حدیث نمبر: 6606
٦٦٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن عبد الملك عن عطاء عن زيد ابن خالد الجهني قال: قال رسول اللَّه ﷺ: ["صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔
حدیث نمبر: 6607
٦٦٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ] (١): إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبًا من صلاته فإن اللَّه جاعل في بيته من صلاته (خيرًا) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز ادا کرلے تو اپنی نماز کا کچھ حصہ گھر کے لئے بھی رکھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کی وجہ سے تمہارے گھروں میں خیر ڈال دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 6608
٦٦٠٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر (١) عن أبي سعيد عن النبي ﷺ بمثل حديث أبي معاوية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 6609
٦٦٠٩ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي - اللَّه عليه وسلم - أنه قال: "صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔
حدیث نمبر: 6610
٦٦١٠ - حدثنا وكيع عن (عبد اللَّه) (١) بن سعيد عن سالم أبي النضر عن (بسر) (٢) ابن سعيد عن زيد بن ثابت قال: قال النبي ﷺ: "أفضل الصلاة صلاة (المرء) (٣) في بيته إلا (المكتوبة) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فرضوں کے علاوہ آدمی کی افضل ترین نماز وہ ہے جو اپنے گھر میں پڑھے۔
حدیث نمبر: 6611
٦٦١١ - حدثنا أبو أسامة عن أبي العميس عن القاسم قال: (كانت) (١) أفضل صلاة عبد اللَّه في بيته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کی نفل نماز گھر میں ہوا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 6612
٦٦١٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن هلال بن (يساف) (١) عن ضمرة ابن حبيب عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: "تطوع الرجل في بيته يزيد على تطوعه عند الناس كفضل صلاة الرجل في جماعة على صلاته وحده" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ گھر میں نفل نماز کا ثواب لوگوں کے سامنے نفل پڑھنے سے اتنا زیادہ ہے جتنا جماعت کی نماز کا ثواب اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 6613
٦٦١٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن الشعبي قال: كان شريح ومسروق كلاهما له بيت (يطيل) (١) فيه الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح اور حضرت مسروق دونوں کے پاس کمرہ تھا جس میں لمبی نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6614
٦٦١٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن (حسان) (١) بن عطية قال: صلاة الرجل عند أهله من السر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن عطیہ فرماتے ہیں کہ آدمی کا اپنے گھر والوں کے پاس نماز پڑھنا بھی ایک راز ہے۔
حدیث نمبر: 6615
٦٦١٥ - حدثنا الحسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تجعلوا بيوتكم (مقابر) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔
حدیث نمبر: 6616
٦٦١٦ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن صالح مولى التوأمة عن ⦗٤١٢⦘ السائب بن (خباب) (١) قال: كنت لا أصلي إلا في المسجد فقال لي زيد بن ثابت: صلاة الرجل في بيته أفضل من صلاته في المسجد إلا المكتوبة وصلاة الرجل في بيته نور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن خباب فرماتے ہیں کہ میں صرف مسجد میں نماز پڑھا کرتا تھا۔ حضرت زید بن ثابت نے مجھ سے فرمایا کہ فرضوں کے علاوہ باقی نمازیں گھر میں پڑھنا مسجد میں پڑھنے سے بہتر ہے۔ گھر میں آدمی کی نماز نور ہے۔
حدیث نمبر: 6617
٦٦١٧ - حدثنا أبو الأحوص عن طارق عن عاصم (بن) (١) عمرو أن نفرًا من أهل العراق قدموا على عمر فسألوه عن صلاة الرجل في بيته فقال عمر: ما سألني عنها أحد (مذ) (٢) سألت رسول اللَّه ﷺ عنها فقال: "صلاة الرجل في بيته نور فنوروا بيوتكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس عراق کے کچھ لوگ آئے۔ انہوں نے گھر میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا ہے اس کے بعد سے کسی نے مجھ سے اس بارے میں نہیں پوچھا، آپ نے فرمایا تھا کہ آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا اس کے لئے نور ہے۔ ( حضرت عمر فرماتے ہیں کہ) اپنے گھروں کو منور کرو۔