حدیث نمبر: 6003
٦٠٠٣ - ] (١) حدثنا أبو بكر قال حدثنا سهل ابن يوسف عن ابن عون قال: كتبت إلى نافع أسأله عن القوم يكونون في الرستاق ويحضرهم العيد (هل) (٢) يجتمعون فيصلي بهم رجل (و) (٣) عن الجمعة؟ فكتب إلي: أما العيد فإنهم (يجتمعون) (٤) (فيصلي) (٥) بهم رجل وأما الجمعة فلا علم لي بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع کو خط لکھا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ عید کی نماز اور جمعہ کی نماز کے لئے جمع ہوں گے اور کیا کوئی آدمی انہیں یہ نمازیں پڑھائے گا ؟ انہوں نے جواب میں مجھے لکھا کہ عید کی نماز کے لئے تو وہ جمع ہوں گے اور ایک آدمی انہیں عید کی نماز پڑھائے گا اور جمعہ کی نماز کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔
حدیث نمبر: 6004
٦٠٠٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن قتادة عن عكرمة أنه قال: في القوم يكونون في السواد في السفر في يوم (عيد فطر أو أضحى) (١) قال: يجتمعون فيصلون ويؤمهم أحدهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن اگر سفر میں ہوں یا دیہات میں ہوں تو وہ جمع ہو کر نماز پڑھیں گے اور ایک آدمی انہیں نماز پڑھائے گا۔
حدیث نمبر: 6005
٦٠٠٥ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن في أهل القرى وأهل السواد يحضرهم العيد قال: كان لا يرى أن يخرجوا فيصلي بهم رجل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بستی والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ عید کی نماز کے لئے نہیں نکلیں گے اور نہ ہی کوئی انہیں عید کی نماز پڑھائے گا۔
حدیث نمبر: 6006
٦٠٠٦ - حدثنا الحسن (بن) (١) موسى قال: حدثنا شيبان عن يحيى بن أبي كثير قال: سئل عطاء بن أبي رباح قال: إذا كانت قرية جامعة فليصلوا ركعتين مثل يوم الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت عطاء بن ابی رباح سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب گاؤں جامعہ ہو تو وہ جمعہ کی طرح دو رکعات پڑھیں۔ حضرت حکم بن عتیبہ فرماتے ہیں کہ جمعہ امام کے ساتھ جامع مسجد میں ہی ہوتا ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق جمعہ خلیفہ وقت کے ساتھ مسلمانوں کے شہروں میں ہوتا ہے۔ حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ جمعہ، عید الفطر اور عید الاضحی صرف اس کے لئے ہیں جو امام کے ساتھ حاضر ہو۔
حدیث نمبر: 6007
٦٠٠٧ - قال يحيى وسئل الحكم بن (عتيبة) (١) فقال: لا جمعة إلا مع الإمام في المسجد الجامع.
حدیث نمبر: 6008
٦٠٠٨ - قال يحيى [وقال قتادة: لا أعلم الجمعة إلا مع السلطان في أمصار المسلمين.
حدیث نمبر: 6009
٦٠٠٩ - قال يحيى] (١) يقال: لا جمعة ولا أضحى ولا فطر إلا لمن حضر مع الإمام.
حدیث نمبر: 6010
٦٠١٠ - حدثنا (معمر) (١) بن سليمان الرقي عن حجاج عن الحكم قال: كتب عمر بن عبد العزيز إلى أهل القرى يأمرهم أن يصلوا الفطر والأضحى وأن (يجمعوا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے دیہات والوں کو خط لکھا کہ وہ عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز پڑھیں اور جمعہ بھی ادا کریں۔
حدیث نمبر: 6011
٦٠١١ - حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن راشد عن مكحول قال: إذا كانت القرية لها أمير فعليهم الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب گاؤں کا کوئی امیر ہو تو ان پر جمعہ لازم ہے۔
حدیث نمبر: 6012
٦٠١٢ - حدثنا أبو أسامة عن أبي العميس عن علي بن الأقمر قال: خرج مسروق وعروة بن المغيرة إلى بدو لهم قال: فحضرت الجمعة فلم يجمعوا وحضر الفطر فلم يفطروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن اقمر فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق، حضرت عروہ اور حضرت مغیرہ ان کے گاؤں میں تشریف لائے۔ جب جمعہ کی نماز کا وقت آیا تو انہوں نے جمعہ نہ پڑھا اور جب عید آئی تو انہوں نے عید کی نماز نہ پڑھی۔