حدیث نمبر: 6597
٦٥٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن (سعد) (١) بن سعيد قال: حدثني محمد بن إبراهيم عن قيس بن (عمرو) (٢) قال: رأى رسول اللَّه ﷺ رجلًا يصلي بعد صلاة الصبح ركعتين فقال رسول اللَّه ﷺ: "صلاة الصبح (٣) مرتين؟ " فقال الرجل: إني لم أكن صليت الركعتين اللتين قبلهما فصليتهما الآن. فسكت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ کیا فجر کی نماز دو مرتبہ ہوتی ہے ؟ اس آدمی نے کہا کہ میں نے فجر کے فرضوں سے پہلے سنتیں نہیں پڑھی تھیں، اس لئے انہیں اب ادا کررہا ہوں۔ اس کی یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمالی۔
حدیث نمبر: 6598
٦٥٩٨ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الملك عن عطاء أن رجلًا صلى مع النبي ﷺ صلاة الصبح فلما قضى النبي الصلاة قام الرجل فصلى الركعتين فقال النبي ﷺ: "ما هاتان الركعتان"، فقال: يا رسول اللَّه جئت وأنت في الصلاة ولم أكن صليت الركعتين قبل الفجر (فكرهت) (١) أن أصليهما وأنت تصلي فلما قضيت الصلاة قمتُ فصليتُ الصلاة فضحك رسول اللَّه ﷺ (فلم) (٢) يأمره ولم ينهه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد ایک آدمی نے کھڑے ہوکر دو رکعتیں ادا کیں۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسی رکعتیں تھیں ؟ اس نے کہا کہ جب میں مسجد آیا تو آپ نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے فجر سے پہلے کی دو سنتیں نہیں پڑھی تھیں، میں نے آپ کی نماز کے دوران انہیں پڑھنا پسند نہ کیا۔ جب آپ نے نماز مکمل فرمالی تو پھر میں نے انہیں ادا کیا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیئے اور انہیں نہ کسی بات سے منع کیا اور نہ کسی بات کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 6599
٦٥٩٩ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا شيخ -يقال (له) (١): مسمع بن ثابت- قال: رأيت عطاء فعل مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسمع بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء کو بھی یونہی کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6600
٦٦٠٠ - حدثنا ابن علية عن ليث عن الشعبي قال: إذا فاتته (ركعتا) (١) الفجر صلاهما بعد [صلاة الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب فجر سے پہلے کی دو سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز کے بعد پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 6601
٦٦٠١ - حدثنا غندر عن شعبة عن يحيى بن سعيد قال: سمعت القاسم يقول: لو لم أصلهما حتى أصلي الفجر صليتهما بعد] (١) طلوع الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ اگر میں ان سنتوں کو فجر کے فرضوں سے پہلے نہ پڑھوں تو انہیں طلوع شمس کے بعد پڑھوں گا۔
حدیث نمبر: 6602
٦٦٠٢ - حدثنا وكيع عن فضيل (١) بن غزوان عن نافع عن ابن عمر أنه جاء إلى القوم وهم في الصلاة ولم يكن صلى الركعتين فدخل معهم ثم جلس في مصلاه فلما أضحى قام (فقضاهما) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ فجر کی نماز کے وقت آئے تو لوگ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے ابھی تک فجر کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ جماعت کے ساتھ شامل ہوگئے، پھر نماز کی جگہ بیٹھے رہے اور چاشت کے وقت ان رکعتوں کی قضا کی۔
حدیث نمبر: 6603
٦٦٠٣ - حدثنا وكيع عن يزيد وربيع عن (ابن) (١) سيرين عن ابن عمر أنه صلاهما بعد (ما) (٢) أضحى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چاشت کے بعد فجر کی سنتوں کی قضا کی۔
حدیث نمبر: 6604
٦٦٠٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: لا تُقضى (ركعتا) (١) الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ فجر کی سنتوں کی قضا نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 6605
٦٦٠٥ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق عن عطية قال: رأيت ابن عمر (قضاهما) (١) حين سلّم الإمام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد سنتیں ادا کرتے دیکھا ہے۔