کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آجا ئیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 5963
٥٩٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) خالد الأحمر عن عبد الحميد بن جعفر عن وهب بن كيسان قال: اجتمع عيدان في عهد ابن الزبير فأخر الخروج ثم خرج فخطب فأطال الخطبة، ثم صلى ولم يخرج إلى الجمعة، فعاب ذلك أناس عليه فبلغ ذلك (٢) ابن عباس فقال: أصاب السنة. فبلغ ابن الزبير فقال: شهدت العيد مع عمر فصنع كما صنعت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں ایک دن عید جمعہ کے دن آگئی۔ حضرت ابن زبیر نے نکلنے میں تاخیر کی، جب باہر تشریف لائے تو خطبہ دیا اور لمبا خطبہ دیا، پھر نماز پڑھائی اور جمعہ کے لئے تشریف نہ لائے۔ لوگوں کو ان کے اس عمل انہوں نے سنت کی پیروی کی ہے۔ حضرت ابن زبیر تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر کے ساتھ عید کی نماز پڑھی تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5963
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه النسائي ٣/ ١٩٤، وسيأتي نحوه برقم [٥٩٦٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5963، ترقيم محمد عوامة 5886)
حدیث نمبر: 5964
٥٩٦٤ - حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أبي عبيد مولى ابن أزهر قال: شهدت العيد مع عثمان ووافق يوم جمعة فقال: إن هذا يوم اجتمع فيه عيدان للمسلمين فمن كان هاهنا من أهل العوالي (١) فقد أذنا له أن ينصرف ومن أحب أن يمكث فليمكث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کے ساتھ عید کی نماز پڑھی۔ اس دن جمعہ کا دن تھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں مسلمانوں کے لئے دو عیدین جمع ہوگئی ہیں۔ جو لوگ مضافات سے آئے ہیں ہم انہیں اجازت دیتے ہیں کہ وہ واپس چلے جائیں۔ اور جو ٹھہرنا چاہیں وہ ٹھہر جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5964
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح. أخرجه مالك ١/ ١٧٩، والشافعي في المسند ١/ ٥٩، والطحاوي في شرح المشكل (١١٥٦) والبيهقي ٣/ ٣١٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5964، ترقيم محمد عوامة 5887)
حدیث نمبر: 5965
٥٩٦٥ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد الأعلى عن أبي عبد الرحمن قال: اجتمع عيدان على عهد علي فصلى بالناس ثم خطب على راحلته (ثم قال) (١): يا أيها الناس من شهد منكم العيد فقد قضى جمعته إن شاء اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے۔ انہوں نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، پھر اپنی سواری پر خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ جو لوگ عید کی نماز میں شریک ہوئے تو اگر اللہ نے چاہا تو اس کا جمعہ بھی ادا ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5965
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عبد الأعلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5965، ترقيم محمد عوامة 5888)
حدیث نمبر: 5966
٥٩٦٦ - حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه قال: (اجتمع) (١) عيدان على عهد علي فشهد (بهم) (٢) العيد ثم قال: إنا مجمعون (فمن) (٣) أراد أن يشهد فليشهد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے۔ انہوں نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی اور فرمایا کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھیں گے جس نے آنا ہو آجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5966
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5966، ترقيم محمد عوامة 5889)
حدیث نمبر: 5967
٥٩٦٧ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حبيب بن سالم عن النعمان بن بشير أن النبي ﷺ كان يقرأ في العيدين بـ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، و ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾، وإذا (اجتمع) (١) العيدان في يوم قرأ بهما فيهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدین کی نمازوں میں سورة الاعلیٰ اور سورة الغاشیہ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ اور جب عید کے دن جمعہ آتا تو پھر دونوں نمازوں میں انہی سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5967
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٨٧٨) وأحمد (١٨٤٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5967، ترقيم محمد عوامة 5890)
حدیث نمبر: 5968
٥٩٦٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان قال: اجتمع (١) عيدان في يوم فخرج عبد اللَّه بن الزبير فصلى العيد بعد ما ارتفع النهار ثم دخل فلم يخرج حتى صلى العصر، قال هشام: فذكرت ذلك لنافع أو ذكر له فقال: ذكر ذلك لابن عمر فلم ينكره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے، حضرت ابن الزبیر نے دن اچھی طرح بلند ہونے کے بعد عید کی نماز پڑھائی۔ پھر واپس چلے گئے اور عصر کے وقت تشریف لائے۔ حضرت ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت نافع سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس بات کا ذکر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا گیا تو انہوں نے اس پر نکیر نہ فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5968
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه النسائي (٣/ ١٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5968، ترقيم محمد عوامة 5891)
حدیث نمبر: 5969
٥٩٦٩ - حدثنا هشيم عن منصور عن عطاء قال: (اجتمع) (١) عيدان في عهد ابن الزبير فصلى بهم العيد ثم صلى بهم الجمعة صلاة الظهر أربعا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں عید اور جمعہ ایک ہی دن آگئے۔ انہوں نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، پھر جمعہ کے بدلے میں انہیں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5969
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5969، ترقيم محمد عوامة 5892)
حدیث نمبر: 5970
٥٩٧٠ - حدثنا هشيم عن عطاء بن السائب قال: (اجتمع) (١) عيدان على عهد الحجاج فصلى أحدهما، فقال أبو البختري: قاتله اللَّه أنَّى عَلِقَ هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ حجاج کے زمانے میں ایک مرتبہ عید اور جمعہ ایک ہی دن آگئے اس نے دونوں میں سے ایک نماز پڑھائی۔ یہ بات ابو البختری کو معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ اسے ہلاک کرے، اسے اس بات کا علم کہاں سے ہوگیا ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5970
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5970، ترقيم محمد عوامة 5893)
حدیث نمبر: 5971
٥٩٧١ - حدثنا هشيم عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: (تجزئه) (١) (الأولى) (٢) منهما.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے پہلی نماز کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5971
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5971، ترقيم محمد عوامة 5894)
حدیث نمبر: 5972
٥٩٧٢ - حدثنا معتمر عن ليث عن عطاء قال: إذا اجتمع عيدان في يوم فأيهما أتيت أجزأك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جمعہ اور عید ایک ہی دن آجائیں تو دونوں میں ایک کو ادا کرنا بھی تمہارے لئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5972
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5972، ترقيم محمد عوامة 5895)
حدیث نمبر: 5973
٥٩٧٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن إسرائيل عن عثمان الثقفي عن (ابن) (١) أبي رملة الشامي قال: شهدت معاوية يسأل زيد بن أرقم هل شهدت مع رسول اللَّه ﷺ عيدين اجتمعا قال: نعم. قال: فكيف صنع؟ قال: صلى العيد ثم رخص في الجمعة قال: "من شاء أن يصلي فليصل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی رملہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا دن گذارا جس میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آئے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ حضرت معاویہ نے پوچھا کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا عمل تھا۔ حضرت زید نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی اور جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا کہ جس کا دِل چاہے پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5973
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حسن بن أبي رملة صحح له ابن خزيمة والحاكم ووافقه الذهبي وابن المديني وذكره ابن حبان في الثقات، أخرجه أحمد (١٩٣١٨) وأبو داود (١٠٧٠) والنسائي ٣/ ١٩٤، وابن ماجه (٧٢١٠)، وابن خزيمة (١٤٦٤) والحاكم ١/ ٢٨٨، والطيالسي (٦٨٥) والدارمي (١٦١٢)، والبخاري في التاريخ ١/ ٣٨، ويعقوب في المعرفة ١/ ٣٠٣، والطحاوي في شرح المشكل (١١٥٣)، والطماني (٥١٢٠)، والبيهقي ٣/ ٣١٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5973، ترقيم محمد عوامة 5896)
حدیث نمبر: 5974
٥٩٧٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب قال: (اجتمع) (١) العيدان في يوم فقام الحجاج في العيد الأول (فقال) (٢): من شاء أن يجمع معنا فليجمع ومن شاء أن ينصرف فلينصرف ولا حرج فقال: أبو البختري وميسرة: ما له قاتله اللَّه من أين سقط على هذا؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے۔ حجاج نے عید کی نماز پڑھائی اور کہا جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہے پڑھے اور جو جانا چاہے چلا جائے۔ چلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس پر حضرت ابو البختری اور حضرت میسرہ نے کہا کہ اللہ اسے مارے یہ بات اسے کہاں سے پتا چل گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5974
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5974، ترقيم محمد عوامة 5897)
حدیث نمبر: 5975
٥٩٧٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) الحجاج عن عطاء عن (علي) (٢) (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5975
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5975، ترقيم محمد عوامة 5898)
حدیث نمبر: 5976
٥٩٧٦ - وعن شعبة عن الحكم عن إبراهيم في العيدين إذا اجتمعا (قالا) (١): يجزئ أحدهما.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5976
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5976، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 5977
٥٩٧٧ - [حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حجاج عن عبد العزيز بن رفيع عن الزبير قال: يجزئ أحدهما] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے ایک نماز کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5977
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5977، ترقيم محمد عوامة 5899)
حدیث نمبر: 5978
٥٩٧٨ - حدثنا معاوية (بن) (١) هشام قال: (حدثنا) (٢) سفيان عن مجالد عن الشعبي قال: إذا كان يوم جمعة وعيد أجزأ أحدهما من الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب عید اور جمعہ کا دن ایک ہو تو ایک نماز کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / أول العيدين / حدیث: 5978
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5978، ترقيم محمد عوامة 5900)