کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات اس صورت میں نئے سرے سے نماز پڑھنے کو پسند فرماتے تھے
حدیث نمبر: 6050
٦٠٥٠ - حدثنا هشيم قال (أنا) (١) منصور عن ابن سيرين قال: أجمعوا على أنه إذا تكلم استأنف وأنا أحب أن يتكلم ويستأنف الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اسلاف کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب اس نے بات کی ہو تو نئے سرے سے نمازپڑھے، اور مجھے یہ بات پسند ہے کہ وہ بات چیت کر کے نئے سرے سے نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 6050
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6050، ترقيم محمد عوامة 5969)
حدیث نمبر: 6051
٦٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) ربيع عن الحسن قال: إذا استدبر الرجل القبلة استقبل وإن التفت عن يمينه أو عن شماله (١) مضى في صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر وضو کے لئے جاتے ہوئے آدمی کی پیٹھ قبلے کی طرف ہوجائے تو وہ نئے سرے سے نماز پڑھے اور اگر وہ دائیں یا بائیں مڑا ہے تو اسی نماز کو مکمل کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 6051
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6051، ترقيم محمد عوامة 5970)
حدیث نمبر: 6052
٦٠٥٢ - حدثنا وكيع قال نا سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: أحبّ إليّ في الرعاف إذا استدبر القبلة أن يستقبل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نکسیر آنے کی صورت میں وضو کے لئے جاتے ہوئے اگر اس کی کمر قبلے کی طرف ہوجائے تو مجھے یہ پسند ہے کہ وہ نئے سرے سے نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 6052
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6052، ترقيم محمد عوامة 5971)