کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی طلوع فجر سے پہلے نماز شروع کرے اور اس دوران فجر طلوع ہو جائے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 6511
٦٥١١ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو أسامة عن ابن عون قال: سألت إبراهيم عن (الرجل) (١) يوتر من آخر الليل وقد بقي عليه من الليل (قال) (٢) (فليستفتح) (٣) (فليقرأ) (٤) فإذا طلع الفجر ركع ركعة ثم يضم إليها أخرى فتكون ركعتي الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص رات کے بالکل آخری حصہ میں وتر کی نماز شروع کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تکبیر تحریمہ کہہ کر قراءت کرے، جب فجر طلوع ہوجائے تو وہ ایک رکعت پڑھے، پھر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے، یہ دو رکعتیں فجر کی دوسنتیں ہوجائیں گی۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرت محمد بن سیرین سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے ؟
حدیث نمبر: 6512
٦٥١٢ - قال: فذكرت ذلك لمحمد بن سيرين فقال: ما أدري ما هذا.
حدیث نمبر: 6513
٦٥١٣ - حدثنا (كثير) (١) بن هشام عن جعفر بن (برقان قال: قلت) (٢) لميمون: أقرأ من (الليل) (٣) بسورة طويلة فيدركني الصبح حتى أسفر جدًا فأضيف إليها أخرى فأجعلها ركعتي الفجر قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت میمون سے کہا کہ میں رات کی نماز میں لمبی سورت پڑھوں اور اس دوران صبح ہوجائے، پھر روشنی ہونے لگے تو کیا میں اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا کر اس نماز کو فجر کی سنتیں بنا سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، بنا سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 6514
٦٥١٤ - حدثنا يزيد عن جرير بن حازم عن يعلى بن حكيم (عن) (١) مجاهد ⦗٣٨٨⦘ قال: إن شاء الرجل افتتح ركعة من آخر الليل يطول فيها حتى إذا (أصبح) (٢) ركع ثم ضم إليها أخرى ثم اعتد (بهما) (٣) من ركعتي الفجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر آدمی چاہے تو رات کے آخر میں نماز شروع کرے اور اس کی رکعت کو لمبا کرے، یہاں تک کہ جب صبح ہوجائے تو رکوع کرے، پھر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے، پھر ان دونوں رکعتوں کو فجر کی دو سنتیں شمار کرے۔