کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی کی آنکھوں میں تکلیف ہو اور اسے سیدھا لیٹ کر نماز پڑھنے کو کہا جائے
حدیث نمبر: 6430
٦٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن أبي العميس عن القاسم (قال) (١): ذهب بصر عبيد اللَّه (بن عبد اللَّه) (٢) بن عتبة (فأتى الطبيب) (٣) فقال: أداويك (على) (٤) أن تستلقي سبعة أيام (٥) لا تصلي إلا مضطجعًا فأبى وكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عبید اللہ بن عتبہ کی بینائی ختم ہوگئی تو ایک طبیب آیا اور اس نے کہا کہ میں آپ کا علاج کروں گا لیکن آپ کو سات دن تک سیدھا لیٹنا ہوگا اور آپ نماز بھی لیٹ کر ادا کریں گے۔ انہوں نے اس سے انکار کردیا اور اس عمل پر ناگواری کا اظہار فرمایا۔
حدیث نمبر: 6431
٦٤٣١ - حدثنا (ابن) (١) مهدي عن سفيان عن عاصم عن أبي وائل أنه (وقع) (٢) في عينيه الماء فقيل له: تستلقي سبعًا (فكره ذلك) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم کہتے ہیں کہ حضرت ابو وائل کی آنکھوں میں پانی آگیا ان سے کہا گیا کہ آپ کو بطور علاج کے سات دن تک لیٹنا پڑے گا۔ انہوں نے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا۔
حدیث نمبر: 6432
٦٤٣٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن ابن عباس قال: لما (كف) (١) بصره أتاه رجل فقال (٢) له: إن صبرت لي ⦗٣٦٨⦘ (سبعًا) (٣) لا تصلي إلا مستلقيًا داويتك (و) (٤) رجوت أن تبرأ (عيناك) (٥)، قال: فأرسل ابن عباس إلى عائشة وأبي هريرة وغيرهما من (أصحاب محمد ﷺ) (٦) قال: (فكلهم) (٧) (يقول) (٨): أرأيت إن مت في هذه السبع كيف تصنع بالصلاة؟ قال: فترك عينيه (٩) (لم يداوها) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی ختم ہوگئی تو ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اگر آپ سات دن تک لیٹ کر نماز پڑھنے پر صبر کرلیں تو میں آپ کا علاج کرسکتا ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ کی آنکھیں ٹھیک ہوجائیں گی۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابوہریرہ اور دوسرے صحابہ کرام کے پاس آدمی بھیج کر ان سے مشورہ کیا۔ سب نے یہی فرمایا کہ اگر ان سات دنوں میں آپ کا انتقال ہوگیا تو آپ کی نمازوں کا کیا ہوگا ؟ اس پر انہوں نے اپنی آنکھوں کا علاج نہ کروایا۔
حدیث نمبر: 6433
٦٤٣٣ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن جابر عن أبي الضحى أن ابن عباس (وقع) (١) في (عينيه) (٢) الماء فقيل (له) (٣): (تستلقي) (٤) سبعًا ولا تصلي إلا مستلقيًا، فبعث إلى عائشة وأم سلمة فسألهما (فنهتاه) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ضحی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آنکھوں میں پانی اتر آیا، ان سے کہا گیا کہ آپ کو سات دن تک لیٹ کر نما زپڑھنی ہوگی۔ انہوں نے اس بارے میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہ سے استفسار فرمایا تو ان دونوں نے انہیں منع کردیا۔