٦٢٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) وكيع قال: حدثنا (٢) سفيان عن حماد عن إبراهيم، قال: إذا صلى قاعدًا جعل قيامه متربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھے وہ اپنے قیام کو چار زانو بنا لے۔
٦٢٨٣ - حدثنا أسباط بن محمد (عن) (١) مطرف عن سليمان بن بزيع، قال: دخلت على سالم وهو (يصلي) (٢) جالسًا، (فإذا كان الجلوس جثا لركبتيه؛ وإذا كان القيام تربع) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان بن بزیع فرماتے ہیں کہ میں حضرت سالم کے پاس حاضر ہوا وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ جب ان کو بیٹھنا ہوتا تو گھٹنوں کو زمین پر رکھ دیتے اور جب قیام کرنا ہوتا تو چار زانو بیٹھ جاتے۔
٦٢٨٤ - حدثنا وكيع قال: (قال) (١) سفيان: إذا صلى جالسًا (جعل) (٢) قيامه متربعًا، فإذا أراد أن يركع ركع وهو متريع، فإذا أراد أن يسجد ثنى رجله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بیٹھ کر نماز پڑھنا چاہے تو قیام کو چار زانو بنائے۔ جب رکوع کرنا چاہے تو چار زانو رکوع کرے اور جب سجدہ کرنا چاہے تو ٹانگ کو موڑے گا۔