کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 6053
٦٠٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) محمد بن فضيل عن ليث عن عبد الرحمن ابن الأسود عن عمه قال: (ساعة ما) (٢) أتيت عبد اللَّه بن مسعود فيها إلا وجدته يصلي ما بين المغرب والعشاء، وكان يقول: هي ساعة غفلة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسود کے چچا فرماتے ہیں کہ میں مغرب اور عشاء کے درمیان جب بھی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہیں نماز پڑھتے دیکھا اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ غفلت کا وقت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6053
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث بن أبي سليم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6053، ترقيم محمد عوامة 5972)
حدیث نمبر: 6054
٦٠٥٤ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) موسى بن عبيدة عن أخيه عبد اللَّه بن عبيدة عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) قال: صلاة الأوابين ما بين أن (ينكفت) (٣) أهل المغرب إلى أن (يثوب) (٤) إلى العشاء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اوابین کی نماز مغرب سے فارغ ہونے کے بعد عشاء کی تیاری سے پہلے ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6054
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6054، ترقيم محمد عوامة 5973)
حدیث نمبر: 6055
٦٠٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن العلاء بن بدر عن أبي الشعثاء قال (سلمان) (١): عليكم بالصلاة (فيما) (٢) بين ⦗٢٧٨⦘ (العشاءين) (٣) فإنه يخفف عن أحدكم من (حزبه) (٤) ويذهب عنه ملغاة أول الليل، فإن ملغاة أول الليل (مهدنة) (٥) أو مذهبة لآخره (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھا کرو کیونکہ یہ نماز تمہارے وظیفوں کی جگہ لے لے گی اور رات کے پہلے حصے کی لغویات اور فضولیات کو مٹا دے گی اس لئے کہ رات کے ابتدائی حصے کی لغویات رات کے آخری حصہ کو ضائع کردیتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6055
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6055، ترقيم محمد عوامة 5974)
حدیث نمبر: 6056
٦٠٥٦ - حدثنا ابن فضيل عن (وقاء) (١) بن إياس عن سعيد بن جبير أنه كان يصلي ما بين المغرب والعشاء، ويقول: هي ناشئة الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وقاء بن ایاس فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ رات کی بیداری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6056
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6056، ترقيم محمد عوامة 5975)
حدیث نمبر: 6057
٦٠٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن داود عن بكير (بن) (١) عامر عن الشعبي عن شريح أنه كان يصلي ما بين المغرب والعشاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6057
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6057، ترقيم محمد عوامة 5976)
حدیث نمبر: 6058
٦٠٥٨ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (عمارة) (١) بن زاذان عن ثابت عن أنس أنه كان يصلي ما بين المغرب والعشاء ويقول هي ناشئة الليل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ رات کی بیداری ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6058
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمارة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6058، ترقيم محمد عوامة 5977)
حدیث نمبر: 6059
٦٠٥٩ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) عن إبراهيم (بن) (٢) نافع قال: كان الحسن بن مسلم يصلي ما بين المغرب والعشاء، قال: وزعم الحسن أن طاوسًا لم يكن يراه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن مسلم مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ رات کی بیداری ہے۔ حضرت حسن کا خیال ہے کہ حضرت طاؤس اسے رات کی بیداری نہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6059
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6059، ترقيم محمد عوامة 5978)
حدیث نمبر: 6060
٦٠٦٠ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: (نا) (٢) إبراهيم بن نافع [عن عمرو عن الحسن قال: لم يكن يعدها من صلاة الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن اسے رات کی بیداری نہ سمجھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6060
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6060، ترقيم محمد عوامة 5979)
حدیث نمبر: 6061
٦٠٦١ - حدثنا يحيى بن (أبي) (١) بكير قال: (نا) (٢) إبراهيم (بن) (٣) نافع] (٤) عن ابن أبي نجيح عن مجاهد أن عبد اللَّه بن عمر لم يكن يصليها إلا في رمضان، يعني ما بين المغرب والعشاء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صرف رمضان میں مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6061
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6061، ترقيم محمد عوامة 5980)
حدیث نمبر: 6062
٦٠٦٢ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: (حدثنا) (٢) سعيد عن قتادة عن أنس في قوله تعالى: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ [السجدة: ١٦] قال: كانوا يتطوعون فيما بين الصلاتين المغرب والعشاء فيصلون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس قرآن مجید کی آیت { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ مغرب اور عشاء کے درمیان نفل نماز پڑھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6062
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6062، ترقيم محمد عوامة 5981)
حدیث نمبر: 6063
٦٠٦٣ - حدثنا زيد بن حباب عن إسرائيل عن ميسرة بن حبيب النهدي عن المنهال عن زر بن (حبيش) (١) عن حذيفة قال أتيت النبي ﷺ فصليت معه المغرب، ⦗٢٨٠⦘ ثم قام يصلي حتى (صلى) (٢) صلاة العشاء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، مغرب سے فارغ ہونے کے بعد عشاء تک آپ نماز پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6063
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٣٣٢٩)، والترمذي (٣٧٨١)، والنسائي في الكبرى (٣٨١)، وابن حبان (٦٩٦٠)، وابن خزيمة (١١٩٤)، والحاكم ١/ ٣١٢، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٦٦)، وابن نصر في قيام الليل (٢٦٧)، والطبراني (٢٦٠٧)، والخطيب في تاريخ بغداد ١٠/ ٢٣٠، والبيهقي في دلائل النبوة ٧/ ٧٨، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6063، ترقيم محمد عوامة 5982)
حدیث نمبر: 6064
٦٠٦٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن (ثوير) (١) بن أبي فاختة (عن أبيه) (٢) عن علي قال: ذكر له (أن) (٣) ما بين المغرب والعشاء صلاة الغفلة فقال علي: في الغفلة وقعتم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کیا گیا کہ مغرب اور عشاء کے درمیان کی نماز غفلت کی نماز ہے تو انہوں نے فرمایا کہ تم غفلت میں پڑگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6064
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ثوير.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6064، ترقيم محمد عوامة 5983)
حدیث نمبر: 6065
٦٠٦٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا موسى بن عبيدة عن أيوب بن خالد عن ابن عمر قال: من صلى أربعًا بعد المغرب كان كالمعقب (غزوة [بعد غزوة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے مغرب کے بعد چار رکعتیں پڑھیں وہ اس شخص کی طرح ہے جو ایک غزوہ سے واپس آتے ہی دوسرے غزوے میں شریک ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6065
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6065، ترقيم محمد عوامة 5984)
حدیث نمبر: 6066
٦٠٦٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة قال: صليت إلى جنب (حسن) (١) بن علي المغرب ثم صليت] (٢) ركعتين بعد المغرب، ثم ⦗٢٨١⦘ قمت أصلي (فنهرني) (٣) وقال: إنما هما ركعتان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مغرب کی نماز پڑھی پھر میں نے مغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، میں پھر کھڑا ہونے لگا تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ مغرب کے بعد دو رکعتیں ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6066
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6066، ترقيم محمد عوامة 5985)