کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: امام کے منبر پر چڑھ جانے اور خطبہ دینے کے دوران گفتگو کا حکم
حدیث نمبر: 5398
٥٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن الركين عن أبيه عن عبد اللَّه قال: كفى لغوًا إذا صعد الإمام المنبر أن تقول لصاحبك أنصت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ امام کے منبر پر چڑھ جانے کے بعد یہ بھی لغو بات ہے کہ تم اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو کہو کہ خاموش ہوجا۔
حدیث نمبر: 5399
٥٣٩٩ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: قلت لعلقمة: متى يكره الكلام يوم الجمعة؟ قال: إذا صعد الإمام المنبر وإذا خطب الإمام وإذا تكلم الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابرہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے پوچھا کہ جمعہ کے دن کلام کرنا کب مکروہ ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب امام منبر پر چڑھ جائے، جب امام خطبہ دے اور جب امام بات کرے۔
حدیث نمبر: 5400
٥٤٠٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه أن النبي ﷺ قال: "مَن قَالَ لِصَاحبهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیداللہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن جس شخص نے خطبہ کے دوران اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو خاموش رہنے کا کہا اس نے لغو کام کیا۔
حدیث نمبر: 5401
٥٤٠١ - حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال: إذا قلت لصاحبك أنصت فقد لغوت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اگر تم نے اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو کہا کہ خاموش ہوجا تو تم نے لغو کام کیا۔
حدیث نمبر: 5402
٥٤٠٢ - حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن يزيد بن عبد اللَّه عن ثعلبة ابن (أبي) (١) مالك القرظي قال: أدركت عمر وعثمان فكان الإمام إذا خرج يوم الجمعة تركنا الصلاة فإذا تكلم تركنا الكلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن ابی مالک قرظی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر اور حضرت عثمان کا زمانہ پایا، جب جمعہ کے دن امام آجاتے تو ہم نماز کو چھوڑ دیتے اور جب وہ بات کرتے تو ہم بات کرنا چھوڑ دیتے۔
حدیث نمبر: 5403
٥٤٠٣ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس وابن عمر أنهما كانا يكرهان (الصلاة والكلام) (١) يوم الجمعة بعد خروج الإمام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے دن امام کے نکلنے کے بعد کلام کرنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 5404
٥٤٠٤ - حدثنا أبو معاوية (عن حجاج) (١) عن عطاء عن ابن عمر أنه كان يصلي يوم الجمعة فإذا خرج الإمام لم يصل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کی نماز پڑھتے تھے لیکن جب امام جمعہ کے لئے آجاتا تو نماز نہیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 5405
٥٤٠٥ - حدثنا ابن علية عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: خروج (الإمام) (١) يقطع الصلاة وكلامه يقطع الكلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ امام کا نکلنا نماز کو اور اس کا بات کرنا گفتگو کو منقطع کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 5406
٥٤٠٦ - حدثنا هشيم عن حصين عن ميمون بن مهران أنه كره (الكلام) (١) والإمام يخطب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران نے دورانِ خطبہ بات کرنے کو مکروہ خیال فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 5407
٥٤٠٧ - حدثنا هشيم عن أشعث عن الزهري قال: خروج الإمام يقطع الصلاة وكلامه يقطع الكلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ امام کا نکلنا نماز کو اور اس کا بات کرنا گفتگو کو منقطع کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 5408
٥٤٠٨ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن إبراهيم عن نافع عن سعيد بن أبي هند عن حميد (بن) (١) عبد الرحمن قال: إذا قال الرجل يوم الجمعة والإمام يخطب أنصت فقد لغا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دورانِ خطبہ اگر کسی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ خاموش ہوجاؤ تو اس نے لغو کام کیا۔
حدیث نمبر: 5409
٥٤٠٩ - حدثنا علي بن مسهر عن داود بن أبي هند عن (بكر) (١) بن عبد اللَّه عن علقمة بن عبد اللَّه قال: قدمنا المدينة يوم الجمعة فأمرت أصحابي أن يرتحلوا ثم أتيت المسجد فجلست قريبا من ابن عمر فجاء رجل من أصحابي فجعل يحدثني والإمام يخطب فقلنا: كذا وكذا، (فلما) (٢) (أكثر) (٣) قلت له: اسكت فلما قضينا الصلاة ذكرت ذلك لابن عمر فقال: أما انت فلا جمعة لك وأما صاحبك فحمار (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن مدینہ آئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کوچ کرجائیں اور میں مسجد میں آکر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قریب بیٹھ گیا۔ اتنے میں میرے ساتھیوں میں سے ایک آدمی آیا اور دورانِ خطبہ مجھ سے بات کرنے لگا کہ ہم نے ایسے ایسے کیا۔ جب اس نے زیادہ بات کی تو میں نے اس سے کہا کہ خاموش ہوجاؤ۔ جب ہم نے نماز پوری کرلی تو میں نے اس بات کا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارا جمعہ نہیں ہوا اور تمہارا وہ ساتھی تو گدھا ہے۔
حدیث نمبر: 5410
٥٤١٠ - حدثنا هشيم قال أخبرنا داود بن أبي هند عن الشعبي أن أبا ذر أو الزبير ابن العوام سمع أحدهما من النبي ﷺ يقرؤها وهو على المنبر يوم (الجمعة) (١) (قال) (٢): فقال لصاحبه: متى أنزلت هذه الآية قال: فلما قضى صلاته قال له عمر بن الخطاب: لا جمعة لك فأتى النبي ﷺ فذكر ذلك له قال فقال: "صَدَقَ عُمَرُ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر یا حضرت زبیر بن عوام میں سے ایک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پر ایک آیت کی تلاوت کرتے سنا تو اپنے ساتھی سے سوال کیا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی ؟ جب انہوں نے جمعہ کی نماز ادا کرلی تو حضرت عمر بن خطاب نے ان سے فرمایا کہ تمہارا جمعہ نہیں ہوا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عمر سچ کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5411
٥٤١١ - حدثنا ابن نمير عن مجالد عن عامر عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الجُمْعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَالْحِمَارِ يَحْمِلُ أسْفَارًا، وَالِّذِي يَقُولُ لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَتْ لَهُ جُمُعَةٌ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن دورانِ خطبہ بات کی وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جو کہتا ہے کہ خاموش ہوجاؤ اس کا جمعہ نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 5412
٥٤١٢ - حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن عامر عن جابر قال: قال سعد لرجل يوم الجمعة: لا صلاة لك (قال: فذكر ذلك الرجل للنبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن سعدا قال: لا صلاة لك) (١)، فقال النبي ﷺ: "لِمَ يَا سَعدُ؟ " فقال: إنه تكلم وأنت تخطب فقال: "صَدَقَ سعد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سعد نے ایک آدمی سے کہا کہ تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اس آدمی نے اس بات کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا اور کہا کہ سعد نے مجھے کہا ہے کہ تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کہا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جب آپ خطبہ دے رہے تھے تو اس نے بات کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سعد ٹھیک کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5413
٥٤١٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن إبراهيم السكسكي قال: سمعت ابن أبي أوفى قال: ثلاث (١) من سلم منهن غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى: من أن يحدث (حَدَثًا) (٢) لا يعني أذى (٣) من بطنه، أو أن يتكلم أو أن يقول صه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفیٰ فرماتے ہیں کہ جو جمعہ کی نماز کے دوران تین کاموں سے محفوظ رہا اس کے اس جمعہ سے گذشتہ جمعے تک کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں : ایک حدث لاحق ہونے سے، دوسرا بات کرنے سے اور تیسرا کسی کو خاموش کرانے سے۔
حدیث نمبر: 5414
٥٤١٤ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا غندر عن شعبة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: إذا قال يوم الجمعة والإمام يخطب صه فقد لغا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے جمعہ کے دن دورانِ خطبہ کسی کو خاموش رہنے کا کہا تو اس نے لغو کام کیا۔