کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نمازی نماز میں آگے بڑھے لیکن پیچھے نہ ہٹے
حدیث نمبر: 6168
٦١٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن خالد عن أبي قلابة قال: كانوا يستحبون أن يتقدموا في الصلاة (ولا) (١) يتأخروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مستحب خیال فرماتے تھے کہ نماز میں آگے بڑھ جائیں پیچھے نہ ہٹیں۔
حدیث نمبر: 6169
٦١٦٩ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: قلت لمحمد: الرجل يتقدم إلى الصف في الصلاة قال: لا أعلم بأسًا أن يتقدم خطوة أو خطوتين، وقال: في الذي (يصل) (١) الصف معترضًا (٢): لا أدري ما هو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے محمد سے عرض کیا کہ کیا آدمی دوران نماز صف میں ملنے کے لئے آگے بڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں ایک دو قدم آگے بڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ جو عرض کی جہت میں صف سے جا کر ملتے ہیں میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے ؟۔
حدیث نمبر: 6170
٦١٧٠ - حدثنا هشيم عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يكون معه الشيء فيضعه فيصلي، ثم يبدو له أن يتقدم قال؛ لا بأس (١) أن يأخذه ثم يتقدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء (اس شخص کے بارے میں جس کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس کو رکھ کر نماز پڑھے، پھر اس کو خیال آئے کہ وہ آگے بڑھ جائے) فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اس چیز کو پکڑ کر آگے بڑھ جائے۔
حدیث نمبر: 6171
٦١٧١ - حدثنا وكيع عن مسعر وسفيان عن سعد بن إبراهيم عن عروة، قال: كان يقال: تقدموا (تقدموا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا ” آگے ہو جاؤ، آگے بڑھ جاؤ “
حدیث نمبر: 6172
٦١٧٢ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم، قال: سألت الشعبي عن رجل وإن يصلي وبين يديه قوم يصلون فانصرفوا قال: يتقدم إلى الحائط بين يديه قال: قلت أفيقرأ وهو يمشي؟ قال: لا، حتى ينتهي إلى المكان الذي يقوم فيه.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس کے آگے کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہوں پھر وہ چلے جائیں، اب وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنی آگے والی دیوار کی طرف بڑھ جائے۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہ چلتے ہوئے قرائت کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں جب وہ اس جگہ پہنچ جائے جہاں اس نے کھڑا ہونا ہے پھر قرائت کرے۔