حدیث نمبر: 6392
٦٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) جرير عن قابوس عن أبيه أن عمر دخل المسجد فركع فيه ركعة فقالوا له (فقال) (٢): إنما هو تطوع فمن (شاء زاد، ومن) (٣) شاء نقص (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ایک مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں ایک رکعت پڑھی، لوگوں نے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ نفل ہے، جو چاہے کم پڑھے اور جو چاہے زیادہ۔
حدیث نمبر: 6393
٦٣٩٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن قابوس (بن) (١) أبي ظبيان عن أبيه ⦗٣٥٨⦘ أن عمر بن الخطاب مر في المسجد فركع ركعة فقيل له: إنما ركعت ركعة فقال: إنما هو تطوع وكرهت أن أتخذه طريقًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ایک مسجد سے گذرے تو انہوں نے ایک رکعت پڑھی، ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ نفل ہے، مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ میں مسجد کو راستہ بنا لوں۔
حدیث نمبر: 6394
٦٣٩٤ - حدثنا شريك عن سماك قال: حدثني من رأى طلحة بن (عبيد اللَّه) (١) مر في المسجد (فركع ركعة ثم خرج) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ایک مسجد سے گزرے، انہوں نے اس میں ایک رکعت پڑھی اور پھر چلے گئے۔
حدیث نمبر: 6395
٦٣٩٥ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا شريك عن سماك، قال: (أخبرني) (١) من رأى طلحة بن عبيد اللَّه مر في المسجد فسجد سجدة] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن عبید اللہ مسجد سے گذرے اور انہوں نے اس میں ایک رکعت پڑھی۔
حدیث نمبر: 6396
٦٣٩٦ - حدثنا وكيع عن سيف بن ميسرة عن أبي (سعيد) (١) قال: رأيت الزبير ابن العوام خرج من (القصر) (٢) فمر بالمسجد فركع ركعة أو سجد سجدة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عوام ایک محل سے نکلے اور مسجد سے گذرے اور اس میں ایک رکعت پڑھی۔