کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد لیٹنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 6540
٦٥٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) هشيم قال: (أنا) (٢) حصين عن مجاهد قال: صحبت ابن عمر في السفر والحضر فما رأيته اضطجع بعد ركعتي الفجر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں سفر وحضر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا، میں نے انہیں کبھی فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد لیٹتے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 6541
٦٥٤١ - حدثنا محمد بن فضيل عن الحسن بن عبيد اللَّه قال: كان إبراهيم يكره الضجعة بعد ما يصلي الركعتين اللتين قبل الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم فجر کی دو سنتوں کے بعد لیٹنے کو مکروہ قراردیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6542
٦٥٤٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (شعبة) (١) عن محمد بن المنكدر عن سعيد بن المسيب قال: رأى عمر (٢) رجلًا اضطجع بعد الركعتين فقال: أحصبوه أو أَلَا حصبتموه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو فجر کی دو سنتوں کے بعد لیٹے دیکھا تو فرمایا کہ تم اسے روکو۔
حدیث نمبر: 6543
٦٥٤٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: ما بال الرجل إذا صلى الركعتين يتمعك (١) كما (تتمعك) (٢) الدابة والحمار إذا سلم قعد فصلى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آدمی کو کیا ہوا جو فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد جانور یا گدھے کی طرح زمین پر پڑجاتا ہے ؟ جب اس نے سلام پھیرلیا تو نفلوں کا فرضوں سے انفصال ہوگیا۔
حدیث نمبر: 6544
٦٥٤٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: سألت ابن عمر عن ضجعة الرجل على يمينه (بعد الركعتين) (٢) قبل صلاة الفجر فقال: يتلعب بكم الشيطان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ شیطان تمہارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے تم سے یہ عمل کراتا ہے۔
حدیث نمبر: 6545
٦٥٤٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عطاء بن السائب عن القاسم بن أبي أيوب عن سعيد بن جبير قال: لا تضطجع بعد الركعتين قبل الفجر واضطجع بعد الوتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد نہ لیٹو بلکہ وتر پڑھنے کے بعد لیٹو۔
حدیث نمبر: 6546
٦٥٤٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا عيسى الخياط قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: ما بال أحدكم إذا صلى الركعتين (يتمرغ) (١)، (يكفيه) (٢) التسليم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ تم فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد زمین پر کیوں پڑجاتے ہو ؟ سلام پھیرنا کافی ہے۔
حدیث نمبر: 6547
٦٥٤٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الحسن بن (عبيد اللَّه) (١) عن إبراهيم قال: هي ضجعة الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ یہ لیٹنا شیطان کی طرف سے ہے۔
حدیث نمبر: 6548
٦٥٤٨ - حدثنا إسحاق الأزرق عن هشام عن الحسن أنه كان لا يعجبه أن يضطجع بعد ركعتي الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کو فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد لیٹنا پسند نہ تھا۔
حدیث نمبر: 6549
٦٥٤٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن زيد (١) العمي عن أبي الصديق الناجي قال: رأى ابن عمر قومًا اضطجعوا بعد ركعتي الفجر فأرسل إليهم ⦗٣٩٦⦘ فنهاهم فقالوا: (نريد) (٢) بذلك السنة، فقال ابن عمر: ارجع إليهم فأخبرهم أنها بدعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الصدیق ناجی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد لیٹ گئے۔ آپ نے آدمی بھیج کر انہیں اس سے منع کیا توا نہوں نے کہا ہم تو سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے۔
حدیث نمبر: 6550
٦٥٥٠ - حدثنا وكيع عن أبيه عن منصور عن (إبراهيم عن) (١) الأسود بن يزيد أنه كان إذا صلى (ركعتي) (٢) الفجر احتبى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن یزید فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد حبوہ بنا کر بیٹھ جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 6551
٦٥٥١ - حدثنا هشيم قال: (نا) (١) حصين (٢) و (مغيرة) (٣) عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: ما هذا التمرغ بعد ركعتي الفجر كتمرغ الحمار؟ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ فجر کی دو سنتیں پڑھنے کے بعد گدھے کی طرح زمین پر پڑنا نہ جانے کہاں سے آگیا ؟