کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید و فروخت ممنوع ہے؟
حدیث نمبر: 5494
٥٤٩٤ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن علية عن كلثوم بن (جبر) (١) قال: قال في مسلم بن يسار: إذا علمت أن النهار قد انتصف يوم الجمعة فلا (تبتاعن) (٢) شيئا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلثوم بن جبر فرماتے ہیں کہ حضرت مسلم بن یسار نے مجھ سے فرمایا کہ جمعہ کے دن جب تم دیکھو کہ دن آدھا ہوگیا ہے تو کوئی چیز نہ بیچو۔
حدیث نمبر: 5495
٥٤٩٥ - حدثنا معن بن عيسى عن (ابن) (١) أبي ذئب أن عمر بن عبد العزيز كان يمنع الناس البيع يوم الجمعة إذا نودي بالصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو خریدوفروخت سے منع کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5496
٥٤٩٦ - حدثنا هشيم قال أخبرنا جويبر عن الضحاك قال: إذا زالت الشمس من يوم الجمعة فقد حرم البيع و (الشراء) (١) حتى تقضى الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب سورج زائل ہوجائے تو خریدو فروخت حرام ہوجاتی ہے جب تک نماز ادا نہ کرلی جائے۔
حدیث نمبر: 5497
٥٤٩٧ - حدثنا هشيم عن حجاج عن عطاء، وعن بعض أصحابه عن الحسن (أنهما) (١) قالا ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حسن بھی یونہی فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5498
٥٤٩٨ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا أبو المقدام مولى لقريش عن القاسم بن محمد أنه اشترى من رجل شيئا يوم الجمعة فلقيه بعد ذلك فقال: تاركني البيع فإني (أحسبني) (١) اشتريت منك ما اشتريت بعد زوال الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مقدام مولیٰ قریش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت قاسم بن محمد نے جمعہ کے دن ایک آدمی سے کوئی چیز خریدی۔ پھر بعد میں اس سے ملاقات ہوئی تو اسے فرمایا کہ میری اس بیع کو ختم کردو کیونکہ میں نے انجانے میں وہ چیز زوال شمس کے بعد خریدی تھی۔
حدیث نمبر: 5499
٥٤٩٩ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد الكريم عن مجاهد أو غيره قال: من باع شيئا بعد زوال الشمس يوم الجمعة فإن بيعه مردود (فإن) (١) اللَّه نهى عن البيع إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة شك سفيان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس شخص نے جمعہ کے دن زوال شمس کے بعد بیع کی اس کی بیع مردود ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی اذان کے بعد بیع سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5500
٥٥٠٠ - حدثنا ابن علية عن برد قال: قلت للزهري: متى يحرم البيع والشراء يوم الجمعة فقال: كان الأذان عند خروج الإمام، فاحدث أمير المؤمنين عثمان التأذينة الثالثة، فأذن على الزوراء ليجتمع الناس فأرى أن يترك الشراء والبيع عند التأذينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے عرض کیا کہ جمعہ کے دن خریدو فروخت کب ممنوع ہوتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ پہلے اذان امام کے نکلنے کے وقت ہوتی تھی۔ پھر حضرت عثمان نے ایک تیسری اذان کا اضافہ کیا، جس کے بعد لوگوں کو جمع کرنے کے لئے منارہ پر اذان دی جانے لگی تاکہ لوگ جمع ہوجائیں۔ میرے خیال کے مطابق اس وقت خریدو فروخت کو ترک کردینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 5501
٥٥٠١ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان عن ميمون قال: كان بالمدينة إذا أذن المؤذن يوم الجمعة ينادون في الأسواق: حرم البيع حرم البيع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ کا معمول یہ تھا کہ جب جمعہ کے دن مؤذن اذان دے دیتا تو لوگ بازاروں میں اعلان کیا کرتے تھے کہ بیع حرام ہوگئی، بیع حرام ہوگئی۔
حدیث نمبر: 5502
٥٥٠٢ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن الشعبي في الساعة التي ترجى في الجمعة قال: فيما بين أن يحرم البيع إلى أن يحل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی جمعہ کی ساعت قبولیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ بیع کے حرام ہونے سے حلال ہونے کا درمیانی وقت ہے۔