کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی شخص کسی کے یہاں مہمان ہو تو وہ امامت نہ کرائے
حدیث نمبر: 6261
٦٢٦١ - حدثنا (وكيع) (١) قال: حدثنا (أبان بن يزيد) (٢) العطار (٣) عن بديل بن ميسرة العقيلي عن أبي عطية رجل منهم، قال: كان مالك (بن) (٤) الحويرث يأتينا في مصلانا هذا (يحدث) (٥) فحضرت الصلاة فقلنا (٦) له: تقدم فقال: لا، (يتقدم) (٧) بعضكم حتى أحدثكم لم لا أتقدم سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من زار قومًا فلا يؤمهم (وليؤمهم) (٨) رجل منهم" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعطیہ کہتے ہیں کہ حضرت مالک بن حویرث ہماری نماز کی جگہ تشریف لاتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو ہم ان سے کہتے کہ آپ نماز پڑھائیں۔ وہ فرماتے کہ تم میں سے کوئی نماز پڑھائے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں امامت کیوں نہیں کروا رہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی سے ملاقات کے لئے جائے تو ان کو امامت نہ کرائے بلکہ اسی قوم کا کوئی آدمی امامت کرائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6261
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6261، ترقيم محمد عوامة 6175)