل لویا میں یہاں سے اٹھ جاتا ہوں۔
حدیث نمبر: 6626
٦٦٢٦ - حدثنا الثقفي عن خالد (الحذاء) (١) عن عبد الرحمن بن سعيد بن وهب عن أبيه عن ابن مسعود أنه كره أن يأتم بقوم يتحدثون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ باتیں کرنے والوں کے پیچھے نما زپڑھی جائے۔
حدیث نمبر: 6627
٦٦٢٧ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن أبي إسحاق عن معدي كرب عن عبد اللَّه قال: لا تأتم بقوم يمترون أو يلغون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو جو گفتگو کررہے ہوں یا فضول باتیں کررہے ہوں۔
حدیث نمبر: 6628
٦٦٢٨ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر (عن) (١) ميمون قال: كان ابن عمر لا يصلي خلف رجل لا يصلي إلا يوم (الجمعة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سوائے جمعہ کے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے جو نماز نہ پڑھ رہا ہو۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرت عبد الکریم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سوائے جمعہ کے کی باتیں کرنے والے شخص کے پیچھے بھی نماز نہیں پڑھتے تھے جو نماز نہ پڑھ رہا ہو۔
حدیث نمبر: 6629
٦٦٢٩ - قال. فذكرت ذلك لعبد الكريم فقال: كان ابن عمر لا (يصلي) (١) خلف رجل يتكلم إلا يوم الجمعة (٢).
حدیث نمبر: 6630
٦٦٣٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أشعث بن أبي الشعثاء عن سعيد ابن جبير قال: (إذا) (١) كانوا يتحدثون بذكر اللَّه (٢) فلا بأس أن يأتم بهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب لوگ اللہ کے ذکر کی بات چیت میں مصروف ہوں تو ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 6631
٦٦٣١ - حدثنا (عبيد) (١) اللَّه بن موسى عن عثمان بن (٢) الأسود عن مجاهد قال: أصلي (٣) وراء قاعد أحب إلي من (أن) (٤) أصلي وراء نائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ بیٹھے ہوئے کے پیچھے نماز پڑھنا میرے نزدیک سوئے ہوئے کے پیچھے نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 6632
٦٦٣٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الربيع بن صبيح (١) عن قيس بن سعد عن طاوس أنه كره أن يأتم بنائم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ کسی سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔