کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص ہجوم کی وجہ سے جمعہ کے دن نماز نہ پڑھ سکے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 5682
٥٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا وكيع عن همام قال: سمعت قتادة يقول في رجل افتتح مع الإمام يوم الجمعة (فلم) (١) يقدر على ركوع ولا سجود حتى صلى الإمام (قال) (٢): كان الحسن وإبراهيم يقولان: يصلي ركعتين، يعني يوم الجمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اس شخص کے بارے میں جو جمعہ کے دن امام کے ساتھ نماز شروع کرے، لیکن (رش کی وجہ سے) رکوع و سجدہ نہ کرسکے اتنے میں امام سلام پھیر لے ، فرماتے ہیں کہ حسن اور ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ وہ جمعہ کے دن دو رکعتیں پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 5683
٥٦٨٣ - حدثنا (ابن) (١) علية عن يونس قال: سئل عن رجل ركع ركعتين يوم الجمعة فلم يقدر على السجود حتى سلم الإمام فقال: نبئت عن الحسن أنه قال: يسجد سجدتين ثم يقوم فيقضي الركعة الأولى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ یونس سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص جمعہ کے دن دو رکوع تو کرلے لیکن امام کے سلام پھیرنے تک سجدے نہ کرسکے تو وہ کیا کرے ؟ یونس نے فرمایا کہ مجھے حسن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ دو سجدے کرے ، پھر کھڑا ہوجائے اور پہلی رکعت کی قضا کرے۔
حدیث نمبر: 5684
٥٦٨٤ - حدثنا أزهر (السمان) (١) عن ابن عون قال: (قال) (٢) رجل لنافع: ⦗١٩٥⦘ زحمت يوم الجمعة فلم أقدر على الركوع والسجود فقال: أما أنا فلو كنت لأومأت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت نافع سے کہا کہ میں اگر رش کی وجہ سے جمعہ کے دن رکوع و سجود نہ کرسکوں تو کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ یوں ہو تو میں اشارے سے نماز پڑھوں گا۔
حدیث نمبر: 5685
٥٦٨٥ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه عن (معقل) (١) عن الزهري قال: إذا ازدحم الناس (يوم) (٢) الجمعة فلم تستطع أن (تسجد) (٣) فانتظر حتى إذا قاموا فاسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جب تم جمعہ کے دن رش میں پھنس جاؤ اور سجدہ کرنے کی طاقت نہ رکھو تو انتظار کرو جب لوگ کھڑے ہوجائیں اس وقت سجدہ کرلو۔