کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کو نماز میں قے آجائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟
٦٠٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن الحجاج عن رجل عن عمرو بن الحارث بن أبي ضرار عن عمر بن الخطاب في الرجل إذا رعف في الصلاة قال: ينفتل فيتوضأ ثم يرجع فيصلي و (يعتد) (١) بما مضى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی نماز میں نکسیر پھوٹ جائے تو وہ وضو کرنے کے لئے چلا جائے اور واپس آ کر نماز پڑھے، جو نماز اس نے پہلے پڑھ لی تھی اس سے آگے پڑھے۔
٦٠٣٢ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج قال: حدثني شيخ من أهل الحديث ⦗٢٧٢⦘ عن أبي بكر (بمثل قول) (١) عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر سے بھی حضرت عمر کے قول جیسی بات منقول ہے۔
٦٠٣٣ - حدثنا علي بن مسهر عن (سعيد) (١) عن قتادة عن (خلاس) (٢) عن (علي) (٣) قال: إذا رعف الرجل في صلاته أو قاء فليتوضأ ولا يتكلم وليس على صلاته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کی نماز میں نکسیر پھوٹ جائے یا اسے قے آجائے تو وہ وضو کرے اور کسی سے بات نہ کرے اور نماز پر بنا کرے۔
٦٠٣٤ - حدثنا هشيم قال أخبرنا ابن أبي ليلى عن نافع عن ابن (عمر) (١) قال: من رعف في صلاته فلينصرف فليتوضأ فإن لم يتكلم بني على صلاته وإن تكلم أستأنف الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کی نماز میں نکسیر پھوٹ جائے تو وہ وضو کرے، اگر کسی سے بات نہ کی ہو تو بنا کرے اور اگر بات کی ہو تو نئے سرے سے نماز پڑھے۔
٦٠٣٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمران بن ظبيان عن أبي (تحي) (١) حكيم ابن سعد عن سلمان قال: إذا أحدث أحدكم في الصلاة فلينصرف غير (واع) (٢) لصنعه فليتوضأ ثم ليعد في آيته التي كان يقرأ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب تم میں کسی کا نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو اپنے عمل کو بگاڑے بغیر جا کر وضو کرے اور آ کر وہی آیت دوبارہ پڑھے جو پڑھ رہا تھا۔
٦٠٣٦ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) علي بن صالح وإسرائيل عن ⦗٢٧٣⦘ (أبي) (٢) إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: إذا وجد أحدكم في بطنه (رزًا) (٣) أو قيئًا أو (رعافا) (٤) فلينصرف فليتوضأ ثم ليبن علي صلاته ما لم يتكلم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں کسی آدمی کو اپنے پیٹ میں ہوا، قے یا نکسیر محسوس ہو تو جا کر وضو کرلے اور اگر گفتگو نہ کی ہو تو وہیں سے آگے نماز پڑھے۔
٦٠٣٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم أن علقمة رعف في الصلاة فأخذ بيد رجل فقدمه ثم ذهب فتوضأ ثم جاء فبنى على ما بقي من صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز پڑھاتے ہوئے حضرت علقمہ کی نکسیر پھوٹ گئی، انہوں نے ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے کیا، پھر جا کر وضو کیا اور پھر باقی نماز کو ادا کیا۔
٦٠٣٨ - حدثنا ابن عيينة عن (عمرو) (١) بن دينار عن طاوس (قال): إذا رعف الرجل في صلاته انصرف فتوضأ ثم بني على ما بقي من صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کی نماز میں نکسیر پھوٹ جائے تو وہ جا کر وضو کرے اور واپس آ کر باقی نماز ادا کرے۔
٦٠٣٩ - حدثنا معتمر عن عبيد اللَّه بن عمر قال: أبصرت سالم بن عبد اللَّه صلى صلاة (الغداة) (١) (ركعة) (٢) ثم رعف فخرج فتوضأ ثم جاء فبنى على ما بقي من صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت سالم بن عبد اللہ نے فجر کی ایک رکعت پڑھی تھی کہ ان کی نکسیر پھوٹ گئی، انہوں نے جا کر وضو کیا پھر باقی نماز ادا فرمائی۔
٦٠٤٠ - حدثنا هشيم (و) (١) ابن فضيل عن حصين عن سعيد بن جبير والشعبي أنهما قالا في (الحدث) (٢) والرعاف: ينصرف فيتوضأ فإن (تكلم) (٣) استأنف (الصلاة) (٤) وإن لم يتكلم بني على صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نکسیر پھوٹ جانے یا وضو ٹوٹ جانے کی صورت میں آدمی جا کر وضو کرے، اگر اس دوران اس نے بات کی تو نئے سرے سے نماز پڑھے اور اگر بات نہ کی تو وہی نماز پوری کرلے۔
٦٠٤١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول في من رعف في صلاته قال: ينصرف فيتوضأ ثم (ليبن) (١) على ما بقي من صلاته ما لم يتكلم فإن تكلم استأنف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں فرمایا کرتے تھے جس کی نماز میں نکسیر پھوٹ جائے کہ وہ جا کر وضو کرے پھر جب تک بات نہ کی ہو اسی نماز کو پورا کرے اور اگر بات کی ہو تو دوبارہ نماز پڑھے۔
٦٠٤٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الملك عن عطاء أنه قال مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بھی یونہی فرماتے ہیں۔
٦٠٤٣ - حدثنا هشيم (أنا) (١) مغيرة عن إبراهيم في صاحب القيء والرعاف والقبلة ينصرف فيتوضأ، فإن لم يتكلم بني على ما بقي وإن تكلم استأنف، وكان يقول في صاحب الغائط والبول: ينصرف فيتوضأ (ويستقبل) (٢) الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے بارے میں جسے نماز میں قے آجائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے فرماتے ہیں کہ وہ جا کر وضو کرے۔ اس دوران اگر اس نے بات نہ کی تو وہی نماز پوری کرے اور اگر بات کی تو نئے سرے سے نماز پڑھے۔ ابراہیم پیشاب اور پاخانہ کے لئے جانے والے شخص کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ وہ جا کر وضو کرے اور نئے سرے سے نماز پڑھے۔
٦٠٤٤ - حدثنا هشيم قال أخبرنا مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يشددون في الغائط والبول ويرون أنه أشد من المني والدم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف پیشاب اور پاخانہ کے بارے میں بہت سختی کیا کرتے تھے اور اسے منی اور خون سے زیادہ سخت سمجھتے تھے۔
٦٠٤٥ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه كان يقول: إنه إذا رعف الرجل في صلاته فإنه ينصرف فيتوضأ ثم يجيء (فيبني) (١) على ما مضى ما لم يتكلم إن شاء، فإن أحدث أعاد الوضوء وأعاد الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی نماز میں نکسیر پھوٹ گئی تو وہ جا کر وضو کرے اور باقی ماندہ نماز کو پورا کرے اگر کسی سے بات نہ کی ہو۔ اگر اس کا وضو ٹوٹ جائے تو وضو بھی دوبارہ کرے اور نماز بھی دوبارہ پڑھے۔
٦٠٤٦ - حدثنا هشيم قال: (أنا) (١) عبد الحميد (المديني) (٢) عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط قال: رأيت سعيد بن المسيب رعف وهو في صلاته فأتى دار أم سلمة زوج النبي ﷺ فتوضأ ولم يتكلم، (فبنى) (٣) على صلاته.
مولانا محمد اویس سرور
یزید بن عبد اللہ بن قسیط کہتے ہیں کہ نماز میں حضرت سعید بن مسیب کی نکسیر پھوٹ گئی، وہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ کے مکان پر تشریف لائے اور وضو کیا، اس دوران انہوں نے کسی سے بات نہ کی اور واپس جا کر اسی نماز کو مکمل فرمایا۔
٦٠٤٧ - حدثنا وكيع قال حدثنا إسماعيل بن أبي خالد (عن عامر) (١) قال: إذا أحدثت في الصلاة فصل ما بقي وإن تكلمت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں تمہارا وضو ٹوٹ جائے تو وضو کر کے باقی ماندہ نماز پڑھ لو خواہ تم نے بات چیت بھی کی ہو۔
٦٠٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط (بن) (١) محمد عن سعيد عن قتادة عن (خلاس) (٢) (عن علي في الرجل) (٣) يصيبه القيء والرعاف في الصلاة قال: ينفتل فيتوضأ ثم يبني على صلاته ما لم يتكلم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں جو نماز میں قے یا نکسیر کا شکار ہوجائے فرماتے ہیں کہ وہ جا کر وضو کرے اور اپنی نماز کو مکمل کرے، جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔
٦٠٤٩ - حدثنا أسباط (بن محمد) (١) عن سعيد عن أبي (معشر) (٢) عن إبراهيم عن عبد اللَّه (بمثله) (٣) إلا أنه لم يذكر القيء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے بھی یونہی منقول ہے، البتہ اس میں قے کا ذکر نہیں۔