حدیث نمبر: 6173
٦١٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن ثابت البناني (١) [عن ابن (أبي ليلى (عن) (٢) أبي ليلى] (٣) قال: صليت إلى جنب النبي ﷺ وهو يصلي بالليل تطوعًا فمر بآية فقال: "أعوذ باللَّه من النار وويل لأهل النار" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نفل نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے ایک آیت پڑھی تو اس کے بعد فرمایا ” میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور جہنم والوں کے لئے ہلاکت ہے “
حدیث نمبر: 6174
٦١٧٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة أنها مرت بهذه الآية: ﴿فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ﴾ [الطور: ٢٧]، فقالت: اللهم من علينا وقِنا عذاب السموم إنك أنت البر الرحيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی { فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ } اس کے بعد فرمایا ” اے اللہ ! ہم پر احسان فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما، بیشک تو بھلائی کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے “ حضرت اعمش سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے یہ دعا نماز میں کی تھی، انہوں نے فرمایا ہاں نماز میں کی تھی۔
حدیث نمبر: 6175
٦١٧٥ - فقيل للأعمش: في الصلاة؟ فقال: في الصلاة (١).
حدیث نمبر: 6176
٦١٧٦ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن عبد الوهاب عن جده (١) عباد بن حمزة قال: دخلت على أسماء وهي تقرأ: ﴿فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ﴾ قال: فوقفت عليها فجعلت تستعيذ وتدعو، قال عباد: فذهبت إلى السوق فقضيت حاجتي ثم رجعت وهي فيها بعد تستعيذ وتدعو (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن حمزہ کہتے ہیں کہ میں حضرت اسماء کے پاس حاضر ہوا، وہ اس آیت کی تلاوت کر رہی تھیں { فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ } اس آیت پر وہ ٹھہر گئیں اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے لگیں اور دعا کرنے لگیں۔ حضرت عباد کہتے ہیں کہ میں بازار چلا گیا، میں اپنی ضرورت پوری کر کے واپس آیا تو وہ پھر بھی پناہ مانگ رہی تھیں اور دعا کر رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 6177
٦١٧٧ - حدثنا وكيع عن عيسى عن الشعبي قال: قال عبد اللَّه: إذا مر أحدكم في الصلاة بذكر النار فليستعذ باللَّه من النار، وإذا مر بذكر الجنة فليسأل اللَّه الجنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں جہنم کے ذکر سے گذرے تو جہنم سے پناہ مانگے اور جب جنت کے ذکر سے گذرے تو اللہ سے جنت کا سوال کرے۔
حدیث نمبر: 6178
٦١٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا إذا مر بآية أن يسأل، وأن ابن سيرين كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی جب کسی آیت پر سے گذرے تو اس کے مطابق سوال کرے۔ حضرت ابن سیرین اسے مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 6179
٦١٧٩ - حدثنا أبو معاوية وابن نمير عن الأعمش عن (سعد) (١) بن عبيدة عن المستورد بن الأحنف عن صلة عن حذيفة قال: صليت مع النبي ﷺ فكان إذا مر بآية فيها تسبيح سبح، وإذا مر بسؤال سأل وإذا مر بتعوذ تعوذ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ کسی آیت تسبیح کو پڑھتے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے، جب کسی دعا کی آیت کو پڑھتے تو دعا مانگتے اور جب پناہ مانگنے کی آیت پڑھتے تو اللہ سے پناہ مانگتے۔