حدیث نمبر: 5924
٥٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) سفيان بن عيينة عن مطرف عن الشعبي عن عبد اللَّه قال: يصلي أربعا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ وہ چار رکعات پڑھے۔
حدیث نمبر: 5925
٥٩٢٥ - [حدثنا هشيم وحفص عن حجاج عن مسلم عن مسروق قال: قال عبد اللَّه: من فاته العيد فليصل أربعا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس کی نماز عید فوت ہوجائے وہ چار رکعات پڑھے۔
حدیث نمبر: 5926
٥٩٢٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي قال: يصلي أربعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ وہ چار رکعات پڑھے۔
حدیث نمبر: 5927
٥٩٢٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: يصلي ركعتين ويكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ دو رکعات پڑھے اور تکبیر کہے۔
حدیث نمبر: 5928
٥٩٢٨ - حدثنا ابن علية (عن يونس) (١) قال: حدثني بعض آل أنس أن ⦗٢٤٩⦘ أنسا كان ربما جمع أهله وحشمه يوم العيد فصلى بهم عبد اللَّه بن أبي عتبة ركعتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس عید کے دن اپنے گھر کی عورتوں اور خادمہ خواتین کو جمع کرتے اور عبد اللہ بن ابی عتبہ انہیں عید کی نماز پڑھاتے۔
حدیث نمبر: 5929
٥٩٢٩ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم قال: كان أبو عياض مستخفيا (١) فجاءه (مجاهد) (٢) يوم عيد فصلى بهم ركعتين ودعا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ابو عیاض چھپے ہوئے تھے، عید کے دن حضرت مجاہد ان کے پاس آئے اور انہیں دو رکعات نماز پڑھائی پھر دعا کی۔
حدیث نمبر: 5930
٥٩٣٠ - حدثنا علي بن هاشم (١) عن جويبر عن الضحاك قال: من كان له عذر يعذر به في يوم فطر أو جمعة أو أضحى فصلاته أربع ركعات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی عذر کی وجہ سے عیدالفطر، عیدالاضحی یا جمعہ کی نماز نہ پڑھ سکے تو وہ چار رکعات پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 5931
٥٩٣١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن أبي عمر عن ابن الحنفية قال: يصلي ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنفیہ کہتے ہیں کہ وہ دو رکعات پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 5932
٥٩٣٢ - حدثنا وكيع عن ربيع عن الحسن قال: يصلي مثل صلاة الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ وہ امام کی نماز جیسی نماز پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 5933
٥٩٣٣ - حدثنا جرير عن مغيرة (عن حماد) (١) عن إبراهيم قال: إذا فاتتك الصلاة مع الإمام فصل مثل صلاته، قال إبراهيم: وإذا استقبل الناس راجعين (فلتدخل) (٢) أدنى مسجد ثم فلتصل صلاة الإمام، ومن لا يخرج إلى العيد فليصل مثل صلاة الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس کی نماز عید فوت ہوجائے وہ امام کی نماز جیسی نماز پڑھے۔ ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب لوگ نماز پڑھ کر واپس آ رہے ہوں تو تم مسجد میں آ کر امام کی نماز ادا کرو اور جو شخص عید کی نماز کے لئے نہ جاسکے وہ بھی امام کی نماز جیسی نماز ادا کرے۔
حدیث نمبر: 5934
٥٩٣٤ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن حماد فيمن لم يدرك الصلاة يوم العيد قال: يصلي مثل صلاته ويكبر مثل تكبيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ جو شخص عید کے دن امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے وہ امام کی طرح نماز پڑھے اور اس کی تکبیرات کی طرح تکبیرات کہے۔
حدیث نمبر: 5935
٥٩٣٥ - حدثنا شريك قال: سألت أبا إسحاق عن الرجل يجيء يوم العيد وقد فرغ الإمام قال: يصلي ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریک فرماتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو عید کے دن امام کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد آئے تو فرمایا کہ وہ دو رکعات پڑھے۔
حدیث نمبر: 5936
٥٩٣٦ - حدثنا (حسن بن) (١) عبد الرحمن (الحارثي) (٢) عن ابن (عون) (٣) عن محمد في الذي يفوته العيد قال: كان يستحب أن يصلي مثل صلاة الإمام وإن علم ما قرأ (به) (٤) الإمام قرأ به (٥).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ جس شخص کی نماز عید فوت ہوجائے اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ امام کی نماز جیسی نماز پڑھے اور جو قرائت امام نے کی ہے وہی قرائت کرے، اگر اسے امام کی قرائت کا علم ہوجائے۔