حدیث نمبر: 5584
٥٥٨٤ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال نا هشيم عن يونس ومنصور عن الحسن قال: (بينا) (٢) النبي ﷺ يخطب إذ جاء رجل يتخطى رقاب الناس يوم الجمعة حتى جلس قريبا من النبي ﷺ فلما قضى صلاته قال له النبي ﷺ: "يَا فُلَانُ أَمَا جَمَّعْتَ؟ " قال: يا رسول اللَّه أما رأيتني؟ قال: "قَدْ رَأَيْتُكَ (آنَيْتَ) (٣) وآذيْتَ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سن رہے تھے کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب بیٹھ گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری فرمالی تو اس سے فرمایا کہ تم نے جمعہ کی نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا کہ کیا آپ نے مجھے نہیں دیکھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ پہلے تم نے تاخیر کی اور پھر لوگوں کو تکلیف پہنچائی۔
حدیث نمبر: 5585
٥٥٨٥ - حدثنا وكيع بن الجراح عن الأوزاعي عن موسى بن سليمان عن القاسم بن مخيمرة قال: مثل الذي يتخطى رقاب الناس يوم الجمعة والإمام يخطب ⦗١٦٨⦘ كالرافع (قدمه) (١) (في) (٢) النار ((وواضعها) (٣) في النار) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مخیمرہ فرماتے ہیں کہ اس شخص کی مثال جو جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آئے اس شخص کی سی ہے جو آگ میں ایک قدم رکھ رہا ہو اور ایک قدم اٹھا رہا ہو۔
حدیث نمبر: 5586
٥٥٨٦ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد قال: حدثني عثمان بن عبد اللَّه ابن موهب قال: (قال) (١) سعيد بن المسيب لأن أصلّي الجمعة بالحرة (٢) أحبّ إليّ من التخطي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں مقام حرہ میں نماز پڑھ لوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگوں۔
حدیث نمبر: 5587
٥٥٨٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد عن عبيد بن الحسن قال: رأيت عروة بن المغيرة جاء إلى الجمعة فلما انتهى قام، يعني: ولم يتخط (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن حسن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ بن مغیرہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے لئے آئے، جب وہ صفوں تک پہنچے تو کھڑے ہوگئے اور گردنیں نہیں پھلانگیں۔
حدیث نمبر: 5588
٥٥٨٨ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: قال محمد: إنهم يقولون إن محمدا يتخطى رقاب الناس يوم الجمعة ولست أتخطى إنما أجيء (فأقوم) (١) فيعرفني الرجل فيوسع لي.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے۔ حالانکہ میں گردنیں نہیں پھلانگتا بلکہ لوگ مجھے دیکھ کر خود جگہ دے دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5589
٥٥٨٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن حميد الأصم عن أبي قيس قال: دخل عبد اللَّه بن مسعود المسجد (يوم جمعة) (١) وعليه ثياب بيض حسان فرأى مكانا فيه سعة فجلس ولم (يتخط) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے سفید رنگ کے خوبصورت کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے۔ آپ ایک کھلی جگہ دیکھ کر وہیں بیٹھ گئے اور لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلانگا۔
حدیث نمبر: 5590
٥٥٩٠ - حدثنا حفص بن غياث عن عمرو عن الحسن قال: لا بأس أن يتخطى رقاب الناس إذا كان في المسجد سعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر صفوں کے اگلے حصے میں گنجائش موجود ہو تو گردنوں کو پھلانگنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 5591
٥٥٩١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد قال: رأيت شريحا جاء يوم الجمعة والإمام يخطب فجلس، يعني ولم (يتخط) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن دورانِ خطبہ تشریف لائے اور آکر بیٹھ گئے۔ گردنوں کو پھلانگ کر آگے نہیں بڑھے۔
حدیث نمبر: 5592
٥٥٩٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن عمر بن عطية عن سلمان قال: إياك وتخطي رقاب الناس يوم الجمعة واجلس حيث (تبلغك) (١) الجمعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن گردنوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنے سے اجتناب کرو، جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جاؤ۔
حدیث نمبر: 5593
٥٥٩٣ - حدثنا وكيع والفضل عن سفيان عن صالح مولى (التوأمة) (١) قال: سمعت أبا هريرة يقول: لأن أصلي بالحرة أحب إليّ من أن اتخطى رقاب الناس يوم الجمعة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں مقام حرہ میں نماز پڑھ لوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگوں۔
حدیث نمبر: 5594
٥٥٩٤ - حدثنا وكيع عن جويرية بن (أسماء) (١) عن (جواب) (٢) بن كعب قال: لأن أدع الجمعة أحب إليّ من أن أتخطى (٣) رقاب الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز چھوڑ دوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگوں۔